عرصۂ دراز سے مینگورہ شہر گو ناگوں مسایل کا شکار ہے۔ سابقہ ادوار میں انتظامیہ کی طرف سے مسلسل چشم پوشی اور عدم توجہی کی وجہ سے ان مسایل میں اضافہ ہوتا گیا۔ نتیجتاً خوب صورت اور جنت نظیر وادئ سوات کا مرکزی شہر منگورہ کا شمار ایک نہایت گندے اور بدصورت ترین شہروں میں ہونے لگا، لیکن اب گذشتہ کئی مہینوں سے موجودہ انتظامیہ نے اس شہر کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں، جس کے لیے انتظامیہ واقعی داد و تحسین کی مستحق ہے۔ ان اقدامات میں مینگورہ شہر سے ناجایز تجاوزات اور ہتھ ریڑھیوں کا ہٹایا جانا سرفہرست ہے جس کے بعد بازارکی سڑ کیں کافی حد تک کشادہ اور چوڑی نظر آنے لگی ہیں۔ اب پیدل چلنے والوں اور خاص کر گاڑیوں کی آمد و رفت میں کافی بہتری نظر آ رہی ہے۔ میری نظر میں اس شہر کے کچھ ایسے مسایل اور ہیں کہ اگر ان کی جانب توجہ دی گئی، تو اس سے مزید بہتری آسکتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ مینگورہ شہر میں کھمبیوں کی طرح بڑھنے والے غیر قانونی رکشوں کی تعداد ہے۔ ان رکشوں نے نہ صرف مینگورہ کی سڑکوں پر ٹریفک جام کو معمول بنا دیا ہے بلکہ ان کی سماعت خراش آوازوں نے شہریوں کو ذہنی مریض بھی بنا دیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں ہزاروں رکشے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں اور بیش تر کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ اس کے علاوہ ان رکشوں کو چلانے والے زیادہ تر ڈرائیورز، ڈرائیوینگ کے اصولوں سے ناواقف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا دامن صبر و تحمل سے بھی خالی ہوتا ہے۔ قطار میں انتظار کی بہ جائے ان کے سر پر سب سے سبقت لینے کا ایسا بھوت سوار ہوتا ہے کہ گویا اگلے اسٹاپ پر اسے اول آنے کی خوشی میں کسی اعزاز سے نوازا جائے گا۔ لہٰذا دائیں بائیں دونوں طرف سے یہ آگے چلنے والی گاڑیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور معمولی سی جگہ میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ یوں سامنے سے آنے والی گاڑیوں کے بالکل سامنے کھڑے ہو جا تے ہیں۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پھر چشم زدن میں وہاں درجن بھر مزید رکشے بھی جلوہ افروز ہو جاتے ہیں اور دماغ کو ماؤف کرنے والے ایک بے ہنگم شور کے ساتھ حلق اور آنکھوں میں زہر گھولنے والا دھواں ہر طرف پھیلا دیتے ہیں۔ نتیجتاً تاحد نظر ٹریفک جام کا سماں بندھ جاتا ہے۔ رہی سہی کسر سیکڑوں کی تعداد میں تیار شدہ’’کٹ گاڑیاں‘‘ پوری کر دیتی ہیں۔ سر دست اگر مینگورہ میں غیر قانونی رکشوں پر مکمل پابندی لگا دی جائے، تو ٹریفک بہ حال ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رکشوں کو مختلف روٹس کی حدود میں کام کرنے اور انھیں مختلف شفٹس میں کام کرنے کا پابند بنایا جائے، ان کی باقاعدہ رجسٹر یشن کرواکے ان کو تین مخصوص رنگ دے کر مقرر شدہ علاقوں تک محدود رکھا جائے۔
مثال کے طور پرپیلے رنگ کے رکشوں کو ایک ہفتہ کے لیے صرف صبح کے وقت شہر کے اندر جانے کی اجازت ہو۔ دوپہر میں سبز رکشوں کو کام کرنے دیا جائے۔ نیلے رکشوں کو سہ پہر اور شام کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت ہو۔ ان رکشوں کو ہر ہفتہ مختلف اوقات میں کام کرنے کا موقعہ دیا جانا چاہیے یعنی ایک ہفتہ پیلے رکشے صبح کے اوقات میں، تو اگلے ہفتے ان کو دوپہر اور پھر شام کے اوقات میں کام کرنے دیا جائے۔ رکشوں کو مختلف گاوؤں اور دیہاتوں میں سواریاں لانے اور لے جانے کی ذمہ داری دے کر مزید آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ایک طرف مینگورہ سے کانجو، کبل، ڈھیرئی، بانڈئی، دوسری طرف رحیم آباد، قمبر، اوڈیگرام، تیسری طرف چارباغ اور اس سے آگے تک کے علاقے اور منگورہ سے نکلنے والی مختلف سمتوں کی جانب ان رکشوں کا رخ موڑا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹریفک میں ایک اور بڑا خلل ہیں وہ گاڑیاں جو شہر کے اندر سڑک کنارے کھڑی کی جاتی ہیں۔ ان سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ یہ آنے جانے والی گاڑیوں کا راستہ بھی روکے ہوتی ہیں۔ اگر انتظامیہ شہر سے باہر پارکنگ کا انتظام کرلے اور سڑک کنارے گاڑی کھڑی کرنے پر سختی سے پابندی لگا دی جائے، تو شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا ازدحام کم ہو سکتا ہے۔ اگر پورے شہر میں یہ ممکن نہیں، تو کم ازکم مصروف ترین بازاروں میں ہی پبلک ٹرانسپورٹ کی پا رکنگ ممنوع قرار دی جائے۔
علاوہ ازیں منگورہ کی دو یا تین سڑکوں کو آزمایشی بنیادوں پر یک طرفہ (ون وے) بناکر بھی شہر کی سڑکوں پر آمدورفت کو کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک دفعہ پہلے اس کی آزمایش کی جاچکی ہے، جوکارگر ثابت ہوئی تھی، پتا نہیں کیوں بعد میں اس سے روگردانی اختیار کی گئی۔
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جب سے بائی پاس سڑک بنی ہے، اس پر ہروقت ٹریفک جام رہتی ہے جس کا بہ راہ راست اثر مینگورہ شہر پر پڑتا ہے۔ کیوں کہ پھر ٹریفک بائی پاس سے لے کر مینگورہ تک جام رہتی ہے۔ لہٰذا پولیس لین کے قرب و جوار میں ایک اور بائی پاس بنا کر اس مسئلہ کومستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔ وقتی طور پر فی الحال بائی پاس پرٹریفک سگنل سے معاونت لی جاسکتی ہے۔
آخر میں، مَیں انتظامیہ کومینگورہ شہر میں عملی کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور امید کی جاتی ہے کہ این ایچ اے کی جانب سے شہر میں دکان داروں کو ملنے والے الٹی میٹم کے بعد انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی جس سے شہر کے راستے مزید کشادہ اور وسیع ہونے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائے گا۔
ساتھ انتظامیہ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھے کہ دکان داروں کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، ان سے واگزار کرانے والی زمینوں کی مارکیٹ ر یٹ پر ادائیگی کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی قیمتی زمینوں کو اونے پونے داموں ہتھیالیا جائے۔
ہم عوام انتظامیہ کو باور کراتے ہیں کہ اگر یہ اسی طرح جوش، ولولے اور خلوص سے شہر اور علاقے کی بہبود کے لیے کام کرتی رہی، تو اس کی اس کوشش اور محنت کو ہر پلیٹ فارم پر نہ صرف سراہا جائے گا بلکہ بھرپور تعاون کے لیے عوام، اس کے شانہ بہ شانہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
اللہ ہم سب کو خلوص نیت اور لگن سے اپنے ملک اور علاقے کے لیے کام کرنے اور اسے رشک چمن بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
680 total views, no views today


