کبل، تحصیل کبل یونین کونسل کوز اباخیل میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کو شدید دھچکا،سویگلئی کے سرگرم سیاسی شخصیات عبد الوہاب،باچا ذادہ،ہارون باچا،وطن خان،عمر واحد،اورنگزیب،عجب خان،داود خان،اول سید،تلاوت خان،ابراہیم،نصیب روان،بہادر زیب ،پرویز خان،دوا خان اور دیگر نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کردیا اس حوالے سے گاؤں سویگلئی میں اے این پی کے زیر اہتمام عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں سابق ایم پی اے وقار خان،اے این پی یوسی کوز اباخیل ضلع کونسل امیدوار شاہ سید،تحصیل کونسل امیدوار خاندان،مزدور کسان امیدوار رحم زیب سمیت ممتاز احمد شاہ، سجاد،مسین،سید باچا،حضرت جمال ،فاروق ،شیر افسر خان،انتخاب سید،شاہ رحیم اللہ اور دیگر نے بھر پور شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق ایم پی اے وقار خان ،شاہ سید،خاندان اور دیگر مقررین نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے والوں نے خیبر پختونخواہ میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد عوام کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے دو سال تک لوگوں کو ترقی سے روکنے والوں نے بلدیاتی الیکشن کے آمد پر سرکاری وسائل کو بطور سیاسی رشوت استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور ایک مرتبہ پھر عوام کو دھوکہ دینے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ اے این پی پختون قوم کی واحد ترجمان پارٹی ہے جنہوں نے کشیدہ حالت کے دوران امن کے نام پر ووٹ لیا اور اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں قائدین و کارکنان کی قربانیاں دے کر نہ صرف پائیدار امن قائم کیا بلکہ قلیل مدت میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے جو پاکستان کے ساٹھ سالہ تاریخ پر بھاری ہیں لیکن بدقسمتی اور بے اتفاقی کی وجہ سے عام انتخابات میں نااہل لوگ اقتدار تک پہنچ گئے جنہوں نے دھرنوں،انتشار کی ساست کو فروغ دے کر ملک وقوم کا بیڑہ غرق کردیا ہے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی ناچ گانوں میں مصروف رہ کر لوگوں کے مسائل و مشکلات اور دکھ درد بھول چکے ہیں اسی وجہ سے لوگ حکومتی پارٹی کو خیر آباد کہہ کر اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں جس سے صاف واضح ہے کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے انہوں نے شمولیت اختیار کرنے والے ساتھیوں سمیت عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی کے جھانسہ میں آئے بغیر 30مئی کو لالٹین پر مہر ثبت کرکے خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار اے این پی کے نامزد امیدواروں سمیت پینل کے دیگر امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ اے این پی دور میں شروع کردہ ترقی کے سفر کو جاری رکھ کر جملہ عوامی محرومیوں کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے۔
618 total views, no views today


