ہمارے ہاں پرانے زمانے میں دو نقشے مروج تھے۔ پہلا نقشہ ایک تخمینے اور مشاہداتی اندازے سے بنایا گیا تھا۔ دوسرا نقشہ مولانا فضل محمد صاحب کا ہے جو تحقیق اور طویل مشاہدے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔یہ نقشہ تیار کرنے کے بعدجب اہل علم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو سب نے مولانا فضل محمد صاحب کی دیانت پر اعتماد کا اظہار کیا اور نقشے کو تمام فقہی اصولوں کے مطابق پایا۔ ایک دور میں آج کی طرح سحری کے اوقات میں دونوں مروجہ نقشوں کا اختلاف سامنے آیا۔ اس وقت کسی نے جامعہ دارالعلوم کراچی ۱۴ کے دارالافتاء کو ایک استفتاء ارسال کیا جس میں دونوں نقشوں کے بابت یہ دریافت کیا گیا تھا کہ سحری بند کرنے میں اوقات کا جو اختلاف دونوں نقشوں میں پایا جاتا ہے، اس میں کس قول پر عمل کیا جائے؟
یہ استفتاء اور اس کا جواب یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’’کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں علاقۂ سوات میں مختلف نقشہ ہائے اوقات نماز رایج ہیں،جس میں ایک دوسرے کے درمیان خاصا تفاوت ہے۔ مثلاً ایک نقشہ جو مولانا فضل محمد کا ہے، اس نقشہ کے جون کے مہینے میں طلوع فجر تین بج کر چودہ منٹ پر ہوتا ہے جب کہ ایک دوسرا نقشہ جو سوات کے بالائی علاقوں میں رایج ہے، اس میں جون کے مہینے کا طلوع فجر تین بج کر بتیس منٹ پر ہوتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر پہلا والا نقشہ صحیح ہے، تو دوسرے والے نقشے پر مثلاً روزہ رکھنے والا طلوع فجر کے بعد بھی اٹھارہ منٹ تک کھاتا رہے گا۔ اس لیے عرض ہے کہ آپ صاحبان اس نازک مسئلہ میں ہماری صحیح راہنمائی فرمائیں۔‘‘
اب جامعہ دارالعلوم کراچی کی طرف سے جواب ملاحظہ فرمائیں: ’’شریعت میں نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کے لیے اصل مدار مشاہدہ ہے۔ اگر مشاہدہ سے صحیح اوقات معلوم ہوجاتے ہیں، تو کسی نقشے یا حسابی عمل کی ضرورت نہیں اور اگر تجربہ سے کسی نقشے کا مشاہدہ کے مطابق ہونا ثابت ہوجائے، تو اس نقشے پر عمل کرنا بھی جایز ہے۔ اور تجربہ یہی ہے کہ اگر احتیاط سے حسابی عمل کر کے نقشہ بنایا جائے، تو وہ عموماً مشاہدہ کے مطابق ہوتا ہے۔ اس تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ استفتاء کے ساتھ منسلکہ تین نقشوں پر ہم نے غور کیا اور 72.22 طول بلد اور 34.46 عرض بلد کے اعتبار سے جنوری، فروری، جولائی اور اگست کے یکم تاریخ کے فجر کے وقت کی ہم نے خود تخریج کی۔ یہ تمام اوقات مولانا فضل محمد کے نقشے کے مطابق نکلے۔ کہیں کہیں ایک منٹ کا فرق نکلا، لیکن ایک منٹ کا فرق نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ یہ معمولی فرق ہے۔ نیز فضل محمد صاحب کا نقشہ اُسی نقشے کے بھی مطابق ہے جو پروفیسر عبداللطیف صاحب نے سوات اور مینگورہ کے لیے تیار کیا ہے۔ اور ماہر فلکیات جناب سید شبیر احمد کاکاخیل نے مینگورہ کے لیے جو نقشۂ نماز اور نقشۂ سحر وافطار مرتب کیا ہے، وہ بھی مولانا فضل محمد کے نقشے کے مطابق ہے۔ لہٰذا ہم مولانا فضل محمد صاحبؒ کے تیار کردہ نقشہ کی تصدیق کرتے ہیں۔ اہلیان ضلع سوات ،مینگورہ مولانا فضل محمدؒ کے نقشہ کے مطابق عمل کرسکتے ہیں۔ البتہ سحری اور افطاری میں تین منٹ کی تاخیر بہتر ہے۔‘‘
اس فتوے پر تمام اکابر دارالعلوم کراچی۱۴ اور سوات کے مایہ ناز عالم دین ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئیؒ کی تصدیقی دست خط اور مہر ثبت ہیں۔ اس گراں قدر فتوے اور تحقیق کے بعد کسی کو اختلاف کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ تحقیق میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں ہوتی۔ اور کسی علاقے میں اوقات کا اختلاف یا اوقات کی تحقیق کوئی منصوص علیہ امر نہیں ہے، اس میں لازمی تحقیق ہوسکتی ہے۔سو اس ضمن میں اگر کسی کی کوئی نئی تحقیق ہو اور وہ کسی نتیجے پہ پہنچ گیا ہو، تو انھیں صفحات پر اس کو سامنے لائے۔ ہوسکتا ہے سحری میں پھیلے اس انتشار کا ازالہ ہوجائے۔
رمضان قدرت کا ایک بے بہا تحفہ ہے، جو اس امت کو عطا کیا گیا ہے۔ اس برکتوں والے مہینے میں اتفاق، باہمی ربط اور خیر کے کاموں کو فروغ دینا چاہیے۔ آپس کے اختلافات اور مجتہد فیہ مسایل میں حد سے زیادہ سختی اور انانیت اس درماندہ و بے مایہ قوم کے لیے کسی صورت بھی مفید نہیں۔ مسلمانوں کو مل بیٹھ کر اپنے تمام مسایل کا حل نکالنا چاہیے۔ جہاں کسی کو تحفظات ہوں یا کوئی کسی بات سے مطمئن نہ ہو، تو بلا دھڑک ذمہ دار حضرات اور علماء سے رابطہ کرے۔ ہر مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو آواز دینا بھی کوئی مناسب رویہ نہیں۔ پس قوم کے سرکردہ افراد کو سامنے آنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سیاسی اور مذہبی اختلافات کو کم کرنا چاہیے۔
6,528 total views, no views today


