سوات میں بلدیاتی انتخابات کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدوارو ں کی طرف سے زور آزمائی کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ سوات کی سات تحصیلوں کے دو سو چودہ ولیج کونسلز اور نایبر ہوڈز کے طول و عرض میں ساڑھے پانچ ہزار کے قریب نام زد اُمیدوار آزاد حیثیت سے جنرل، یوتھ، مزدور کسان، خواتین، اقلیت جب کہ تحصیل کے لیے مجموعی طورپر تین سو چونتیساور ڈسٹرکٹ کونسل کے لییتین سو ستائیس اُمیدوار میدان میں کود چکے ہیں۔ حکومت نے ولیج کونسلز کے بلدیاتی انتخابات کا غیر سیاسی بنیادوں پر اعلان تو ضرور کیا ہے اور صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح سوا ت میں بھی ولیج کونسلز کے انتخابات کے لیے بہ ظاہر غیر سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر اُمیدوار نام زد کیے جاچکے ہیں، تاہم درپردہ ان ولیج کونسلز کے اُمیدوارورں کو بھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے حمایت حاصل ہے۔ اس طرح ولیج کونسلز کے یہی انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہوئے بھی سیاسی بنیادوں پرمنعقد کیے جا رہے ہیں۔ جایزہ رپورٹ کے مطابق اس وقت ضلع سوات کی تمام سات تحصیلوں میں صوبے میں حکم ران جماعت پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں نے علاقائی صورت حال اور معروضی حالات کے پیش نظر سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے اور ایسا لگ رہاہے کہ سوات کی تمام سیاسی جماعتوں بہ شمول جماعت اسلامی اس بلدیاتی انتخابات میں صوبے میں برسر اقتدار پارٹی پی ٹی آئی کو ٹف ٹایم دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہیں اور اسی فارمولے کے تحت ان سیاسی جماعتوں نے سوات کی تمام تحصیلوں کے سڑسٹھیونین کونسلوں میں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جے آئی جو کہ صوبے میں حکم ران جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ کولیشن میں ہے، لیکن اس کے باوجو د جے آئی نے ضلع سوات میں تحریک انصاف کے ساتھ صرف پانچ یونین کونسلوں میں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے، حالاں کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل یہی سننے میں آ رہاتھا کہ بلدیاتی انتخابات میں دونوں کولیشن پارٹیاں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گی۔ مشاہدے کے مطابق پی ٹی آئی یا تو اقتدار کے نشے میں ہے اور ان کی ضلعی قیادت، ایم پی ایز اور منسٹرز اور دیگر کرتاؤں دھرتاؤں نے گھمنڈ میں یا جان بوجھ کر کسی دوسری سیاسی جماعت سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے اجتناب برتا ہے۔
ادھر سوات میں اگر ایک طر ف تمام بڑی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کو زیر کرنے کے لیے متحد ہیں، تو دوسری طر ف پی ٹی آئی کی قیادت اورکارکن اس صورت حال سے بے خبر ہیں یا دانستہ طور پر اس بات سے صرف نظر کر رہے ہیں کہ پارٹی اندرونی اختلافات کی شکا ر ہے۔ پی ٹی آئی میں اختلافات کی بڑی وجہ نظر یاتی کارکنوں کو نظر انداز کرکے ہر یونین کونسل اور تحصیل میں من پسند اور میرٹ پر نہ اترنے والے افراد کو پارٹی ٹکٹ سے نوازناہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن انتہائی تذبذب کے شکا رہیں۔ ان تمام تر صورت حال کی وجہ سے پی ٹی آئی کے اندرنظریاتی کارکنوں، ضلعی اور علاقائی قیادت میں اختلافات نہ صرف کھل کر سامنے آگئے ہیں بلکہ زیادہ تر علاقوں میں نظریاتی کارکن دل برداشتہ ہوکر دیگر سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ پی کے اسّی میں مقامی ایم پی اے نے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرکے اپنے قریبی رشتہ داروں (جن میں تحصیل کونسل کے حاجی خان طوطی،یونین کونسل نوے کلے شاہدرہ کے لیے اپنے سالے شاہد، یونین کونسل رنگ محلہ کے محمد اقبال سابق کونسلر اور یونین کونسل بنڑ طاہر آباد میں جاوید خان شامل ہیں) کو اقربا پروری کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ دی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حاجی خان طوطی، محمد اقبال اور جاوید خان کے خاندان نے حالیہ انتخابات سے چند روز قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس عمل سے، تو ایسا لگ رہا ہے کہ ان ’’نومولود‘‘ پی ٹی آئی کارکنوں کو پارٹی ٹکٹ کی لالچ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، جس کا ثبوت اب بلدیاتی انتخابات میں اُن کو پارٹی ٹکٹ کا ملنا ہے۔
یہی صورت حال تحصیل مٹہ میں صوبائی وزیر محمود خان اور مشیر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر امجد، ڈاکٹر حیدر علی خان، عزیز اللہ گران اور محب اللہ خان کی بھی ہے، جنھوں نے مبینہ طو رپر نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرکے ان کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ انھوں نے بھی اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوست احباب کو پارٹی کے نظریاتی کارکنوں پر فوقیت دے کر اُن کی حق تلفی کی ہے۔ یہاں اگر ایک طر ف پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر صوبے میں برسر اقتدار پارٹی جگہ جگہ گروپ بندی کی شکار ہے، تو دوسری طرف بلدیاتی انتخابات سے قبل پی پی پی، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتیں جو کہ اختلافات کی شکار تھیں، اب بلدیاتی انتخابات میں دیگر سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس کے اختلافات کو بھلا کر ایک ہی پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس طرح صوبے میں برسر اقتدار پی ٹی آئی کے ایم پی ایزاور مسلم لیگ (ن) جو کہ مرکز میں برسر اقتدار ہیں، انتخابات کے دوران میں الیکشن کمیشن کی پابند ی کے باوجو د ترقیاتی کاموں کی آڑ میں عوام سے ووٹ لینے کا وہی پرانا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو کہ اس سے قبل بھی دیگر سیاسی جماعتیں اختیار کرتی چلی آئی ہیں۔ کہیں پر گلی کوچوں، کہیں سڑکوں کی تعمیر ومرمت، تو کہیں پر بجلی کے پول اور بجلی کے ٹرانس فارمرز کی سیاست یونین کونسلوں اور تحصیلوں کی سطح پر دکھائی دے رہی ہے۔
اب تک موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق سوات میں تحصیل اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر جے یوآئی ف، مسلم لیگ ن، اے این پی، قومی وطن پارٹی، جے آئی، پی پی پی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے مختلف یونین کونسلوں اور تحصیلوں میں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔ ان تمام سیاسی جماعتوں میں تحصیل اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطح پر سب سے زیادہ اُمیدوار جے یوآئی ف، مسلم لیگ ن، اے این پی اورپی ٹی آئی نے نام زد کیے ہیں جب کہ ان مذکورہ سیاسی جماعتوں کے مابین زیادہ علاقوں میں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہوچکی ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سوات میں پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کی اسی طر ح شکار رہی، توموجودہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر شکست سے دوچار ہوسکتی ہے اور اگر2013ء کے عام انتخابات کی طرح نوجوان نسل نے ’’آؤ دیکھا نہ تاؤ‘‘ کے مصداق صرف عمران خان کی وجہ سے پی ٹی آئی کے نام زد اُمیدوارو ں کو ووٹ دیا، تو اور بات ہے۔ باقی پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت، ایم پی ایز اور منسٹرز نے تو پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر نظریاتی کارکنوں اور ضلعی قیادت کے مابین نفرت کا جو بیج بویا ہے، اس سے پی ٹی آئی کے نام زد اُمیدواروں کی جیت ایک خواب بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت، ایم پی ایز اور منسٹرز کے لیے اب بھی موقعہ ہے کہ وہ ان ناراض کارکنوں کو منالیں اور انتخابات سے قبل آپس کے اختلافات کو ختم کریں، اس سے ایک تو اُن کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج ختم ہوگی اور اس کا فایدہ اُن کو بلدیاتی انتخابات میں نتایج کی شکل میں ملے گا۔
ادھر سوت میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ضلع الیکشن کمیشن، ضلعی انتظامیہ اور ریٹرننگ آفیسرز کی طرف سے بھی تمام تر تیاریا ں مکمل ہیں۔ ضلع بھر کے دو سو چودہ جنرل، یوتھ، خواتین، مزدور کسان، تحصیل اور ڈسٹرکٹ سیٹس کے لیے مجموعی طورپر سات سو نو پولنگ اسٹیشن قایم کیے گئے ہیں جب کہ چھبیس ریٹرننگ آفیسرز تعینات کیے جاچکے ہیں۔ قایم کیے گئے پولنگ اسٹیشنوں میں دو سو اٹھائیس میل، دو سو پچیس فی میل، دو سو پچپنکمباینڈ پولنگ اسٹیشن اور سترہ سو اٹھانوے پولنگ بوتھ قایم کیے گئے ہیں، جن میں ایک ہزار آٹھ میل اور سات سو نوے فی میل بوتھ شامل ہیں۔ انتخابی عمل کے لیے مجموعی طور پر سات ہزار نو سو پولنگ عملہ تعینات کیا گیا ہے، جس میں سات سو نو پریزائیڈنگ آفیسرز، پانچ ہزار تین سو چورانوے اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور سترہ سو اٹھانوے پولنگ آفیسرز شامل ہیں۔ ادھر سوات میں سات سو نو پولنگ اسٹیشنوں کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سیکورٹی پلان ترتیب دیا ہے جن میں پانچ سو بیس کو نارمل، ایک سو پندرہ کو حساس اور چوہتر کو حساس ترین قرار دے دیا گیا ہے۔ ان میں سٹی سرکل تحصیل بابوزئی میں تہتر پولنگ اسٹیشن نارمل، بیس حساس، آٹھحساس ترین، سیدوشریف سرکل تحصیل بابوزئی میں چونسٹھ نارمل، بارہ حساس، گیارہحساس ترین، غالیگے سرکل تحصیل بریکوٹ میں پچپن نارمل، آٹھ حساس اور حساس ترین صفر، کبل سرکل تحصیل کبل میں نوے نارمل، تیئس حساس، بارہ حساس ترین، خوازہ خیلہ سرکل تحصیل خوازہ خیلہ میں ستاسی نارمل،چوبیس حساس، پندرہ حساس ترین، مٹہ سرکل تحصیل مٹہ میں ستانوے نارمل، اٹھارہ حساس، بیس حساس ترین ، مدین سرکل تحصیل مدین، بحرین، کالام وغیرہ میں چون نارمل، سولہ حساس اور آٹھ حساس ترین شامل ہیں۔ سوات میں کل ووٹر ز کی تعداد دس لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو بارہ ہے جن میں پانچ لاکھ اٹھاسی ہزار پانچ سو تیئس میل اور چار لاکھ انسٹھ ہزار نو سو نواسی خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
816 total views, no views today


