نہ کوئی دہشت گردی، نہ کوئی زلزلہ، نہ سیلاب اور نہ کسی قسم کی قدرتی آفت لیکن صرف چھیالیس یا سینتالیس سنٹی گریڈ کی گرمی نے پاکستان کی صنعتی و تجارتی شہر کراچی میں ایک ہزار سے زاید شہریوں کی جان لے لی (کالم چھپنے تک اس تعداد میں اضافہ ہوچکا ہوگا)۔ ایدھی سمیت دیگر فاؤنڈیشن نے مزید گنجایش نہ ہونے کی وجہ سے میتیں لینے سے معذرت کرلی۔ اسپتالوں میں بھی خالی بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ایک اسپتال سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے لے جاتے وقت ان کا راستے میں ہی دم توڑنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس ساری صورت حال پر حکومتی اراکین کی طرف سے تاحال صرف اور صرف تشویش کی حد تک اظہار کا سلسلہ جاری ہے جو کہ ہمارے ہاں ایک فیشن سا بن چکا ہے لیکن ائیر کنڈیشنڈ محلات اور گاڑیوں میں اپنا وقت بسر کرنے والوں کو اس تشویش ناک صورت حال کا احساس کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ حضرات تو ان مرحومین کے ساتھ اظہارہم دردی کے لیے صرف پانچ منٹ تک اسمبلیوں کے ائیرکنڈیشنڈ بند کرانا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
سہ بہ احساس د بل د اُوخکو اُوکڑی
چا چی پہ جوند چرتہ جڑلی نہ وی
ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ یہاں پر عام نوعیت کے مسایل کو تو چھوڑئیے، جان لیوا مسایل کو بھی سیاسی دُکان چمکانے کی خاطر ٹیبل ٹاک کے نام پر سامنے لاکر الزام تراشی کا ایک لمبا چوڑا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے جس سے مزید مسایل جنم لیتے ہیں اور یہی وہ غیرفطری عمل ہے جس سے ہمارے سیاسی راہنماؤں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو کافی حد تک متاثر کیا ہوا ہے۔
قارئین کرام! جب تک سیاسی لیڈر شپ میں اعتماد کا فقدان ہوگا، ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہے گا، عام لوگوں کے مسایل حل کرنے کی بہ جائے اپنی سیاسی دکانیں چمکانے جیسی روایت برقرار رہے گی، تنقید برائے اصلاح کی بہ جائے تنقید برائے تنقید کا سلسلہ جاری رہے گا، ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے کا عمل جاری رہے گا، تب تک اگر اس ملک کے مظلوم عوام کو مزید طفل تسلیاں دینے سے اجتناب کیا جائے، تو بہتر ہوگا۔ کیوں کہ اس بات سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ کسی بھی قسم کے مسایل حل کرانے کے لیے سیاسی قایدین کا اتفاق رائے اور مثبت سوچ انتہائی لازمی ہے اور مثبت سوچ تب ممکن ہے جب مسایل کے خاتمے کے لیے ایک ٹیم ورک کے ذریعے خلوص دل سے ’’ٹودی پواینٹ‘‘ بات کی جائے۔ بہ جائے اس کے کہ ایک دوسرے کی شخصیت کو متاثر کرنے کے لیے ماضی کی ڈایریاں کھولنے کی بچکانہ کوششیں کی جائیں۔ کیوں کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اس غیر اخلاقی عمل سے مستقبل میں ایسے مسایل جنم لیتے ہیں، جو رفتہ رفتہ انتہائی تشویش ناک شکل اختیار کر لیتے ہیں اور وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گام زن کرانے کی بہ جائے دانستہ یا نادانستہ طور انتہائی تیزی سے پیچھے کی طرف دھکیل دیاجاتا ہے۔ اس عمل سے بیرونی مداخلت کے لیے راستہ بھی ہم وار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے لیے کام کریں۔ ملکی تعمیر و ترقی اور امن عامہ کے منافی کوئی کام نہ کریں اور نہ ہی غیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔ انھیں مزید علاقائی اور صوبائی منافرت پھیلانے کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔
تمام سیاسی راہنماؤں کوچاہیے کہ وہ ایک ایسا مشترکہ پلان تشکیل دیں جس کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اپنے سیاسی مفادات ڈھونڈنے کا رواج ختم ہو اور اس قسم کی صورت حال سے ایک بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے ہر پارٹی کو قومی مفاد کی خاطر مشترکہ اور عملی جدوجہد کرنا ایک مجبوری بن جائے۔ حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے ہمارے معزز قایدین کو کراچی کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہیے کہ چھیالیس یا سینتالیس سینٹی گریڈ کی یہ گرمی واقعی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے؟
اگر ہاں، تو اس قسم کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے آنے والے وقت میں کون سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے چاہئیں؟ تاکہ مستقبل میں ہماری ہمت صرف اظہار تشویش، اظہار افسوس یا اظہار تعزیت کی حد تک محدود نہ ہو بلکہ عملی کردار کے ذریعے ان محب وطن پاکستانیوں کی بھرپور مدد کا راستہ ہم وار ہوسکے۔ بہ صورت دیگر پشتو کے معروف شاعر ارشد شمالؔ کے ان اشعار کو ہم تاحیات یاد رکھیں گے کہ
کاش! دغہ خلق د انسان پہ جوندون چرتہ کی وی
دا چی پہ مرگ ئی لاسنیوے تہ زان را اُورَسوی
بیا ئی پہ مونگ ھڈو سہ غم او غرض پاتی نہ شی
زمونگ پہ سر چی مرتبے تہ زان راورَسوی
778 total views, no views today


