ماہِ رمضان میں ہر مسلمان حسبِ طاقت افطاری کا اہتمام کرتا ہے لیکن وطنِ عزیز میں روز افزوں مہنگائی نے متوسط طبقے کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے اور عام آدمی کی معاشی حالت روز بہ روز پتلی ہوتی جا رہی ہے لیکن ہمارے سماج کے متمول اور خوش حال لوگ افطاری کا بھر پور اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے مشاہدے کے مطابق ان کے طویل، وسیع اور بھاری دستر خوان پر ان کے سامنے مختلف النوع ڈیش اور نعمتیں موجود ہوتی ہیں۔ ان میں اعلیٰ قسم کی کھجوریں، اچار، چٹنیاں، مٹھائیاں، مربہ جات، سموسوں اور پکوڑوں کے ڈھیر، مٹن اور بیف کے قابوں کے ساتھ مرغ و ماہی کے پیس، بے موسم کی سبزیاں، پھل فروٹس، اوپر سے دودھ پتی چائے، قہوہ اور مہک دار مشروبات وغیرہ شامل ہیں۔
ذرا افطار بازار کی بھی سیر کریں۔ وہ دیکھو چاٹ فروش ہے، یہ کباب والا ہے، ادھر مختلف قسم کی مٹھائیاں ہیں، اُدھر کٹھی میٹھی چٹنیاں، مربے اور اچار ہیں اور ساتھ ہی پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں سجی ہوئی ہیں۔ بھیڑ بھاڑ ہے اور کئی لوگوں کے پاس مختلف قسم کی اشیائے خور و نوش ہیں۔ آپ شہر کے کسی بھی مارکیٹ، گاؤں یا قصبے کی ہٹیوں پر نظر ڈالیں، خوش حال لوگ رنگ رنگ کی اشیائے افطاری لے جارہے ہوں گے جب کہ متمول لوگ عموماً گاڑیوں میں اشیائے خوراک سے لدھے پندھے گھروں کو لوٹ رہے ہیں، لیکن اس کے برعکس ہمارے اسی معاشرے میں سفید پوش لوگ، مفلوک الحال، غریب، یتیم اور بیوائیں بھی ہیں جن کے ہاں بہ مشکل دو وقت کی سوکھی روٹی میسر ہوگی۔ چوں کہ روزے کامقصد ہی احساس تکلیف اور فلسفۂ تقویٰ، دل کی پرہیز گاری اور باطنی صفائی ہے، لہٰذا علم النفس کی رو سے جو شخص خود بھوکا پیاسا نہ ہو، تو اُسے دوسروں کی بھوک اور پیاس کی تکلیف کا احساس کیوں کر ہو؟ تو اسلام نے جب روزہ فرض کیا ہے، تو اس کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ خود بھوک پیاس کی تکلیف سہہ کر دوسرے بھوکے پیاسے کی تکلیف کا احساس ہو۔ پس روزہ اسی احساس کو زندہ کرتا ہے اور احساس ہم دردی اور ترحم کے جذبات کو اُبھارتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ مسلمان کو سخت کوشی اور مشکلات کا ایسا عادی بناتا ہے کہ میدان جنگ میں بھوک پیاس کی اذیت سہ کر دشمن کے خلاف مستقل مزاجی سے لڑے۔
ہمارے کالم کا مقصد روزے کے اس فلسفہ کو واضح کرنا ہے کہ خود بھوک پیاس کی تکلیف کا احساس کرکے دوسرے بھوکوں پیاسوں کی خبر گیری کی جائے۔ ماہِ رمضان، روحانی بہار کا موسم ہے۔ اس ماہِ مبارک میں رحمت خداوندی کی پھوار برستی ہے اور ہر مسلمان اس ماہِ مبارک میں رضائے الہٰی اور حصولِ ثواب کے لیے عبادت میں مصروف رہتا ہے۔ اس مہینے میں عبادات کا کئی گنا ثواب ملتا ہے جب کہ ہمارے معاشرے میں بیش تر مخیر حضرات ماہِ رمضان میں زکوٰۃ دیتے ہیں، جو اچھی بات ہے۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ خوش حال مسلمانوں کا بھاری دستر خوان عموماً پوری طرح نہیں کھایا جاتا بلکہ کافی اشیائے خوراک بچ کر ضایع ہوجاتی ہیں، یہ سراسر اسراف اور تبذیر ہے۔ لہٰذا افطاری دسترخوان زاید از ضرورت نہ ہو اور یہ رقم یا اشیاء غریبوں اور مساکین کو دی جائیں۔ سماجی تنظیمیں، مخیر حضرات کے مالی تعاون سے افطاری دستر خوان کا اہتمام کریں۔
آنحضرتﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو بڑا ثواب عطا کرے گا، جو دودھ کی تھوڑی سی لسی یا پانی کے ایک گھونٹ سے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرادے یا کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلادے، تو اللہ تعالیٰ حوضِ کوثر سے اس کو ایسا سیراب کرادے گا کہ اس کے بعد اُسے بھی پیاس نہیں لگے گی، تاآنکہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔‘‘
چوں کہ روزہ ہمیں صبر و شکر اور دوسروں کے ساتھ ایثار کا درس دیتا ہے، اس لیے اس ماہِ مبارک میں زیادہ کھانوں کی تلاش کی بہ جائے اللہ اور اس کی مخلوق کی رضا کی تلاش میں مصروف ہونا چاہیے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
780 total views, no views today


