بلدیاتی انتخابات کا موسمِ گرما اپنے عروج پر ہے اور مئی کا مہینہ مستقبل کے نمایندوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ انتخابی نشانات بھی مل چکے ہیں۔ کوئی اپنے نشانات پر اداس اور ملول ہے اور کسی کی باچھیں کھلی جارہی ہیں۔ خاص کر وہ امیدوار جنھیں ڈھول کا انتخابی نشان ملا ہوا ہے۔ باوثوق ذرایع کے مطابق شرمندہ سی مسکراہٹ لیے ’’ڈور ٹو ڈور‘‘ انتخابی دوروں پر نکلتے ہیں۔ کیوں کہ ’’ملک دَ پختو دے‘‘ کی وجہ سے ڈھول کو نائیوں اور میراثیوں کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور ہمارے صوبے میں رہنے والے ہی اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اب وہ بے چارے کھسیانے انداز میں اپنی انتخابی سرگرمی میں مصروف ہیں۔
اگر پنجاب کا کوئی علاقہ ہوتا، تو پنجابی بھائی لنگوٹ کس کر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے میدانِ عمل میں کود پڑتے اور وہ مٹی اُڑاتے کہ دیکھنے والے عش عش کر اُٹھتے۔ بھئی زندہ دلان پنجاب جو ہوئے۔
ایک دوسرا امیدوار جو اپنے گاؤں کا ایک مردِ پختون اور مَلک ہے۔ اُسے نٹ کا نشان ملا ہے جسے مقامی زبان میں ڈبرئ کہتے ہیں اور یہ ہارڈوئیر والوں کی دکان میں کثیر تعداد میں دست یاب ہوتے ہیں۔ دوستو، اب اس بے چارے کے بارے میں کیا بتاؤں! میں نے خود سوشل میڈیا پے اُن سے منسوب کچھ مواد پڑھا، تو پہلے ہنسی اور پھر شرم سے آدھ موا ہوگیا۔ خدا گواہ ہے کہ راقم نے خود ’’فیس بک‘‘ پر اسے ملاحظہ فرمایا۔
اب ذرا تصور کیجیے اُس کی انتخابی مہم۔ ’’عزیز بھائیو! میں ایک غریب اور آپ کی زمین کا ادنیٰ خادم، آپ سے ووٹ مانگنے آیا ہوں۔ بس الیکشن والے دن ’’ڈبرء‘‘ پر آپ سب نے مہر ثبت کرنی ہے۔‘‘
ایک دوسرے بھائی کو قینچی کا نشان ملا ہے۔ ہوسکتا ہے موصوف کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہو۔ اس بات کی بھی قوی اُمید ہے کہ مستقبل میں عوامی فنڈ پر قینچی نہیں چلائیں گے۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ ٹیلر حضرات اُس کی حمائیت پر کمربستہ نظر آرہے ہیں۔
مگر راقم کو ہم دردی ہے اُس اُمیدوار سے جسے لوٹے کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اُس بے چارے کے گلے لگ کر دوچار آنسوں بہاؤں۔
سنا گیا ہے کہ اپنے نشان کو دیکھ کر موصوف سکتے میں آگئے ہیں۔ قارئین کو تو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ لوٹا سیاست میں کس ’’خوبی‘‘ کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ بس یار۔۔۔ کیا بتائیں، خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ کیوں بے چارے امیدوار کے زخم پر نمک پاشی کروں؟ اُس بے چارے کو تو پہلے ہی غش پے غش آرہے ہیں۔ کیوں کہ لوٹا اس وجہ سے بھی بدنام ہے کہ اس میں کچھ گول پیندے والے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی جانب ’’لڑھک‘‘ سکتے ہیں۔
دوسرے بھائی صاحب کی بھی سنیے جسے ڈھول کی برادری کا نشان دیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں ڈھول کے سوتیلے بھائی یعنی طبلے کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ مقامی زبان میں اُسے ’’دُپڑء‘‘ کہتے ہیں۔
اب ذرا تصور کریں کہ مذکورہ امیدوار صاحب در بہ در یعنی Door to door وزٹ میں یہاں کی مادری زبان میں عوام سے اپنے نشان کا ذکر کرتے ہوئے کیا کہہ رہے ہوں گے؟
قارئین کرام! بھانت بھانت کی آوازیں آج کل آپ کو سننے کو مل رہی ہوں گی۔ اسے آپ ’’ماہ خوش اخلاقی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کا ہر جگہ بہت خندہ پیشانی سے اور خوش اخلاقی سے سواگت کیا جارہا ہوگا۔ اور پوچھا جارہا ہوگا: ’’ہاں بھئی، دادا جان کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ (حالاں کہ دادا جان بے چارے کا پچھلے سال چالیسواں پڑھایا جاچکا ہوتا ہے)۔
’’اور کوئی خدمت؟؟ کوئی مسئلہ مسایل تو نہیں۔ بندہ آدھی رات کو بھی حاضر ہے۔ آپ کے لیے کسی کی گردن دبوچنے کے لیے بھی تیار ہے، مگر آپ کا مسئلہ حل کرکے چھوڑوں گا بس فلاں دن آپ نے ۔۔۔پر مہر لگانی ہے اور بس۔‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*
696 total views, no views today


