وقت کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ بلدیاتی انتخابات متنازعہ بن چکے ہیں؟ حالات کا جبر یا دوسرے الفاظ میں انصاف دیکھیے کہ محترم عمران خان نے دھرنے دے کر جلسے کر کے 2013ء کے عام انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جب کہ خیبر پختون خوا کے حالیہ بلدیاتی انتخابات بغیر کسی جلسے جلوس اور دھرنوں کے دو دنوں میں متنازعہ ہوگئے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے وقت ضایع کیے بغیر اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالی جب کہ الیکشن کمیشن نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے جوابی الزامات اور بیانات سے سارا کیا دھرا صوبائی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیا۔ عوام اس عجیب و غریب منطق کے سمجھنے سے عاجز ہیں کہ ایک طرف 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی اور بد انتظامی کی ذمہ داری نواز شریف پر ڈالی جارہی ہے جب کہ دوسری جانب پختون خوا میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی بد انتظامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالی جا رہی ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے وقت سارے ملک میں ایک نگران سیٹ اپ کام کررہا تھا، اُس میں مسلم لیگ ن یانواز شریف کا کوئی عمل دخل نہیں تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی یا بد انتظامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ نگران حکومت پر ڈالی جاسکتی ہے۔ اس طرح موجودہ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی اور بدانتظامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کے ساتھ موجودہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر بھی ڈالی جاسکتی ہے۔ دونوں جانب سے غیر سنجیدگی اور انجانے پن کے ساتھ ساتھ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے کچھ نہیں ہوتا، عوام جانتے ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کہاں پہ صوبائی حکومت کی حدود ختم ہوتی ہیں اور کہاں سے الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں شروع ہوتی ہیں؟ مطلب یہ کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر خود کو حالیہ انتخابات میں دھاندلی اور بدانتظامی سے مبرا نہیں کرسکتی۔ پہلی سچائی تو یہ ہے کہ انتخابات کا مرحلہ سر کرنے کے لیے دونوں اداروں یعنی الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کا آپس میں رابطہ ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بغیر رابطہ اور تعاون کے انتخابات کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اگر انتخابات میں کوئی بھی تکنیکی خرابی ہو، تو اُس کی ذمہ داری بلا تاخیر الیکشن کمیشن پر ڈالی جاسکتی ہے۔ بیلٹ پیپر میں فرق ہو، امیدواروں کے نام نہ ہوں، نشانات غلط ہوں یا کاغذات پورے نہ ہوں، بیلٹ باکس میں فرق ہو، انتخابی عملہ تربیت یافتہ نہ ہو، یا کم ہو، دیر سے پہنچنا وغیرہ یہ سارے کام الیکشن کی ذمہ داری ہیں۔ اس طرح امن و امان، سیکورٹی اسٹاف اسکولوں کا بندوبست، اسٹاف کو وقت پر پہنچانا، روشنی کا انتظام کرنا اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنا یہ سارے کام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ اب موجودہ انتخابات میں چند اہم کوتاہیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دوبارہ انتخابات کا انعقاد کرانا ممکن ہو، تو ان تحفظات کو مد نظر رکھا جائے۔
1:۔ ہر ووٹر کے ہاتھ میں زیادہ سے زیادہ سات اور کم سے کم پانچ عدد بیلٹ پیپر تھمانا ایک ان پڑھ ووٹر کے ہوش اڑانے کے لیے کافی ہے۔ ڈسٹرکٹ اور تحصیل کے انتخابات علاحدہ کرائے جائیں۔ باقی دوسرے یعنی جنرل کونسلرز، یوتھ، کسان، اقلیت اور خواتین کے انتخابات علاحدہ کرائے جائیں اور وہ بھی دو دن میں کرائے جائیں یا اس مقصد کے حصول کے لیے الگ الگ اسٹاف مقرر کیا جائے۔ بالفاظِ دیگر اسٹاف بڑھا دیا جائے۔ ایک پولنگ بوتھ پر صرف چار آدمی بٹھا کر انھیں پانچ سے سات عدد تک بیلٹ پیپرز دلوانا زیادتی ہے اور وقت کا ضیاع ہے۔ آخر وہ کون سا ووٹر ہوگا جو صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک مسلسل کھڑے ہوکر اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ ڈالنے کے لیے صبر آزما انتظار کرے گا؟ اس لیے زیادہ تر ووٹرز لمبے انتظار سے تنگ آکر واپس چلے جاتے ہیں۔
2:۔ رش سے بچنے کے لیے پرائیویٹ اسکولوں کو بھی استعمال میں لایا جائے۔
3:۔ عام الیکشن سے پہلے یہ تحریر کرانا ضروری تھا کہ ایک عام ان پڑھ ووٹر پانچ یا سات عدد ووٹ پرچیاں حاصل کرنے میں اور پھر مہر لگانے میں کتنا وقت لے گا۔
5:۔ یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ جنرل کونسلرز کے بیلٹ پیپرز پر صرف نشانات تھے، امیدواروں کے نام نہیں تھے جس سے ڈھیر سارے لوگ کنفیوژ ہوگئے، خود ہمارے حلقے میں جنرل کونسلرز کے بیلٹ پیپرز پر صرف نشانات تھے۔ لہٰذا آیندہ کے لیے امیدواروں کے نشانات کے ساتھ ان کے پورے نام لکھ دیئے جائیں۔
6:۔ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔ سیاسی لوگوں، وزیروں وغیرہ کو پولنگ کے دن دوروں سے منع کیا جائے۔
7:۔ پولنگ عملے کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسے خوب ٹرین کیا جائے تاکہ وہ کام کو تیزی کے ساتھ نپٹائے۔ لوگ انتظار سے بور نہ ہوں، تنگ نہ ہوں، وہ کہیں نا اُمید ہوکر بغیر ووٹ ڈالے گھروں کو نہ لوٹیں۔
8:۔ ووٹ ڈالنے کے عمل کو مشکل اور صبر آزما نہیں بلکہ آسان اور دل چسپ بنایا جائے۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر بار بار ووٹ ڈالنے اور مہر لگانے کے پورے عمل کو دکھایا جائے۔
اُمید رکھتا ہوں کہ خیبر پختون خوا میں د وبارہ انتخابات کے منعقد ہونے کے موقعہ پر ان تجاویز کو مد نظر رکھا جائے گا۔ با اخلاق اور باشعور قومیں اپنی غلطیوں کو بار بار نہیں دہراتیں۔
نوٹ:۔ روح الامین نایابؔ کی درجہ بالا تحریر حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتایج کے دو دن بعد موصول ہوئی تھی، تاخیر سے شایع کرنے کے لیے ادارہ راقم اور قارئین دونوں سے معذرت خواہ ہے۔ (مدیر ادارتی صفحہ)
874 total views, no views today


