’’پارٹی، ووٹ، ٹکٹ، امیدوار، دست بردار، اتحاد، بائیکاٹ۔۔۔‘‘ آج کل اس قسم کے الفاظ زبان زد عام ہیں۔ بازاروں، دفاتر اور چوراہوں سے لے کر ریستورانوں تک سب جگہیں سیاسی آلودگی کی زد میں آچکی ہیں۔ساتھ ساتھ اپنے منھ میاں مٹھو بننے والے جلی حروف سے مزئین پینافلیکس، اسٹکر، پوسٹر اور سیاسی جھنڈے بھی در و دیوار اور بازاروں کے ماحول کو مزید آلودگی کا شکار بناتے جا رہے ہیں۔ بعض سیاسی حلقے ہمای اس ’’سیاسی آلودگی ‘‘ والے لفظ سے سخت چڑتے ہیں، ہمیں سیاسی محترم حضرات کی پگڑیاں اچھالنے کے طعنے تک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ’’سیاسی آلودگی‘‘ نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن ہے۔ بہ صد احترام، اے میرے پیارے ناقدین! میں مانتا ہوں کہ
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
صرف سیاست دان ہی نہیں اس کرۂ ارض پر تمام مخلوقات انتہائی قابل احترام ہیں۔ رہی بات جمہویت کی، تو بھئی کون سی جمہویت؟ ذراوضاحت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہوں گا، تو سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جمہوریت کیا ہے؟ سیاسی ماہرین جمہوریت کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں: ’’جمہوریت جسے انگریزی میں ’’ڈیموکریسی‘‘ کہا جاتا ہے یہ لاطینی لفظ ’’ڈیموکریٹا‘‘ سے نکلا ہے اور یہ دو الفاظ ’’ڈیموز‘‘ یعنی لوگ اور ’’کریٹس‘‘یعنی قانون یا حکم رانی کا مرکب ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ’’رول آف دی پیپل‘‘ یعنی کثرت رائے، ’’جس میں ریاست کا ہر شہری شامل ہو‘‘ اور اس کی مدد سے حکومت اور قانون بنانا یا توڑنا۔
قارئین کرام! اگر جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت سازی اور قانون سازی کے لیے تمام شہریوں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے، اور وہ اپنی رائے (ووٹ) سے حکم ران منتخب کرسکتے ہیں، تو پھر ووٹ مانگنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ بھئی! آپ کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان ہاتھ میں تھما دیا(اور نشان بھی اتنا مضحکہ خیز کہ کئی امیدواروں نے امید کا دامن ہی چھوڑ دیا اور میدان چھوڑنے میں ہی عافیت جانی)۔ اس طرح آپ نے اپنا انتخابی نشان، اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر ہوا میں لہراتے ہوئے فوٹو گراف، متعلقہ نشست کا نام اور اپنی تعریف میں شعر و شاعری سمیت گلی کوچوں، رکشوں سے لے کر ہتھ ریڑھیوں پر چسپاں کیا۔ اس کے بعد اب عام لوگوں کی باری ہے۔ فیصلہ انھوں نے خود کرنا ہے کہ کون سے نشان پر ٹھپہ لگایا جائے؟ تو پھر یہ رات گئے، دن بھر کے تھکے ہارے شہریوں کے دروازے کھٹکھٹاکر ووٹ کی بھیک مانگنااور عوام کی نیندیں حرام کرنا کہ کیا یہ جمہوری عمل ہے؟ ان سے ووٹ کے لیے حلف لینا کیا جمہوری عمل ہے؟ ہوٹلوں، ریستورانوں اور عوامی مقامات پر آپس میں گتھم گتھا ہونا اور نازیبا الفاظ کی برسات کرنا کیا جمہوری عمل ہے؟ سب کے سب ’’مخلص‘‘، ’’بے داغ ماضی‘‘، ’’خدمت کے جذبے سے سرشار‘‘ جیسے گھسے پھٹے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ا س کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’آپ کے ووٹ کا صحیح حق دار‘‘، ’’دودھ سے دہلا‘‘ وعلی ہذاالقیاس۔ خیر الیکشن سے پہلے ایسی باتیں ان سیاست دانوں کے منھ سے سننا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اس پر چنداں حیرانی کی ضرورت نہیں، مگر میں اپنے قارئین سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، کیا اپنے منھ میاں مٹھو والوں کی ان باتوں پر کبھی کسی نے یقین کیا ہے؟
ایک ایسے جمہوری نظام جس میں جھوٹ، فریب، دھوکا، دولت کی بندر بانٹ، اقربا پروری، ذہنی اذیت، گالی گلوچ اور سرکاری و عوامی مقامات کو سیاست کی نذر کرنے کی کھلی چھوٹ ہو، تو پھر وہاں جمہوریت کا راگ الاپنا کچھ بے تکی سی بات ہے۔ ایک طرف تو ان بے چارے عوام کو ووٹ بھی ’’شادی کا لڈو‘‘ ہی دکھتا ہے، جو کھائے تو بھی پچھتائے اور نہ کھائے تو بھی تو پچھتائے۔
دوسری طرف امیدواروں کی طرف سے ان کوذہنی اذیت کا شکار بنایا جاتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو، اگر الیکشن کمیشن انتخابی مہم کے لیے بھی کچھ قانون سازی کرے اور ایسے عوامل پر پابندی لگائے جن سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
قارئین کرام! ہم ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں، خواہ جیسے بھی ہوں۔ اچھی سی اچھی آمریت سے بری سے بری جمہوریت بہتر ہوتی ہے۔ اور وطن عزیز کو بہتر سے بہتر جمہوری ملک بنانے کے لیے ہم نے خود اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم ان گھسے پٹے جملوں اور کھوکھلے نعروں پر یقین کی بہ جائے ایسے لوگوں کو منتخب کریں جن کو ہمارا دل و دماغ تسلیم کرتا ہو، جن کو عوام اپنا حقیقی نمایندہ مانتے ہوں۔ یہ بے داغ ماضی، خدمت کے جذبے سے سرشار اور اس قبیل کے دیگر خوش کن الفاظ سے مرعوب ہونا چھوڑ دیں ۔
880 total views, no views today


