گرمیوں کے موسم میں بنوں بازار سرِشام رانبیل کے پھولوں کی خوش بوؤں سے معطر ہوجاتا ہے۔ بچے، جوان اور بوڑھے گھروں سے باہرنکلتے ہیں۔ کھیل کودہوتا ہے۔ گہما گہمی ہوتی ہے۔ میلے کا سا سماں بند جاتا ہے اور اسٹریٹ شاعر وں کے دلوں کی اتھاہ گہرائیوں سے ’’آٹو پویٹری‘‘ پھوٹ پڑتی ہے، جیسے
دَ بنوں مازیگر پہ ما اشنا لکہ گبین لگی
سہ رنگین رنگیں لگی
اوخاندہ جانانہ ستا پے سہ لگی
لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، خیر خبر لیتے ہیں، گپیں ہانکتے ہیں اور ’’ثوبتیں‘‘ اُڑاتے ہیں۔ ’’ثوبت‘‘ یاشاید ’’صحبت‘‘ یہاں کی مشہور ون ڈش پارٹی ہوتی ہے۔ ثوبت کیسے ہوتی ہے؟ اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا قطعاً وقت نہیں۔ ابھی تو ثوبت کے اُس ’’خانک‘‘ پر ٹوٹ پڑنے بلکہ حملہ کرنے کا وقت ہے جو ہمارے سامنے سجایا گیا ہے۔ یاد رکھیں، ثوبت اتنا کھائیں کہ بعد میں یہاں کا مشہور ذایقہ دار حلوہ بھی چکھ سکیں۔ کوئی بنوں آئے اور یہاں کا ’’مازیگر‘‘ انجوائے نہ کرے اور ثوبت نہ کھائے، تو اُس کو چاہیے کہ دوبارہ آئے اور یہ دو کام کرکے جائے، تب وہ بنوں کا ’’کوالی فائیڈ ویزیٹر‘‘ ہوگا۔
بے روزگار لڑکے بازار جائیں،تو بنوں کے بابائے روزگار کی دکان پر ضرور حاضری دیں اور دنیا جہاں کی خالی آسامیوں کے اشتہارات دکان کے سامنے آویزاں اور بورڈز پر چسپاں دیکھیں اور فوری اپلائی کریں۔ بنوں میں دوستوں کے ساتھ ایک نشست ہوئی، تو حیرت ہوئی کہ اردو میں ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ بنوچی اور یوسف زئی پختو کی بول چال میں اچھا خاصافرق ہے۔ ٹریجڈی یہ ہے کہ پختو کی درسی کتب تو یوسف زئی زبان میں ہیں، جس کو یہاں سکھانے کا نظام موجود نہیں، اگر کہیں ہے بھی، تو شاید بہت محدود۔ یہاں پر کوئی باقاعدہ اخبار نہیں نکلتا۔ بس کبھی کبھار ہفتے مہینے میں ایک بار اشتہاری بیان بازی کے واسطے اردو کے دو چار چھوٹے صفحات کا اخبار سا چھپ جاتا ہے۔ وہ بھی کوئی خریدنے کی زحمت نہیں کرتا۔ اکثر مفت میں دیا جاتا ہے۔ یہاں کی سڑکیں اب پکی اور کھلی ہیں۔ اچھی بات ہے کہ اکرم خان دُرانی نے اپنے ’’عہدِ سلطنت‘‘ میں سڑکوں اور تعلیمی اداروں پر خاصی توجہ دی۔
بنوں کے لوگ کبوتر بہت شوق سے پالتے ہیں۔ جس گھرکے سامنے یا چھت پر لٹکے ہوئے تار نظر آ جائیں، تو سمجھوکہ یہاں کبوتر پالنے کے شوقین موجود ہیں۔ کبوتر کی نسلوں، پیداوار، عادات و اطوار اور آؤبھگت بارے معلومات حاصل کرنی ہو، تو کسی کبوتر والے کے ٹھکانے کا راستہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ بس ’’تار دیکھو اور تار کی دھار دیکھو‘‘۔
بنوں کے بھر پور بازاروں میں ہم نے برقعوں کی دکانیں بھی دیکھیں لیکن برقعے والیاں نہیں ۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ بنوں میں جب خواتین نہیں، تو گھر کی زینت کیا شے ہوتی ہے؟ تو اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں خود اپنے میزبانون سے پتا کرنا پڑے گا۔ ہم نے بجلی کے کھمبے اور ٹرانس فارمرز بھی جا بہ جا دیکھے لیکن بجلی نہیں دیکھی۔ ویسے بجلی آتی بھی ہے جب واپڈا کو خواہ مخواہ کھجلی ہو جائے یا کھجلی دلائی جائے۔ بنوں کی باتیں تو بہت ہیں کرنے کی لیکن یہاں اتنی ہی کافی سمجھیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی اپنی مہمان نوازی کی برکت سے مالا مال کرنا ہے نا۔
اگلے دن دوپہر ،بنوں کو خدا حافظ کہتے ہیں اور ہائی وے کے ذریعے سیدھا ڈیرہ کی طرف دوڑتے ہیں۔ ڈھائی تین گھنٹوں کا صحرائی اور چٹانی سفر، سچ مچ احساس دلاتا ہے کہ ہم مسافر بننے جا رہے ہیں۔ اسی اثناء میں ہم فیزو سے گزرتے ہیں۔ سیمنٹ کا مشہور کارخانہ ’’لکی سیمنٹ‘‘ یہاں پر واقع ہے۔ جہاں ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار میسر ہے۔ فیزو سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر سیاحتی مقام شیخ بدین واقع ہے، لیکن پکی سڑک اور دیگر سیاحتی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ خوب صورت علاقہ سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے اور آیندہ بھی اوجھل رہے گا۔ شیخ بدین میں ایک نیشنل وایلڈ لایف پارک بھی ہے۔’’یہاں بارودی مواد کا استعمال منع ہے، ڈھور ڈنگر چَرانا منع ہے، پتھر، قیمتی معدنیات چُرانا منع ہے، منشیات کا استعمال منع ہے، یہاں تک کہ شورو غل مچانا بھی منع ہے۔ اور یہ کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔‘‘ یہ ہم نہیں کہتے ڈی ایف او وایلڈ لایف ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن ایک نوٹس بورڈ پر لکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ یہ نوٹس ہم نے خود نہیں دیکھا۔ ایک دوست نے اس کی تصویر دکھائی۔ ایسے میں آدمی ’’شیخ بدین‘‘ جائے، تو کیوں جائے؟ لہٰذا ہم نے یہ غلط ارادہ ملتوی کیا اور اپنی منزل کی جانب بڑھنا شروع کیا۔ جہاں اونٹ دیکھو، تو شک کرو کہ آس پاس ڈیرہ کا شہر ہوگا۔ کھجور کے درخت بھی دیکھو، تو شک کو یقین میں تبدیل کرلو کہ یہ ڈیرہ کے آثار ہیں۔ ڈھکی، ڈیرہ ہی کا علاقہ ہے جہاں کی کھجور کوالٹی کے لحاظ سے مڈل ایسٹ، امریکہ اور یورپ میں مشہور ہیں اور علاقے کی معیشت میں اس کا بڑا واضح کردار ہے۔ پتا نہیں شاعرلوگ اس کو طعنے کیوں دیتے ہیں؟
ساجن ایسی پریت نہ کریو، جیسی لمبی کھجور
دھوپ لگے تو چھاؤں نہیں، بھوک لگے پھل دور
دریائے سندھ کے کنارے آباد ڈی آئی خان شہر، ایک طرف سے پنجاب کے دو شہروں، ڈیرہ غازی خان اور بھکر میں جھکڑا ہوا ہے، تو دوسری جانب جنوبی وزیرستان اس کے کندھے سے کندھا ملاتا ہے۔ تیسری طرف ٹانک اور لکی مروت اس کی باؤنڈریز کو مزید پھیلنے سے روکتے ہیں۔ شہر میں داخل ہونے سے پہلے بتا دیتے ہیں کہ ڈیرہ کی مشہور سوغات ’’سوہن حلوہ‘‘ ان دنوں کھانے کی ضد نہ کریں۔ گرمیوں کے موسم میں احتیاط ضروری ہے۔ یہ آپ کے نظامِ انہضام اور اعصاب کے نظامِ صبرکا کڑا امتحان ہے۔ مرضی ہے تو نظامِ انہضام کا امتحان دیں یا دل کرے، تو نظامِ صبر کا امتحان لیں۔
ڈیرہ میں بھی بلدیاتی انتخابات کا میلہ موجوں پر ہے۔ وہی پرانی سرگرمی نہ دیکھنے کے واسطے ہم آنکھیں بند کر دیتے ہیں اور دریابہ (دریائے سندھ) کی طرف نکلتے ہیں۔ یہاں سرِ شام محبت کے پیاسے دریابہ کے دیدار کی آڑ میں ایک دوسرے کا دیدار کرنے جاتے ہیں۔ دریابہ اب تعمیرات کی ضد میں ہے۔ اس لیے اس کی خوب صورتی اور خمار معدوم ہو رہے ہیں۔ گندم، گنا اور چاول یہاں کی عام فصلیں ہیں۔ یہاں پر جتنی زمین آباد ہے، اس کی پانچ گنا غیر آباد ہے۔ کوہاٹ سے ڈیرہ تک لاکھوں ایکڑبے کار زمینیں پڑی ہوئی ہیں۔ اگر اس کو پانی مل جائے، تو یہ پورے پختون خوا کا ’’فوڈ باسکٹ‘‘ بن سکتا ہے، لیکن حکم رانوں کو خوراک کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ تو اپنے لیے سات سمندر پار سے تمام خوردنی نعمتیں منگوا سکتے ہیں اور منگوائیں کیوں؟ خود کیوں نہ جائیں اور وہاں کے ہو جائیں۔
دو ہزار چار کاڈیرہ دو ہزار ہ پندرہ کے ڈیرہ اسماعیل خان میں گم ہو گیا ہے۔ ہم تو اسی روڈ پر واقع اپنے پرانے ٹھکانے کا راستہ تک بھول جاتے ہیں ۔
ڈیرہ کا دیہی پن اب شہری پن میں ڈھل گیا ہے۔ یہاں سب کچھ بدل گیا ہے۔سوائے قیوم کے دو سوا دومرلے کرائے کے ٹھکانے کے، جس کو گیارہ سال کے موسمیاتی بحرانوں نے مزید ضعیف کر دیا ہے۔ آٹھ بچیوں کا باپ مع ایک بیوی کا شوہر، دو عہدوں پر فایز ’’قیوم‘‘ خود بھی ضعیف ہونے کو پہنچاہے۔ غربت کے باوجود اپنی تمام بچیوں کو با قاعدہ اسکول و کالج بھیجتا ہے۔
قیوم کا کام اب لوگوں کو ’’ورغلانا‘‘ رہ گیا ہے۔ وہ بیوی کو اچھے کل کی اُمید پر ورغلاتا ہے۔ بچیوں کو تعلیم اور اچھے رشتوں کے امید پر ورغلاتا ہے۔ دکان دار کو قرض کی واپسی جلدممکن بنانے کی اُمید پر ورغلاتا ہے۔ بھوکے پیٹ کو جی بھر کر کھانے کے خیال پر ورغلاتا ہے۔ وہ سونے کے لیے آنکھوں کو ورغلاتاہے۔ خیالی خوشی کے لیے دماغ کو ورغلاتا ہے ۔
امیدوں کی ناکام ایجادات نے پچاس سالہ قیوم کواُمیدوبیم کی کیفیات کا ’’اِڈیکٹ‘‘ بنا دیا ہے۔ چلیے، اس موقع پر ایک بار پھرفیض صاحب کو ملاحظہ کیجیے
چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں، ا فسانے، مہتاب، تمنائیں
کچھ اُلجھی ہوئی باتیں، کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
(جاری ہے)
1,164 total views, no views today


