کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے گاؤں میں بڑا عالم دین کون ہے؟ اس نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ بڑا عالم دین تو میرے بڑے بھائی ہیں، البتہ لوگ میرابھی نام لے رہے ہیں۔ا س آدمی کا بڑا پن کہ اپنے نام سے پہلے بڑے بھائی کانام تو لیا، مگرہمارے ہاں تو دوسروں کی تعریف کرنے کا رواج ہی نہیں۔
کہتے ہیں کہ سیاست دان قوم کے راہنما ہوتے ہیں جو قوم کی قیادت کرتے ہوئے معاشرہ کی تعمیر وترقی اوراپنی قوم کو خوشحال اور مہذب بنانے کے لیے معین کردہ راہنما اصولوں کے مطابق لے کر چلنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں اور مذہب ومسلک، عقیدہ، تاریخ، معاشرتی روایات، اخلاقی اقدار، قومی جذبہ پر مبنی اجتماعی سوچ، قومی مفادات، محنت ولگن، قانون کی پاس داری، تعلیم کے فروغ، فلسفۂ عدم تشدد، ریاستی اداروں کے استحکام، قومی املاک کے تحفظ اور پُرامن معاشرہ کی تشکیل کا درس دیتے ہیں۔ قومی راہنما قومی جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں جو نہ صرف حصول اقتدار کے لیے جتن کرتے ہیں بلکہ توانا، مہذب اور خوشحال معاشرہ کی تشکیل کے لیے قوم کی اخلاقی تربیت کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے، جو اس اَمر کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان کے کردار و گفتار میں تضاد کی گنجایش نہیں ہوگی اور وہ قول وفعل کا یکساں عملاً مظاہرہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس رو سے دیکھا جائے، توترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے، وہاں قوم کی قیادت کرتے راہنما نہ صرف قوم کو ریاست کے آئین و قانون کی پاس داری کا درس دیتے ہیں بلکہ خود بھی عملاً اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ حصول اقتدار ان کے سیاسی سفر کاایک پڑاؤ ضرور ہوتاہے مگر بہ طور حکم ران وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے سامنے منصب اقتدار کی کوئی حیثیت واہمیت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ نااہلی پر مبنی کوئی بھی حادثہ اور واقعہ رونما ہونے پر وہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوراً مستعفی ہو جایاکرتے ہیں نہ کہ دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مغربی معاشرہ میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں تو جو جیتا وہی سکندر کے مصداق سیاسی سفرکی منزل محض حصول اقتدار ہوتی ہے اور حصول اقتدار و اختیار کے متلاشی سیاست دان کچھ بھی کر گزر جاتے ہیں۔ ہمارے سیاسی لیڈرز اپنی سیاسی ساکھ کی بہتری مخالفین پر جھوٹے الزام و بہتان لگانے اور قوم سے جھوٹے وعدے کرنے میں ہی تلاش کرتے ہیں۔ توانائی بحران کاخاتمہ اور بنائیں گے نیا خیبرپختون خواکے وعدے اس کی زندہ مثالیں ہیں۔
نواز شریف کی حکومت توانائی بحران ختم کرنے میں کامیاب رہی نہ عمران خان کی صوبائی حکومت دو سال میں خیبر پختون خواکے اندرمثالی امن وامان کے قیام اورمعاشی انقلاب لانے کے وعدے پورے کرسکی۔ بے قابو مہنگائی اور بڑھتی بے روزگاری کی صورت حال وفاقی اور صوبائی سطح پر یکساں دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے ہاں حکومت کی نااہلی، اداروں کی غفلت و لاپروائی اور ناقص کار کردگی کے باعث حادثات اور ناخوش گوار واقعات رونما ہونے پر حکم رانوں کامنصب اقتدار سے الگ ہونا، توکجا، ذمہ داری قبول کرنے اور قوم سے معافی مانگنے کی بھی کوئی روایت نہیں ہے۔
کراچی میں مختلف فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے جن میں درجنوں قیمتی جانیں ضایع ہوگئیں مگر کوئی حکم ران مستعفی نہیں ہوا۔ سانحۂ ماڈل ٹاؤن میں چودہ شہریوں کا قتل ہوا مگر حکم ران مستعفی ہوئے نہ ہی ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ حادثات کے نتیجے میں اموات اور شہادتوں پر حکم رانوں کی جانب سے افسوس کے دوبول کہہ دینے سے کیا ہوتا ہے؟ اس سے زیادہ افسوس کا اظہار تو قوم کر دیتی ہے، حکم رانوں کاکام توذمہ داری قبول کرنا اور اقدامات کرنا ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے، تو پل کی خستہ حالی ہو، متعلقہ اہل کاروں کی غفلت کانتیجہ ہو یاممکنہ دہشت گردی، مگر گوجرانوالہ میں حالیہ پیش آنے والاافسوس ناک ٹرین حادثہ جس میں خواتین، بچوں اور فوجی جوانوں پرمشتمل ڈیڑھ درجن سے زایدشہادتیں ہوئیں، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیراعظم نوازشریف میں سے کسی ایک نے استعفا دیا نہ ہی اپنی حکومتی نااہلی کی ذمہ داری قبول کی، حالاں کہ رونماء ہونے والے اس واقعہ کا سبب جو کچھ بھی ہو ذمہ داری، تو بہ ہرصورت حکم رانوں پر ہی عاید ہوتی ہے۔ شدید گرمی، بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ اور اسپتالوں میں ناقص انتظامات کی وجہ سے شہر قایدمیں ہیٹ اسٹروک کے باعث بارہ سو سے زاید معصوم شہریوں کی جانیں گئیں مگرحکم رانوں پر اس کاکوئی بھی اثرنہیں ہوا۔ بے حسی کی انتہاء دیکھیے کہ ذمہ داری قبول کرنے اور مریضوں کی جان بچانے کے لیے اقدامات کرنے کی بہ جائے سندھ حکومت، وفاقی حکومت اورکے الیکٹرک کے حکام ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے، ہمارے ہاں قایم جمہوری نظام میں حقوق اور قومی مفادات کی بات توکی جاتی ہے لیکن سیاسی اداروں میں برداشت اور دوراندیش پالیسیوں کی کمی بھی بہ درجہ اتم پائی جاتی ہے۔
ہٹ دھرمی پرقایم سیاسی جماعتیں مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کاراستہ اپناتی ہیں مگر اس احساس وادراک سے عاری ہوتی ہیں کہ معاشی و معاشرتی ترقی پر اس کے کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے؟ اس ضمن میں دیکھاجائے، تو پچھلے سال انتخابی دھاندلی کے خلاف شہراقتدار اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے واضح مثال ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دھرنوں کی سیاست نے ملک وقوم کومعاشی نقصان سے دوچار کیا۔ یہاں سیاسی مخالفین کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے اپنی سیاست توچمکائی جاتی ہے لیکن ان کے بڑے سے بڑے اچھے اقدامات کی کبھی کوئی تعریف نہیں کی جاتی، یہی وجہ ہے کہ سیاسی منافرت اور تعصب فروغ پا رہا ہے، حالاں کہ ناقص پالیسیوں کی جہاں مخالفت کی جانی ضروری ہے وہیں اچھے اقدامات کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔
اگر نون لیگ کی حکومت نے ایٹمی دھماکے کیے جو ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر تھے، موٹر وے بنایا، لاہور اور اسلام آباد میں میٹرو بس منصوبوں کوعملی جامہ پہنایا، پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبہ شروع کیا، تویہ ملک و قوم کے مشترکہ مفاد کے منصوبے ہی تو ہیں اور ان پر ان کی تعریف ہونی چاہیے۔
دوسری جانب اگر عمران خان انتخابی اصلاحات کی بات کرتے ہیں جو کہ ملک کے جمہوری نظام اور سیاسی اداروں کے استحکام کے لیے ضروری ہے، توبے جا مخالفت کی بہ جائے ان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ جب ہماری ایسی سیاسی سوچ فروغ پائے گی، تب ملک و قوم صحیح معنوں میں ترقی وخوش حالی کی راہ پر گام زن ہوگی۔
750 total views, no views today


