سوات، صوبہ خیبر پختون خواہ میں تیس مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سوات سے تعلق رکھنے والے18مبینہ دہشت گرد بھی حصہ لے رہے ہیں جن کا تعلق تحریک طالبان اور تحریک نفاذ شریعت محمدی سے بتایا جا رہا ہے۔کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ نے الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی نا اہلی کی درخواست بھی کر رکھی ہیں۔سوات سمیت صوبے بھرمیں تیس مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے اجتماعی طور پر97ہزار سے زائد اْمیدوار میدان میں اترے ہیں جن میں6200صرف سوات سے مختلف نشستوں کے لئے نامزد ہوئے ہیں۔
سوات سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے مبینہ شدت پسندوں کا تعلق مختلف علاقوں سے ہیں جن میں یونین کونسل چارباغ سے پانچ اْمیدوار، خوازہ خیلہ سے بھی پانچ،غالیگے اور مالم جبہ سے دو دو امیدوار،سیدو شریف،مینگورہ،مدین اور رحیم آباد سے ایک ایک امیدوار شامل ہیں۔ڈپٹی جنرل آف پولیس کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختون خواہ نے ان 18نامزد اْمیدواروں کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس پر ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس نے ان امیدواروں کی فہرست جسے شیڈول4کا نام دیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ،ڈی پی اوسوات،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز، ڈپٹی الیکشن کمشنر سوات اور تمام ڈی ایس پیز کو اس کی کاپیاں ارسال کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے یہ18افراد مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث ہیں جبکہ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے ڈی آئی جی نے الیکشن کمیشن کو ان تمام امیدواروں کی نا اہلی اور انکوائری کی سفارش بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے فہرست سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔سوات میں 18امیدواروں کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی خبر کے بعد دیگر اْمیدوار بھی تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ، ڈسٹرکٹ کونسل کے لئے امیدوار ناصرخان نے سوات سٹوری کو بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ کو چاہئے کہ اس حوالے سے انکوائری کریں ’’ اگر فہرست میں شامل امیدوار وں پر یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر وہ ملوث نہیں پائے گئے تو عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکیں‘‘سوات سے تعلق رکھنے والے یہ18امیدوار مختلف نشستوں کے لئے میدان میں اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور انتطامیہ اس ساری صورت حال کا نتیجہ کیا نکالتی ہیں۔
306 total views, no views today


