مجھے اس کا نام یاد نہیں آرہا۔ وہ اسکول میں چوکی دار ہے۔ اس کی عمر پچاس سال کے قریب ہو گی۔ وہ تپتے دھوپ میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ پولیس اس کو ہدایات دے رہی تھی کہ پستول اس طرح پکڑنا ہے۔ اس طرح لوڈ کرنا ہے اور یوں فایرنگ کرنی ہے۔ وہ چپ چاپ ہدایات سن رہا تھا اور اس پر کافی حد تک عمل بھی کر رہا تھا۔ میں اس کے پا س گیا اور مادری زبان ’’پختو‘‘ میں اس کو کہا: ’’ماماجی سہ پوھہ شوے؟‘‘ یعنی بزگوار، کتنی حد تک سمجھ پائے؟ اس نے جواباً کچھ نہ کہا اور بس پوری توجہ سے پستول کے گر سکھانے والے استاد کو سنتا رہا۔ ٹریننگ سیشن ختم ہوا، تو میں نے پھر ادب سے اس بزرگ سے پوچھا کہ ’’بزرگوار، کچھ سیکھا بھی یا نہیں؟ اس کا جواب بڑا عجیب تھا ۔ اس نے کہا کہ بیٹا، اس عمر میں کیا نیا سیکھیں گے؟ سیکھنے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کے چہرے پر عجیب سی الجھن کھائی دے رہے تھی جیسے وہ سوچ رہا ہو کہ اگر خدا نخواستہ دہشت گرد اسکول میں داخل ہوگئے، تو اپنے کم زور ہاتھوں سے کیسے ان پر گولی چلاؤں گا اور اگر گولی چل بھی گئی، تو وہ ٹھیک جگہ لگے گی یا نشانہ چھوٹ جائے گا۔ شاید وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر پستول لوڈڈ ہو اوراس سے سہواً فایر ہوجائے اور سامنے کوئی بچہ کھیل کود میں مصروف ہو اور اس کو گولی لگ جائے، تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ ٹریننگ کا سیشن ختم ہوا۔ سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے چوکی داروں اور اساتذہ کو سیکورٹی کے لیے اسلحہ لازمی رکھنے کی ہدایات جاری ہوئیں، اسکولوں میں پڑھائی کا عمل دوبارہ شروع ہوا، لیکن کسی سرکاری آفیسر، لا انفورسمنٹ ایجنسی، پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اور کسی اور تھنک ٹینک نے یہ نہیں سوچا کہ جس کے ہاتھ میں ہم اسلحہ دے رہے ہیں، کیا وہ اس قابل ہے کہ اس سے غلطی سرزد نہ ہوگی؟ کسی نے نہیں سوچا بس ایک جذباتی فیصلہ تھا جو کیا گیا اور اس کی سزا اب ہمیں مختلف شکلوں میں مل رہی ہے۔ حالیہ سب سے بڑی سزا ایک نجی اسکول میں استاد سے اتفاقیہ گولی چلنے سے پانچویں جماعت کے طالب علم کا اپنی قیمتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔ ایک کلی جس نے ابھی کھلنا تھا، مرجھا گئی۔
قارئین کرام! مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ صبح اسکول جانے کے لیے معاذ خوشی خوشی تیار ہوا ہوگا۔ اپنے والدین کی دعاؤں سے اسکول روانہ ہوا ہوگا۔ اس کا کیا معلوم ہوگا کہ آج ایک روحانی باپ کے ہاتھوں پستول سے اتفاقیہ گولی چلے گی اور اس میں اس کی جان جائے گی۔ معاذ کے بھی کچھ سپنے ہوتے ہوں گے۔ اس نے بھی مستقبل کے بارے میں سوچا ہوگا، مگر افسوس اس کے سپنے سچ نہیں ہوئے۔
قارئین کرام! جب سے میں نے یہ افسوس ناک خبر سنی ہے، ایک عجیب سی پریشانی میں مبتلا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ معاذ کا خون کس کے ہاتھ ہے؟ استاد کہ جس کے ہاتھ میں کبھی قلم ہوتا تھا، اب پستول ہوتی ہے۔ وہ استاد جو قلم کے ذریعے معاذ کو بہتر اور پرامن شہری بنانا چاہتا تھا لیکن حالات نے قلم کے ساتھ ساتھ استاد کو پستول ہاتھ میں تھامنے پر مجبور کر دیا۔ کیا یہ خون ان سرکاری لوگوں کے ہاتھ ہے جنھوں نے استاد کے ہاتھ میں پستول دیا؟
پاکستان میں سیکورٹی کے انتظامات پولیس، فورسز، اور دیگر لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے، لیکن ہمارے صوبے سمیت پورے ملک میں یہ ذمہ داری اب اسکول کے اساتذہ اور چوکی داروں کی بھی ہے جب کہ آئین پاکستان میں واضح لکھا گیا ہے کہ سیکورٹی کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہوگی، مگر یہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں پولیس اور آرمی کی موجودگی کے باوجود سیکورٹی کے انتظامات گاؤں کے لوگوں اور علم کی روشنی پھیلانے والوں کے سر تھوپی گئی ہے۔ اس لیے کالم کے شروع میں ذکر شدہ بزرگ چوکی دار کی الجھن بہ جا تھی۔ ان کو جو فکر لاحق تھی، اس کی تُک بنتی ہے۔آج ایک زندگی ضایع اور دوسری برباد ہونے کی شکل میں سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔
میں نے طالب علم کی موت کے حوالے سے پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر ثواب خان سے بات کی، تو انھوں نے کہا کہ ’’پرائیویٹ سکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن‘‘ استاد کے ہاتھوں میں پستول اورسیکورٹی کے انتظامات اس کے ذمے ڈالنے کے خلاف ہے۔ ہم نے اس حوالے سے انتظامیہ سے بات چیت بھی کی ہے لیکن ان کی طرف سے واضح پیغام آیا ہے کہ اگر سیکورٹی کے انتظامات اسکول اساتذہ نے نہیں کیے، تو غفلت برتنے والوں کو جرمانہ کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے ایک سال قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے، جس کے بعد ہم مجبور تھے کہ ہم اسکول میں سیکورٹی کے انتظامات خود کریں اور یوں اساتذہ اپنے طالب علموں کی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ رکھنے پر مجبور ہوگئے۔
آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ افسوس نا ک ہے، تو وہ ہے ایک معصوم بچے کی حادثاتی موت ہے۔ اگر اب بھی ہمارے حکم رانوں کو ہوش نہیں آیا اور انھوں نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کی، تو پھر اس قسم کے اتفاقی حادثے روز کا معمول بن جائیں گے اور ہم اپنے مستقبل (بچوں) سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ پھر شاید اسکولوں کو پڑھنے والے بچے اور پڑھانے والے اساتذہ نہ مل سکیں اور ہمارا مستقبل اندھیروں کی نذر ہو۔
مجھے افسو س ہے کہ اگر سوات میں سیکورٹی کے لیے اسپیشل پولیس فورس کو بھرتی کیا جا سکتا ہے، تو پھر اسکول کے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک الگ فورس کیوں بھرتی نہیں کی جاسکتی؟آیئے، کسی اور بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اسکول اساتذہ اور چوکی داروں سے اسلحہ واپس لیں اور سیکورٹی کے انتظامات ان لوگوں کے حوالے کریں جو اس کام کے لیے بھرتی ہوئے ہیں۔ اگر فوری طور پر ایسا نہ کیا گیا، تو پھر ہمیں اس سے بھی سخت نتایج بھگتنا ہوں گے۔
706 total views, no views today


