خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد جو کچھ پاکستانی صوبہ خیبر پختون خوا کے معروف شہر پشاور میں واقع آرمی اسکول میں ہوا، وہ سب کے سامنے ہی ہے اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے سانحے قومیں بھولنا بھی چاہیں، توصدیوں نہیں بھلاسکتیں، جس نے پوری قوم کو یک زبان کرتے ہوئے حکومت کو دہشت گردی کے خاتمہ پر مجبور کر دیا اور ادارے ملا فضل اللہ کی ذمہ داری قبول کر لینے کے باوجود بھی واقع کے اصل ذمہ داران کی کھوج میں رہے جس کے نتیجہ میں شواہد ملتے ہی ان کی روشنی میں اصل ذمہ دار کا چہرہ پوری طرح بے نقاب کرنے کے لیے آرمی چیف نے جب افغان حکومت سے ملا کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو ساتھ ہی بھارت نے بھی حافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ کرکے اپنے چہرے سے خود ہی نقاب اُتار لیا جس کے کچھ ہی یوم بعد آرمی چیف امریکہ روانہ ہو گئے اور واپس آکر خبر سنائی دی کی سانحۂ پشاور کے پیچھے بھارتی ہاتھ پائے گئے ہیں اور شواہد امریکہ کو بھی دے دیئے گئے ہیں مگر راقم آرمی چیف کے اس خبر سنانے سے کئی یوم قبل ہی (چور کی داڑھی میں تنکا کے نام سے کالم میں ) یہ انکشاف کر چکا تھا جس کے بعد دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع ہوگیا اور جب یہ آپریشن شروع ہوا تب بھارت میں ہونے والے ممبئی حملوں کو تقریباً دو سال کا عرصہ ہو چکا تھا، جس پر امریکہ و بھارت دونوں ممالک نے ہی بڑے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے بے بنیاد الزام پاکستان کے سر رکھ دیا تھا،جسے وہ ہماری طرح چند یوم بعد بھولنے کی بہ جائے اب بھی اچھی طرح یاد رکھے ہوئے ہیں۔اسی لیے تو اب جب پاکستانی ارکان پارلیمنٹ امریکی دورہ پر گئے، تو وہاں امریکی ارکان پارلیمنٹ سے آپریشن اور دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق بات چیت شروع ہوئی، تو امریکی ارکان پارلیمنٹ نے پاکستانیوں سے پہلا سوال ہی یہی کیا کہ ذکی الرحمان لکھوی پر ممبئی حملہ کا بھارتی الزام ہے مگرپاکستانی عدالتوں نے اِس پر فرد جرم عاید نہیں کیا؟ جس پر انتہائی دانش ور،غیرت مند،محبِ وطن اور صدیوں پرانی باتیں یاد رکھنے والے پاکستانی ارکان پارلیمنٹ نے اُن کے سوال کا جواب تو دے دیا کہ بھارت نے شواہد نہیں دیئے، مگر خود یہ سوال نہ کر سکے کہ سانحۂ پشاور میں بھارت ہمارا بھی تو مرکزی ملزم ہے جس سے متعلق ہماری حکومت آپ کو شواہد بھی دے چکی ہے، لہٰذا آپ نے بھارت کے خلاف کیا کیا اور اگر کچھ نہیں کیا، تو کیوں کچھ نہیں کیا؟ اور نہ ہی جب یہ ارکان واپس آکر میڈیا کوجب یہ بات بتانے لگے تب ہی کسی پاکستانی میڈیا پرسن نے اِن سے یہ سوال کرنے کہ ہمت کی کہ آپ نے یہ سب (متذکرہ بالا سوالات) اُن سے کیوں نہیں پوچھے ؟کیوں کہ ہم پختون ہیں، پنجابی ہیں، سندھی ہیں، بلوچی ہیں، شیعہ ہیں، سنی ہیں، بریلوی ہیں، دیو بندی ہیں، اہل حدیث ہیں، راجپوت ہیں، پاولی ہیں،جٹ ہیں، آرائیں ہیں، کمہار ہیں، نائی ہیں، موچی ہیں، سنار ہیں، لوہار ہیں، راٹھ ہیں، کمین ہیں وغیرہ وغیرہ بہت کچھ ہیں، اتنا کچھ ہیں کہ مکمل لکھنا یا بولنا ناممکن ہے۔ اگرہم نہیں ہیں، تو پاکستانی نہیں ہیں۔ نہیں ہیں تو انسان نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو ہم بھی پوچھتے،کیوں کہ انسان بڑے حساس ہوتے ہیں، انھیں اپنوں کی بڑی پہچان ہوتی ہے۔ وہ غیروں کے مظالم کبھی نہیں بھولتے۔ وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر ایک قوم پہلے اور باقی سب کچھ بعد میں ہوتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں کوئی کسی کا نہیں، ہم بٹے ہوئے ہیں، ہم میں سے جس کا جو بیٹا ہے، وہ اُسی ہی کا بیٹا ہے، کوئی دوسرا اِسے باپ یا ما ں کی نظر سے دیکھتا بھی نہیں، جس کی ماں ہے، اُسی کی ماں ہے کوئی اِسے ماں سمجھ کر سہارا دینا تو دور کی بات ماں کہہ کر بُلا تا بھی نہیں،جوجس کی بیٹی یا بہن ہے، اُسی کی بیٹی یا بہن ہے۔ باقی سب جس نظر و خیال سے دیکھتے ہیں، وہ بھی آپ کے سامنے ہی ہے! اسی طرح پشاور میں جن کے پھول شہید ہوئے انھیں کے ہوئے باقی سب بھول چکے، مگر اوباما کی سالگرہ ہم کبھی نہیں بھولے اور نہ ہی مودی کومبارک دینا بھولتے ہیں۔ کیوں کہ ہم کون سا پاکستانی یا پاکستانیوں کے نمایندے ہیں۔ ہم تو ہندو، سکھ عیسائی، براہمن اورکراڑوں کے نمایندے ہیں اور جس سے جو رشتہ اِن کا ہے، وہی ہمارا ہے، (مطلب آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے)۔لہٰذا ہم باقی سب کچھ پہلے پاکستانی بعد میں ہیں۔ پس اسی لیے ہم اُن کے سامنے اِن کی بات نہیں کرتے،پَس اِسی لیے ہم صرف جوابات دیتے ہیں سوالات نہیں کرتے۔اور جن کے سامنے ہم خود کو اُن کا نمایندہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ایک یتیم مسکین بھکاری کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور نہ ہی کوئی غیرت دلاتے ہیں،کیوں کہ غیرت تو غیرت مندوں کو دلائی جاتی ہے اور ہمارے متعلق تووہ اچھی طرح جانتے ہیں،اِسی لیے تو انھوں نے اُس شخص (جنرل ہُوڈ) کوپاکستان کا سفیر مقرر کر بھیجا ہے جس نے گوانتا جیل یو ایس اے میں( نعوذباللہ)قر آن پاک کو یہ کہہ کر کہ( اِس فتنے والی کتاب کو دُنیا سے ختم کردو)ٹوایلیٹ میں بہایا تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ اِن کے ہاں تو دو گھروں کا اتفاق نہیں، دو قبیلوں کا کیسے ہو سکتا ہے۔ دو بھائیوں کا اتفاق نہیں دو فِرقوں میں کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ میں کِسی ایک کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ میرے سمیت ہم سب ہی ایسے ہیں، جو کہ ایک تلخ حقیقت ہے اور اِس تلخ حقیقت سے نکلے بغیر کبھی ایک قوم نہیں بن سکتے ہیں۔ لہٰذا دُعا ہے کہ خدا ہمیں بھی موجودہ ذات پات کے تضاد سے نکال کر ایک قوم بنائے اورپنجابی پٹھان کی بہ جائے صرف مسلمان بنے وکہلانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
722 total views, no views today


