اُمت مسلمہ کی تاریخ کے کئی حوالوں سے متبرک مہینے یعنی رمضان کا آغاز ہونے والا ہے، سحری و افطاری کے انتہائی منظم اوقات کے درمیان روزمرہ زندگی کے حوالے سے مسلمان دنیا کی واحد قوم ہیں جن کے معمولات زندگی نہایت صحیح طریقے کے ساتھ تبدیل ہوکر خاص احکام خداوندی کے مطابق ہو جاتے ہیں اور ہر مسلمان ایک روحانی مشق کے ذریعے نفسانی خواہشات ترک کرتا ہے۔ تزکیۂ نفس کی اس مشق کا مقصد اللہ اور رسولؐ کی رضا مندی ہے۔ نمازِ پنج گانہ کے ساتھ تراویح کی بہ دولت اس ماہِ مبارک کو تمام مہینوں پر فضیلت دی گئی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس ماہِ مقدس میں ہدایت انسانی آخری کا آسمانی ضابطہ یعنی قرآنِ کریم بھی نازل ہوا ہے جس کی عملی تفسیر آں حضرتؐ اور آپؐ کے صحابہؓ ہیں جو ہمارے لیے نمونۂ حیات ہیں لیکن ان فیوض و برکات کے ہوتے ہوئے سرزمین اسلام پر ایسے بد بخت مسلمان بھی رہتے ہیں جو اس مبارک مہینے میں ثواب کمانے کی بہ جائے اُلٹا عذابِ خداوندی کے مستحق بن جاتے ہیں۔ یہ ہیں ناجایز منافع خور، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے، ذخیرہ اندوز اور خوراکی اشیاء میں ملاوٹ کرنے والے۔
آج یہ بیماری ہماری قومی زندگی کی رگ رگ میں سرایت کرچکی ہے۔ اس ماہِ مکرم میں ناجایز منافع خور حرام کمائی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں رہتے ہیں اور اس طرح یہ لوگ اس مہینے کے فیوض و برکات سے محروم رہ جاتے ہیں جب کہ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک میں رمضان المبارک کے آغاز پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں انتہائی کمی کی جاتی ہے، تاکہ عامۃ المسلمین کو مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں کچھ ریلیف مل سکے۔ اسلامی ممالک کے علاوہ کچھ غیرمسلم ممالک ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں کے لیے مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر اشیائے صرف کی قیمتوں میں سبسڈی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک میں قومی اور مذہبی تہواروں مثلاً کرسمس اور ایسٹر وغیرہ کے مواقع پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کافی کمی کی جاتی ہے، تاکہ امیر اور غریب یکساں طور پر اس سے مستفید ہوسکیں۔بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اس کے مقابلے میں ہمارا معاملہ اُلٹا ہے۔ یہاں منافع خور اور ذخیرہ اندوز اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی مذہبی تہوار ہو اور وہ اشیائے صرف کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچائیں۔ ایسے عناصر خوفِ خدا سے عاری ہوکر عوام اور قانون کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور ان کے ہاں ملاوٹ اور دو نمبریت کا معاملہ زوروں پر ہوتا ہے یعنی اشیائے صرف میں اصلی اور نقلی کی تمیز نہیں کی جاسکتی اور اسی طور پر ناجایز دولت کما کر کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔
بہ حیثیت مسلمان آج اس ماہِ مقدس کی آمد پر ہمیں اپنے سالِ گزشتہ کا محاسبہ کرنا ہے اور یہ سوچنا ہے کہ ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔ آج ہم نے رمضان المبارک کی آمد پر اس کے تقدس اور عظمتوں کا محض رومانوی داستان گوئی کے انداز میں ذکر نہیں کرنا بلکہ فکر کرنا ہے کہ زندگی کے محاذ پر ہم کہاں کہاں تضادات کا شکار ہیں اور ہمارے معاملات کیسے ہیں؟
ورنہ روزہ محض کھانے پینے سے گریز ہی کا نام نہیں بلکہ مؤمن کے کردار کی تطہیر کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔
682 total views, no views today


