سنگوٹہ میں سکول استاد سے نادانستگی میں چلنے والی گولی سے شہید ہونے والے بچے کے والد کے ساتھ راضی نامہ ہوگیا، شہید طالب علم معاذ کے والد نے استاد کے خاندان سے ایک کروڑ روپے راضی نامہ میں مانگے تھے لیکن استاد کے والد کی طرف سیعلماء ،سیاسی و سماجی مشران نے جرگہ کیا لیکن شہید کے والد نے جرگہ کی بجائے ذاتی بات چیت پر ترجیح دی۔
جس کے بعد مینگورہ دارالعلوم کے مہتمم مفتی سردراز فیضی نے شریعت کے مطابق فیصلہ دیتے ہوئے معاذ کے والد کو دیت میں پندرہ لاکھ روپے ادا کرنے کو کہا۔ جس کے بدلے میں سکول ٹیچر کو رہا کردیا گیا،یاد رہے پولیس انوسٹی گیشن ٹیم سمیت کئی حساس اداروں نے تفتیش کے بعد واقعہ کوقطعی طور پر اتفاقیہ قرار دیا تھا مگر مقتول طالب علم کے والدسپیشل فورس پولیس اہلکار سردار نے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔تفصیلات کے مطابق کچھ دن پہلے سنگوٹہ میں واقع ایک نجی سکول کے ٹیچر سے غلطی سے گولی چل گئی تھی جس سے سکول کا طالب علم معاذ جاں بحق ہوگیا تھا واقعہ کے بعد سکول استاد ماجد نے بچے کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جہاں پر جاں بحق ہونے کے بعد اس نے خود کو پولیس کے حوالہ کردیا تھا۔پولیس نے جاں بحق ہونے والے بچے کے والد سپیشل فورس پولیس اہلکار سردار سکنہ سنگوٹہ کے کہنے پر سکول استاد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کردیا تھاجبکہ ڈی پی او سوات، پولیس انوسٹی گیشن ٹیم،سکول انتظامیہ سمیت عام لوگ اس واقعہ کو اتفاقیہ قرار دے رہے تھے۔گزشتہ د نوں سکول استاد ماجد کے گھر والوں نے علاقہ کے سیاسی و سماجی مشران اور علماء کا ایک جرگہ سردار کے پا س بھجوایا جس میں اس نے ایک کروڑ روپے تاوان ادا کرنے کی صورت میں راضی نامہ کرنے کی حامی بھری تھی تاہم بعد میں مینگورہ دارالعلوم کے مہتمم سردراز فیضی، سوات ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کے سینئر ممبر حاجی رسول خان اورشہید طالب علم معاذ کے خاندان کے مشران کی کوششوں سے معاملہ پندرہ لاکھ روپے میں ختم کردیا گیا اور استادماجد جوکہ خود بھی دسویں جماعت کا طالب علم تھا، کے والد نے سردار کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج/اضافی ضلع قاضی سوات کے سامنے پندر لاکھ روپے دے دےئے جس پر سردار نے اپنا مقدمہ واپس لے لیا جبکہ سکول استاد کوراضی نامہ ہونے کے بعد تیمر گرہ جیل سے رہا کردیا گیا ہے
293 total views, no views today


