آپ نے ٹی وی اسکرین پر شمالی کوریا کے ’’عظیم لیڈر‘‘ کو دیکھا ہوگا۔ اس کا چہرہ کتنا معصوم لگ رہا ہے۔ بالکل دو سال کے بچے کی طرح۔ اس کی ظاہری شکل و صورت سے کوئی بہ مشکل یقین کرے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ اس بچکانہ چہرے کے پردے میں دنیا کا سفاک ترین شخص ہے۔ اپنے والد اور دادا سے بھی زیادہ ظالم اور سخت گیر۔ اس کے ظلم و بربریت کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اس کے حکم پر وزیر دفاع کو اس ’’جرم‘‘ میں سزائے موت دی گئی کہ وہ عظیم رہنما کے خطاب کے دوران میں اونگھتے ہوئے دیکھا گیا اور ایک آدھ بار اس نے آمر کی کسی بات سے مختلف رائے ظاہر کی تھی۔ اس بے چارے وزیر دفاع کو کس طرح موت کے گھاٹ اُتارا گیا، وہ بھی نہایت ظالمانہ اور سفاک طریقے سے کہ اُس کو اینٹی ائیر کرافٹ گن سے اُڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں اس کا جسم کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
دراصل جو آمر ہوتے ہیں، وہ خود کو بہت نڈر اور بہادر ظاہر کرتے ہیں مگر اندر سے وہ بہت ڈرپوک ہوتے ہیں۔ وہ بہت خوف زدہ زندگی گزارتے ہیں۔ اپنے گرد کئی حفاظتی حصار کھڑی کرنے کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں۔ جمہوریت میں اور کچھ خوبی ہو نہ ہو مگر انسان وزیراعظم کے اسمبلی سے خطاب کے دوران میں سو سکتا ہے۔ ہمارے محترم وزیر دفاع تو اکثر اجلاس کے دوران میں آدھ سوئے آدھ جاگے رہتے ہیں اور کسی نے انھیں توپ دم کرنے کی بات نہیں کی۔ ایسے غیر انسانی فیصلے صرف انسانیت کے وصف سے خالی ڈکٹیٹر ہی کرسکتے ہیں۔ خود ہماری تاریخ میں دیکھیں، تو بھٹو مرحوم کی سزائے موت اسی خوف کا نتیجہ تھا جو ضیاء الحق، بھٹو کی زندگی میں اپنے لیے محسوس کرتا تھا۔
کل پرسوں کی بات ہے کہ مصر کے خود ساختہ صدر عبدالفتح السیسی کی عدلیہ نے مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کو دیگر سو ساتھیوں سمیت سزائے موت سنا دی۔ یہ فیصلہ عدالت کا اپنا نہیں تھا۔ یہ پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ تھا۔ یہ مصنوعی مقدمہ بازی، وکیلوں کی بحث مباحثہ، یہ جج صاحبان کی نقلی سنجیدگی، سب ٹوپی ڈرامہ تھا۔ یہ مقدمہ چاہے ہزار سال چلتا یا ایک دن، فیصلہ وہی آنا تھا جو طے شدہ تھا اور اسرائیل کے ایجنٹ السیسی کے احکامات کے مطابق لکھا گیا تھا۔
یہ سارے واقعات اور مسلم دنیا میں مسلسل بے چینی اور بدامنی عالم اسلام کے خلاف امریکہ اورمغربی ممالک کی مشترکہ سازش ہے کہ اسلامی ممالک کو اگر امن نصیب ہوا، تو یہ اپنے قدرتی وسایل سے ایک عالمی اقتصادی طاقت بن جائیں گے۔ امریکہ کی اسلحہ کی صنعت صرف اس وجہ سے اپنا کاروبار قایم رکھ سکتی ہے کہ مسلمان ملکوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شورش اور بد امنی کی آگ کو بھڑکائے رکھے۔ اس طرح نہ صرف مسلمان ممالک دھڑا دھڑ اسلحہ خریدنے پر مجبور ہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کوبھی امریکی اسلحہ فراوانی سے ملتا رہتا ہے۔ یہ القاعدہ، بوکو حرام اور داعش وغیرہ سب امریکی مفادات کی پیداوار ہیں، جو اسلام کے نام پرمسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔
آپ روزانہ خبروں میں سن رہے ہوں گے کہ داعش نے اتنے لوگوں کے سر قلم کردیئے۔ اتنے بچوں اور خواتین کو گولیوں سے اُڑادیا۔ آخر ان تنظیموں کے پاس اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟ اس کے لیے زیادہ عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں۔
مسلمان ممالک چاہے افریقہ میں ہوں یا ایشیاء میں، بد امنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ پھر بعض اسلامی ممالک نے فرقہ واریت کو اپنی پالیسی کی بنیاد بنا دیا ہے اور اپنے سے مختلف مسلک کے ممالک میں دہشت گردی اور مذہبی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ’’چوں کفراز کعبہ بر خیز دکجا ماند مسلمانی‘‘ کے مصداق جب ہم خود ایک دوسرے کا گلہ کاٹ رہے ہیں، تو غیروں کی کیا شکایت کریں گے؟
*۔۔۔*۔۔۔*
584 total views, no views today


