آج کی میری یہ تحریر موبایل فون کے حوالے سے ہے۔ جہاں یہ انسان کی تخلیق کردہ تیز ترین ایجاد ہے جو انسانوں کے لیے کم ٹایم میں ایک دوسرے سے رابطے کا تیز ترین ذریعہ ہے، وہاں پہ یہ درد سر بھی بن گیا ہے۔ پوری دنیا میں مہنگے ترین سیٹ ہاتھوں کی زینت بنتے جا رہے ہیں، جتنا اچھا فون اتنا ہی شخصیت کا اثر نظر آتا ہے۔ یہ ایجاد تو صرف اس لیے کی گئی تھی کہ اپنے پیاروں کی خبر گیری ہو، خدا نہ کرے کوئی حادثہ پیش آئے، تو بروقت امدادنصیب ہو، جو کام آفس میں گھنٹوں میٹنگ کی نذر ہوتا ہے، ایک ایس ایم ایس سے باس کی اگلی اساینمنٹ کا پتا چل جاتا ہے۔
اس طرح اس ایجاد سے انسان چاہے دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو، اُس کے سچ اور جھوٹ کا پتا چل جاتا ہے، مثلاً اگر ورکر کہتا ہے کہ میں گھر سے باہر ہوں، تو آج کل ایسے فون سیٹ موجود ہیں جو لوکیشن بتا دیتے ہیں اور یوں آدمی کا جھوٹ فوراً پکڑا جاتا ہے۔ بات چھپانا مشکل ہے۔ ہر کوئی فون سیٹ کے ساتھ چپکا نظر آتا ہے۔ بچوں کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ والدین کے لیے درد سر اور اذیت سے کم نہیں۔ ماں باپ اس لیے بچوں کو موبایل سیٹ لے کر دیتے ہیں کہ جو بچے گھروں سے دور ہیں، وہ رابطے میں رہیں۔ لیکن پھر اس کا غلط استعمال شروع ہوجاتا ہے۔ لڑکے رات بھر لڑکیوں سے باتیں کرتے ہیں۔ تعلیم کا نقصان، ماں باپ کی کمائی کا نقصان، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میری التجا ہے کہ خدا کے لیے یہ موبایل فون بہت ساری زندگیوں کا قاتل بنتا جا رہا ہے۔ ایسا سسٹم فون میں رکھا جائے کہ اگر فون سیٹ کوئی اسٹوڈنٹ خریدتا ہے، تو اُس کی پوری تفصیلات لی جائیں، وہ کیا پڑھتا ہے، اُس کی عمر کتنی ہے؟ وہ کیا مضمون پڑھتا یا پڑھتی ہے؟ اُس کے ماں باپ کون ہیں، بہن بھائی کتنے ہیں
684 total views, no views today


