دیر آید درست آید کے مصداق خیبر پختون خوا میں تیس مئی کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نظر توآیا، مگر یہ انتخابی عمل عوامی اورسیاسی منظرپر کچھ اچھاتاثر قایم کرنے سے قاصر رہا۔ یوں وہ ساری امیدیں دم توڑ گئیں جو تبدیلی اور شفاف انتخابات کی علم بردار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ہوتے ہوئے ان بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وابستہ تھیں۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے نتایج کی روشنی میں وفاق اورپنجاب میں نوازلیگ کی حکومت قایم ہونے سے لے کراب تک تحریک انصاف انتخابی دھاندلی کاراگ الاپتی رہی ہے اور اسی نکتے کوبنیاد بناکرپچھلے سال شہراقتداراسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک سو چھبیس دن تک ملک کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا بھی دے بیٹھی ہے۔ سو پارٹی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی دھاندلی کا واویلا کرنے اور منظم دھاندلی کا الزام لگا کر وزیراعظم نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف تسلسل کے ساتھ ہرزہ سرائی کرنے کے پیش نظرسب کی نظریں لگی ہوئی تھیں اور توقع یہی کی جا رہی تھی کہ خیبر پختون خوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات نہ صرف پُرامن اورپُرسکون ماحول میں منعقد ہوں گے بلکہ مکمل طور پر شفاف بھی ہوں گے۔ مگر شومئی قسمت کہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ میڈیا رپورٹس کے ذریعے ان انتخابات کے دوران بدنظمی، بدانتظامی، بدامنی، بے قاعدگی وبے ضابطگی اور سیاسی اور حکومتی زور آزمائی پر مبنی جو کچھ دکھایا گیا، ملک کے انتخابی تاریخ میں اس سے قبل اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اکثرمقامات میں پولنگ اسٹیشنوں پر مسلح سیاسی ورکرز کے راج کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ بیلٹ باکس پر قبضہ کرنے، خواتین پولنگ اسٹیشنوں میں مردوں کے گھسنے، انتخابی عملہ پر دباؤڈالنے اور اسے زدوکوب کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے اوران واقعات میں نہ صرف عام سیاسی ورکرز کاملوث ہونارپورٹ ہوتا رہا بلکہ ایساکرنے کے الزامات صوبائی وزیرمال امین اللہ گنڈاپورپربھی لگائے گئے۔ ان الزامات کی پاداش میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوا۔ انھیں باقاعدہ گرفتاربھی کیاگیا او ربعدمیں ضمانت پر رہائی بھی ملی۔ جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی تحریک انصاف مخالف جماعتیں ہی نہیں صوبائی حکومت میں شامل جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد بھی انتخابی دھاندلی کاالزام لگا تی سنائی دیں جس پر عمران خان نے افسوس کااظہارکیا، تو جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر ابراہیم نے مشورہ دیاکہ وہ ناراضگی کی بہ جائے اِزالہ کریں بلکہ دل چسپ طور پر دیر بالا میں خود پی ٹی آئی کی جانب سے دھاندلی کی آوازیں سنائی دیں۔ اگرچہ خیبرپختون خواکی صوبائی حکومت انتخابی دھاندلی اور دوران انتخابات بے قاعدگی اور بے ضابطگی تسلیم کرنے نہ ہی سیکورٹی کی ذمہ داری مان لینے کو تیار ہے اورچیئرمین عمران خان بھی صوبائی حکومت اور پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے اگرچہ سیکورٹی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالتے دکھائی دیتے ہیں مگرساتھ ہی انھوں نے فوج کی نگرانی میں دوبارہ الیکشن کرانے کے لیے راضی ہونے کا بھی کہہ دیاہے۔
دوسری جانب دوبارہ الیکشن کرانے سے متعلق عمران خان کے بیان کو عوامی اور سیاسی حلقے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ہونے والی بدنظمی اور بدانتظامی کااعتراف قرار دے رہے ہیں۔ پہلے تو سیاسی مخالف جماعتیں دھاندلی کاالزام لگارہی تھیں مگر عمران خان کی جانب سے دوبارہ الیکشن کرانے کے بیان کے بعد اب سیاسی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے خیبرپختون خوا حکومت سے مستعفی ہونے کامطالبہ کردیاہے جب کہ نوازلیگ کاکہنایہ ہے کہ دوبارہ الیکشن کرانے سے قبل عمران خان ذمہ داروں کا تعین اور انھیں پارٹی سے نکال باہر کریں۔
انتخابات کے دن جو کچھ ہوتا دکھائی دیا، وہ اپنی جگہ اور اس میں اگرچہ زیادہ ذمہ داری تحریک انصاف پر ہی عاید ہوتی ہے اور صوبے کی حکم ران جماعت کی حیثیت میں وہ انتخابی بدانتظامی اور امن وامان کی ناقص صورت حال کے حوالے خودکوکسی صورت بری الذمہ قراربھی نہیں دے سکتی، مگر دیگر جماعتیں بدانتظامی میں ملوث نہیں، یہ کہنابھی مناسب نہیں ہوگا اور صرف پی ٹی آئی کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے یہ مبنی برانصاف بات نہیں ہوگی۔ کیوں کہ دودھ کا دھلا ہوا کوئی بھی نہیں اور جس کا جہاں بس چلا اپنا کام کر گیا۔
ادھرحالیہ بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے جوضابطۂ اخلاق مرتب کیاتھا، اس کی کھلم کھلاخلاف ورزی دیکھنے کو ملی۔ ضابطۂ اخلاق کے ’’آرٹیکل فور‘‘ کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں، انتخابی امیدواران اور ان کے حمایتی ایسی تمام سرگرمیوں سے پوری دیانت داری کے ساتھ اجتناب کریں گے جو انتخابی قوانین کے تحت جرایم کے زمرے میں آتی ہوں، جیسے ووٹروں کورشوت دینا، پولنگ اسٹیشن کے دوسو میٹر کے اندر ووٹ دینے کے لیے کسی کو قایل کرنا یا ووٹ دینے سے روکنا وغیرہ۔ انتخابی مہم کے دوران میں دیواروں پر اشتہارات لگانے اور وال چاکنگ کی تمام صورتوں میں ممانعت ہوگی، مگر یہ سب کچھ تو سرعام ہوتا رہا۔ دوسری جانب پبی نوشہرہ میں انتخابات کے روز سیاسی کارکن کی ہلاکت کے معاملے میں بزرگ سیاست دان اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کے ساتھ جو بدترین سلوک روارکھاگیا، اسے عوامی اور سیاسی سطح پر اچھی نظرسے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی گرفتاری میں غیر معمولی پھرتی کا مظاہرہ جب کہ کارِ سرکار میں مداخلت اور دیگردفعات میں درج مقدمے کے ملزم صوبائی وزیرکی گرفتاری اگلے روز عمل میں لانے سے تحریک انصاف کے’’ انصاف‘‘ پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اگرچہ سڑکوں اور چوراہوں پر منتخب حکومت سے استعفا طلب کیا جاسکتا ہے نہ ہی حکومت ایسے مطالبات کے پیش نظر مستعفی ہو جایا کرتی ہے۔ ایساہوتا، تونوازشریف کی حکومت کب کی جاچکی ہوتی۔ اگرچہ خیبرپختون خوا کی حکومت تو قایم رہے گی، مگرپی ٹی آئی کے چیئرمین کویہ الزامات اور سوالیہ نشان ختم کرنا ہوں گے جوحالیہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان کی صوبائی حکومت پر لگے ہیں لیکن اگر وہ قاصر رہتے ہیں ایساکرنے سے، توپھریہ محرکات اگلے الیکشن میں ان کی جیت کاسبب بنتے ہیں یاشکست کا اس کافیصلہ آنے والاوقت کرے گا۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی منزل خیبر پختون خوا میں حکومت کی باگ ڈورسنبھالناتھی، نہ ہے بلکہ ان کے سیاسی سفرکی منزل شہراقتداراسلام آبادکی حکم رانی کی ہے لیکن پی ٹی آئی کے چیئرمین کو اس بات کا ادراک ہوناضروری ہے کہ اسلام آباد میں ایوان اقتدار تک ان کی رسائی کا دار و مدار ان کی خیبر پختون خوا میں قایم صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ہوگا۔ اقدامات اٹھانے میں پھرتی دکھائیں، ایسانہ ہوکہیں دیر ہوجائے۔
665 total views, no views today


