تحریر ماسٹر عمر واحد
خالق دو جہاں نے اس دنیا میں انسان کو نہایت حسین، مقدس اور اَن مول رشتوں سے نوازا۔ ان رشتوں میں والدین کا رشتہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ والدین کے تقدس، احترام اور عزت کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورۃ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے کہ ’’والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو انھیں اُف تک نہ کہو اور نہ انھیں جھڑک دو بلکہ ان کے ساتھ ادب سے بات کیا کرو۔‘‘ والدین میں ماں کا مقام بلند تر ہے۔ سورۂ لقمان میں بھی والدین خصوصاً ماں کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ آں حضرتؐ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہیں۔‘‘ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ باپ کی کوئی اہمیت نہیں۔
ہر سال ماہ جون کی دوسری اتوار کو دنیا میں باپوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کی روداد یہ ہے کہ امریکہ میں 1910ء سے پہلے ایک الم ناک حادثہ پیش آیا جس میں تین سو ساٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اُنھیں کی یاد میں کولڈن نامی ایک امریکن نے یہ دن منایا، بعد ازاں اسے فادرز ڈے کا نام دیا گیا۔ ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ امریکہ کی ایک یسیر (Motherless) لڑکی نے اپنے باپ کی شفقت اور تربیت سے متاثر ہوکر فادرز ڈے منایا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ 1910ء میں واشنگٹن میں پہلی دفعہ فادرز ڈے منانے کا اہتمام کیا گیا، اس کی ابتداء ایک امریکی خاتون مس سورا داد نے کی جو بچپن میں والدین کے سایۂ شفقت سے محروم ہوگئی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے خوابوں اور خیالوں میں اپنے والدین سے ہم کلام ہوتی۔ چناں چہ اس یتیم اور یسیر لڑکی نے جون کی دوسری اتوار کو فادرز ڈے کے طور پر منایا، اس لیے اب ہر سال جون کی دوسری اتوار کو ساری دنیا میں فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔
مقدس رشتوں میں اگرچہ ماں کا اول درجہ ہے۔ یہ سماجی، مذہبی اور عائیلی اعتبار سے بلند بھی ہے لیکن مقدس رشتوں میں باپ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا جسے اہل خانہ میں ایک سربراہ، نگران اور کفیل کی حیثیت حاصل ہے۔ اولاد خصوصاً بیٹوں کی تعلیم و تربیت میں باپ کا کردارمسلم ہے۔ باپ صرف خاندان کے تحفظ اور کفالت کا ذمہ دار نہیں بلکہ اپنی وراثت بھی آیندہ نسل کو تفویض کرتا ہے۔ بہ حیثیت باپ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایثار تھا اور بہ حیثیت فرزند یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اتباع تھا جس سے متاثر ہوکر شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے:
یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آدابِ فرزندی
صحابئی رسولؐ حضرت ابودرداؓ سے روایت ہے کہ حضور رسالت مآبؐ نے فرمایا کہ والد جنت کا وسطی دروازہ ہے، اگر تو چاہے، تو اس وسطی دروازے کی حفاظت کر یا اسے بند کردے۔‘‘ (ترمذی 12/2) ہمارے خیال میں باپ کو بیٹی کی خصوصی تربیت کرنی چاہیے یعنی اسے اعلیٰ دینی اور عصری علوم سے آراستہ کرنا چاہیے، تاکہ سسرال میں جاکر وہ اطمینان سے زندگی گزارے اور بچوں کی صحیح تربیت کرسکے۔ آں حضرتؐ خو دیتیمی کا داغ لے کر دنیا میں تشریف لائے، چناں چہ سردار دو جہاںؐ کی بچوں کی پرورش، ان سے محبت اور شفقت کا سلوک اور عام بچوں سے لطف و کرم اور محبت کا رویہ مثالی تھا۔ آپؐ نے بہ حیثیت باپ و مربی حضرت فاطمہؓ کی مثالی تربیت کی۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہؓ تمام عورتوں میں نہایت زیرک و دانا تھیں۔ خاتون جنت کا طرزِ کلام، حسن اخلاق و حسن انداز، وقار اور متانت تا قیامت عورتوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت حسنینؓ بھی سرورِکاینات کے زیر سایہ پلے بڑھے اور اخلاق فاضلہ کے اونچے درجے پر فایز رہے۔
باپ کی قدر کسی یتیم سے پوچھیں۔ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ ہمارے خود غرض اور مفاد پرست معاشرے میں یتیم اور یسیر عموماً دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوتے ہیں۔ یہاں ان کے نزدیک ترین عزیز و اقارب بھی ان کا حال تک نہیں پوچھتے بلکہ بسا اوقات ان کے والدین کا چھوڑا ہوا ترکہ تک ہڑپ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف بعض بیٹے جن کی کامیابی باپ کی تعلیم و تربیت کی مرہون منت ہوتی ہے، بڑھاپے میں والدین کو پاگل خانوں اور دارالکفالوں میں چھوڑ کر غایب ہوجاتے ہیں۔
886 total views, no views today


