ویسے تو ضلع سوات میں مسائل اورمشکلات کی کوئی کمی نہیں ، حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اورسیاستدانوں کے ذاتی مفادات پرمبنی سیاست کی وجہ سے اس وقت سوات میں ہرقسم کی پریشانیوں اورمسائل کی بہتات ہے مگر ایک اہم مسئلہ جو عرصہ دراز سے حل طلب ہے وہ ہے تعلیم کی زبوں حالی،یہاں پر قائم بیشترسکولوں میں تعلیمی سہولیات کا فقدان پایا جاتاہے جس کی وجہ سے طلبہ سمیت اساتذہ کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس سے سابقہ اورموجودہ حکمرانوں کے تعلیم کی ترقی کے حوالے سے لگائے گئے نعرے سراسرغلط ثابت ہورہے ہیں،اگر ایک حکومت نے یکساں نظام تعلیم رائج تو دوسری نے سرکاری سکولوں کو تمام تر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے اوردعوے کئے مگر کسی بھی حکومت نے انہیں عملی جامہ پہنانے کی سعادت حاصل نہیں کی ،ان سطورمیں سوات میں تعلیم کی صورتحال بلکہ زبوں حالی سے متعلق وہ رپورٹ پیش کریں گے جو محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کی جانب سے سامنے آئی ہے جس کے مطابق سوات میں قائم گرلز ہائی سکولوں میں باسٹھ ، مڈل سکولوں میں ایک سونو اور پرائمری سکولوں میں چھ سوچھیانوے استانیوں کی اشدضرورت ہے اسی طرح اٹھارہ گرلز ہائی سکولوں میں ہیڈ مسٹریس کی اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں جس کے سبب یہ سکول بغیر استانیوں اور ہیڈ مسٹریس کے چل رہے ہیں اوریہی حال لڑکوں کے سکولوں کا بھی ہے ،پرائمری سکولوں میں آٹھ سوبائیس ،مڈل میں دوسو اور ہائر سیکنڈری و ہائی سکولوں میں دوسوپچاس مزیداساتذہ کی ضرورت ہے، اس وقت سرکاری سکولوں میں امتحانات جاری ہیں جس میں ہزاروں طلباء و طالبات حصہ لے رہے ہیں مگربیشتر سکولوں میں امتحانی مراکز موجودنہیں اور جہاں امتحانی مراکز قائم ہیں وہاں فرنیچر اور دیگر سہولیات کا فقدان ہے ،سرکاری سکولوں میںیہ وہ کمیاں ہیں جو ہردورمیں حکمرانوں کی نظروں کے سامنے لائی گئی ہیں جنہیں دورکرنے کے صرف وعدے ہوئے عملی کام سے گریزکیاگیامگر کیوں۔۔؟اس سوال کا جواب مقامی لوگوں نے دوٹوک الفاظ میں دیاہے کہ ہماری نئی نسل کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے سے روکا جارہاہے،اگرایسانہیں تو پھر اس نسل کو اس دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقعے کیوں فراہم نہیں کئے جاتے۔۔؟صاحب ثروت لوگوں نے سرکاری سکولوں میں سہولیات کی کمی کے پیش نظر اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کرادیاجو ان کا حکومت کی کارکردگی پر ایک طرح سے عدم اعتمادکااظہار ہے مگر غریب لوگوں کو تو اپنے بچوں کیلئے دووقت کی روٹی کمانے کے لالے پڑگئے ہیں ایسے میں وہ انہیں پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم کیا دلاسکیں گے لہٰذہ ان کے بچے مجبوراََضروری سہولیات سے محروم سرکاری سکولوں میں زمین پر بیٹھ کرتعلیم حاصل کررہے ہیں، تعلیمی سہولیات کو ترسنے والے ان سکولوں کوبھوت بنگلے اور بھوت حویلیاں بھی کہا جاتاہے،اورتواوریہاں پر توماضی میں سرکاری سکولوں کے بچوں کو مفت فراہم کی جانے والی کتابیں بھی بازاروں میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھی گئی ہیں جس سے غریب بچوں کو آگے پڑھنے اورتعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کے سلسلے میں پریشانی کا سامناکرنا پڑا، کچھ عرصہ بیشترجب سوات میں صورتحال کشیدہ ہوگئی تو اس دوران متعددسکولوں کو اڑایاگیا جبکہ رہی سہی کسرتباہ کن سیلاب نے پوری کی جو ہماری بدقسمتی تھی تاہم قیام امن کے بعدتباہ ہونے والے سکولوں کی ازسرنوتعمیرومرمت کی گئی جبکہ ساتھ ساتھ نئے سکول بھی قائم ہوئے جنہیں تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے مگر اس نے اس ذمہ داری کو پوراکر نے سے چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے،
سوات میں تعلیم کی زبوں حالی،سکولوں میں تعلیمی سہولیات ،سٹاف کی کمی اورخالی اسامیوں کی موجودگی سابقہ اورموجودہ حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ مرکزی اورصوبائی حکومت اپنے دامن پر سے تعلیمی سہولیات کی کمی اوراس اہم شعبے کو عدم توجہی کے لگے ہوئے اس داغ کو مٹانے اورقوم کو جواب دینے کیلئے کیا اقدامات اٹھارہی ہے۔۔؟؟ قوم چاہتی ہے کہ حکومت اپنے کئے گئے وعدوں کے مطابق سوات میں موجود تمام سرکاری سکولوں میں سٹاف،تعلیمی سہولیات وضروریات کی فراہمی ،خالی اسامیوں کوپرکرنے اوردیگر کمیوں کو دورکیلئے عملی اقدامات اٹھاکر بچوں کو تابناک مستقبل دلانے میں کرداراورعوام کی نمائندگی کاحق اداکرے تاکہ ان بھوت بنگلوں پر چھائے ہوئے گھمبیرسناٹے ختم ہوجائے اوروہاں سے ،لب پہ آتی ہے دعابن کے تمنا میری ،،کی کانوں میں رس گھولتی صدائیں سنی جاسکیں۔
1,026 total views, no views today


