ایٹم بم کے استعمال کے بعد اس کے اثرات کا اندازہ لگانا ہو، تو زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں، صرف جاپان کے شہروں ہیرو شیما او ر ناگا ساکی کی تاریخ پر نظر ڈال لی جائے، تو کافی حد تک انسان اس بم کے منفی اثرات سے بہ خوبی واقف ہو جائے گا۔ اس کے استعمال کے بعد نسلِ انسانی کا کس طرح ضیاع ہو ا بلکہ آج بھی وہاں پیدا ہونے والوں میں اس کی نشانیا ں موجود ہیں، انسان اس بارے سب جان جاتا ہے۔
یہ تو تھا، وہ بم جس میں ایٹم کا استعمال ہوتا ہے لیکن اب آج کل پاکستان میں ایک اور بم کا استعمال کیا جارہا ہے جس کا اثر واقعی کسی ایٹم بم سے کم نہیں اور وہ ہے ’’منشیات کا بم‘‘۔ جو نہ صرف معاشرے بلکہ نسلِ انسانی کو انتہائی برے طریقے سے تباہ و برباد کرنے کا عنصر بن رہا ہے۔ ویسے تو پاکستان ہر وقت ہی حالت جنگ میں ہے، کبھی یہ جنگ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے لڑی جاتی ہے، تو کبھی تما م ان مسایل کے لیے جو پاکستان کو درپیش ہیں، لیکن ذرا غور کریں، تو کیا کوئی ایک جنگ منشیات کے خاتمے کے لیے بھی لڑی جا رہی ہے؟کیا کوئی ایسا ضربِ عضب ان کے خلاف بھی کیا جائے گا جو خوب دھرلے سے اس کاروبار میں ملوث ہیں۔International Day Against Drug Abuse and Illicit Trafficking منشیات کی روک تھام اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کا عالمی دن ہر سال چھبیس جون کو بین الاقوامی سطح پر منایا جاتاہے، جس کا مقصد معاشرے میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کا خاتمہ اور غیر قانونی طریقے سے اس کی اسمگلنگ کی روک تھام بارے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کروانا اور عوام کو اس سے بچنے بارے آگاہی دلانا ہے۔ سات دسمبر 1987ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد 42/112 کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ 1988ء سے ہر سال چھبیس جون منشیات کی روک تھام کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ دنیا کے ہر ملک میں منشیات کا استعمال اور اس کا کاروبار ایک جرم ہے۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں، تو بیسویں صدی کے آغاز میں ہی بہت سے ممالک نے الکوحل کے استعمال پر پابندی عاید کر رکھی تھی۔ حتیٰ کہ ان میںیہ ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ امریکہ، کینڈا، فِن لینڈ، ناروے اور روس وغیرہ بھی شامل تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان منشیات کی لت کا شکار کس طرح ہو جاتا ہے؟ ماہرین نفسیات کے مطابق نشے کی لت ایک بیماری ہے یا حقیقی ذہنی خرابی۔ کئی افراد میں یہ بیماری موروثی طور پر پائی جاتی ہے اور بعض حالات و واقعات کی وجہ سے خود اس بیماری کو اپنا لیتے ہیں۔ دراصل جب انسان منشیات کا استعمال شروع کرتا ہے، تو وہ اس کا عادی بن جانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ ایک دو دن میں اس لعنت کا مستقل شکار ہو جاتا ہے بلکہ اس مقام تک پہنچنے میں بھی کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ شروع میں تو کچھ افراد فیشن کے طور پر اپنی خوشی سے اور کچھ پریشانیوں اور الجھاؤ کا شکار ہو کر نشہ شروع کر لیتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب وہ اس نشے کی لت کا پوری طرح شکار ہو جاتے ہیں، تو پھر وہ خود کو نارمل حالت میں رکھنے کے لیے نشہ کرتے ہیںیعنی دوسروں کے وہ ابنارمل حالت میں ہی ہوتے ہیں لیکن مطلوبہ نشہ کر کے وہ خود کو نارمل تصور کرتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق نشہ آور اشیاء کا مستقل استعمال انسان کے دماغ میں موجود عصبی خلیات (neurons) کو دھیرے دھیرے تباہ کر دیتا ہے۔ منشیات کا استعمال شاید کسی کو وقتی طور پر ذہنی سکون اور خوشی دے دیتا ہو، لیکن اس کا مسلسل استعمال انسا ن کے لیے انتہائی مہلک زہر کی طرح ثابت ہوتا ہے جو اس کو جیتے جی مار رہا ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے ہرروز مرتا اورزندہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ نشہ کرنے والا اپنے نشے کی خاطر اپنا کاروبار، تعلقات اور صحت سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔ گزشتہ سال ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں چھ اعشاریہ چار ملین افراد یعنی چونسٹھ لاکھ افراد منشیات کے مستقل عادی بن چکے ہیں جن میں اٹھتر فی صد مرد اور بائیس فی صد خواتین ہیں اور اس طرح ہر ستائیس افراد میں سے ایک شخص منشیات کا عادی ہے اور خاص طور پر آج کے نو جوان نسل کا پچیس فی صد حصہ نشے کی مختلف اقسام کا استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں بہت زیادہ استعمال ہونے والا نشہ بھنگ اور چرس کا ہے۔ تقریباً چالیس لاکھ بالغ افرااس نشے کی لت کا شکار پائے گئے ہیں اور باقی دیگر نشہ آور اشیاء جیسے افیون، ہیروین اور ادویہ جن میں نیند یا اینٹی الرجی کی گولیاں اورانجکشن وغیرہ کا نشہ کرتے نظر آتے ہیں۔
2011ء میں لگائے گئے ایک تخمینے کے مطابق سینتیس اعشاریہ آٹھ فی صد افراد نشے کے مستقل عادی تھے۔ آج بھی پاکستان کا شمار ان پندرہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایچ آئی وی یعنی ایڈز اور خون میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے خاصی تعداد میں متاثرین پائے جاتے ہیں۔ اسلام کی رو سے نشے کے استعمال کی بات کی جائے، تو آج سے چودہ سو سال پہلے نشہ آور اشیاء کی اتنی اقسام دریافت نہیں ہوئیں تھی جتنی کہ آج ہیں، اس زمانے میں زیادہ تر لوگ الکوحل یعنی شراب کا استعمال کرتے تھے اور قرآن کریم میں نشہ والی چیزوں کے لیے ’’خمر‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ’’تم سے جب شراب اور جوئے کا سوال کرتے ہیں، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ کے لیے دینوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے اور تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تا کہ تم سوچو۔‘‘(سورہ البقرہ ۔آیت نمبر 219)
اور ایک حدیث کے مطابق، ’’ حضورﷺ نے ہر نشہ آور اور سست کر دینے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔‘‘(سنن ابوداؤد)
یوں اس بات سے واضح ہو گیا ہے کہ اسلام میں بھی نشہ آور چیزوں کی سختی سے ممانعت ہے۔ منشیات کی لت کوئی جرم نہیں بلکہ یہ ایک بیماری ہے۔ مجرم وہ نہیں جو اس کا استعمال کرتا ہے، اصل مجرم منشیات کی اسمگلنگ اور اس کا کاروبار کرنے والے افراد ہیں جو ہمارے معاشرے پر منشیات کی بمباری کر کے اسے تباہ وبرباد کر رہے ہیں۔ منشیات کی لت خصوصاً آج کے نوجوانوں کا معاشی، معاشرتی، اخلاقی، نفسیاتی اور حتیٰ کہ جسمانی طور پر بھی قتل عام کر رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس کا دھندہ کرنے والے گروہوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ پوری دنیا میں ستر فی صد افیون کی پیداوار صرف افغانستان میں ہوتی ہے اور وہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے، لہٰذا سرحدی نظام کو بہتر کر کے اس کی ہمارے ملک میں اسمگلنک کی روک تھام کی جائے اورسگریٹ نوشی پر سختی سے مکمل پابندی عاید کر دی جائے، کیوں کہ یہی ایک راستہ ہے جہاں سادہ سگریٹ کے استعمال سے ہوتا ہوا انسان چرس، بھنگ، الکوحل، کوکین، افیون اورہیرؤین تک جا پہنچتا ہے ۔
806 total views, no views today


