تحریر حمدنواز
کپتان خان کے وہ دعوے بھلا کون بھول سکتا ہے جب وہ آستینیں چڑھا کر ڈائس پر بولاکرتے تھے کہ’’ پیرااشوٹ پر کوئی نہیں اترے گا ،پارٹی میں کسی بھی عہدے کیلئے شارٹ کٹ استعمال نہیں ہوگا، پارٹی میں صرف جمہوریت چلے گی‘‘یہ باتیں خان صاحب اس وقت بڑے جذباتی انداز میں کرتے تھے جب ابھی تحریک انصاف کا انٹرا پارٹی الیکشن بھی نہیں ہوا تھالیکن۔۔۔پھر ہوا وہی جو یہاں ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ کی طرح یہاں بھی گنگا الٹا بہنے لگا۔خان صاحب بلامقابلہ ہی پارٹی چیئرمین منتخب ہوگئے۔انہیں بلا مقابلہ منتخب ہونا ہی تھا کیونکہ یہی پاکستانی سیاست کا وطیرہ ہے اور یہی جمہوردشمنی یہاں کے جمہوری جماعتوں کا قانون ہے۔ خود کوجمہوریت کی چمپئن کہلوانے والی اس جماعت کی جمہوریت پسندی اس وقت کچھ اور عیاں ہوگئی جب خیبر پختونخوا کے چودہ ایم پی ایز کو جمہوری انداز میں فارورڈ بلاک بنانے پربیچ چوراہے پر ذلیل کر دیا گیا۔جاوید ہاشمی جیسی جمہوری شخصیت کو خان صاحب کی بات نہ ماننے پر رسوا کرکے پارٹی سے نکال دیا گیا حالانکہ یہی جایدحاشمی ہی تھے جن کو خان صاحب نے پارٹی صدارت سے نواز کرجمہوریت کا بابا قرار دیا تھا لیکن جب اسی بابا جمہوریت نے پارٹی کے اندر جمہوریت کی بات کی توان کو دھکے دیئے گئے۔ تحریک انصاف کا یہ انصاف ذرہ ملاحظہ کیجئے کہ جہانگیر ترین کو محض اس لئے پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنالیا گیا کہ وہ ذاتی ہیلی کاپٹر اور ذاتی جہاز کے مالک تھے ورنہ اپنا حلقہ بھی نہ جیت پانے والے جہانگیر ترین میں اور کیا ایسی خوبی تھی جو پارٹی سے پندرہ پندرہ سال سے وابستہ لیڈروں میں نہیں تھی، شاید کہ ان لوگوں کا قصور یہی تھا کہ وہ غریب تھے اور دیگر پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف میں بھی لیڈر بننے کا معیار محض پیسہ ہے۔جمہوریت جمہوریت کے راگ الاپنے والے کپتان خان کے پاس اب اس سوال کا جواب کوئی نہیں کہ جہانگیرترین اور شاہ محمود قریشی کو کون سی جمہوریت کے تحت پارٹی کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا اورصرف امیر لیڈروں پر ہی کیوں نوازشات کی بارشیں ہورہی ہیں۔ ہم یہاں پر خیبر پختونخوا کی مثال ہی کو رکھ لیں تو تحریک انصاف کے ’’ انصاف‘‘ کی جا بجا داستانیں بکھری پڑی ملیں گی۔مولانا فضل رحمن کے د ست راست ا عظم سواتی جے یو آئی سے کوچ کرکے پی ٹی آئی کے کوچے میں آئے تو صرف دولت کو بنیاد بنا کر انہیں اسد قیصر کی جگہ صوبائی صدارت سے نوازہ گیا۔جہاز والے جہانگیرترین کے کہنے پر ایک کمپنی کو شوکت یوسف زئی نے کنٹریکٹ عطا نہیں کیا تو عمران خان نے طیش میں آکرانہیں وزارت سے ہی فارغ کر دیا۔اپنے کپتان کی دیکھا دیکھی پارٹی کی نچلی ٹیم بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے سامنے آگئی اور خیبر پختونخوا کے صوبائی عہدیداروں کے انتخابات کے دوران پیسوں ،سفارشوں ، نوازشات اور دھاندلی کے نئے ریکارڈ بنا لیا ہے جن کے ویڈیو ثبوت مرکزی قیادت کو بھی ارسال کیے گئے مگر ان پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ، نہ اس کا فیصلہ آج تک ہو سکا ہے اور شاید کہ ہوگا بھی نہیں۔ جمہوریت ، انصاف اور تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں کی ملاکنڈ pk99 میں ’’ جمہوریت پسندی اور انصاف‘‘ کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔اپنے بڑوں کا وطیرہ نچلی سطح کی سیاست کرنے والے کیلئے بھی جائز ہی ہے۔بلدیاتی انتخابات میں ضلع اور تحصیل نشستوں سے کس طرح ’’انصافین‘‘ کو نوازہ گیا، اس کا نظارہ ہر کوئی کر چکا ہے۔ہر چھوٹی بڑی نشست کے لئے پی ٹی آئی کے تین تین چار چار لوگ کھڑے کئے گئے جن میں کئی پر ملاکنڈ کے ایم این اے جنید اکبرنے کرم نوازی کی تو کہیں پر ایم پی اے شکیل صاحب نے انہیں نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر باوجود اس کے جب الیکشن کا ریزلٹ آیا تو ان کو محض آٹھ نشستیں ملیں۔ اس کے بعد باقی پارٹیوں کی طرح پی ٹی آئی نے بھی کامیاب ہونے والے آزاد کونسلرز کو خریدنا شروع کیا۔میرے سامنے ہی ایم این اے جنید اکبرصاحب ایک آزاد کونسلر کے پاس لائے اور سودے بازی شروع کردی۔ کونسلر نے تین کروڑ مانگ لیے اور اسی ہی رقم پر اڑے رہے جس پر بات بنتے بنتے رہ گئی۔اب یہ بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے ۔ بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ پی ایم ایل (این) سے آئے ہوئے سابق ناظم اعلیٰ فدامحمد خان کو بھی پی ٹی آئی نے پیراشوٹ سے اتارااور ناظم اعلیٰ کی نشست کے لیے نامزد کردیا۔فدا محمد خان کی تحریک انصاف کے لئے کوئی قربانی نہیں لیکن جہانگیرترین کی طرح ان کو بھی محض پیسہ ہونے کی وجہ سے نوازہ گیا۔فدامحمدخان2013ء میں قومی اسمبلی کی نشست لے لیے الیکشن لڑے مگر بری طرح ہار گئے۔ انہوں نے صرف 18135 ووٹ حاصل کئے مگر اب انہی فدا محمد خان کو ناظم اعلیٰ کی نشست کیلئے چن لیا گیا ہے۔ کیا اس طرح سے تحریک انصاف والے خود انصاف کا خون نہیں کررہے، کیا یہی تبدیلی ہے اور یہی جمہوریت ہے؟؟۔ پاکستان تحریک انصاف اگر اسی طرح دولت کو معیار بنا کر اپنے مخلص اوردیرینہ ساتھیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے گی تو بہت جلد اس پارٹی کا شمار بھی انہی پارٹیوں میں ہوگا جس کے خلاف کپتان خان آستینیں چڑھا کر سٹیج پر بولتے اور ان کے لتے لیتے نہیں تھکتے تھے۔خان صاحب خود کو جمہوریت ، انصاف اور تبدیلی کا ماڈل بنا کر قوم کو پیش کرتے تو بلاشبہ ان کی پارٹی بھی یہی راستہ چن لیتی مگر اس قوم کی قسمت میں شاید ابھی ایسی سایہ دار لیڈرشپ موجود نہیں جس کے گھنے اور ٹھنڈے سائے میں بیٹھ برسوں کی ہلکان قوم سکون کا سانس لے سکے۔
752 total views, no views today


