آج تک میرا خیال تھا کہ پاکستانی بڑے باہمت صبر والے اور جفاکش لوگ ہیں۔ ’’دی گیپ‘‘ کی کہانی میری طرح آپ کوبھی اس بات کا یقین دلا دے گی کہ یہ خیال نہیں ایک حقیقت ہے۔ ہمارے ہاں کبھی کبھار کوئی خود کشی کا واقعہ پیش آتا ہے۔ حکومت مار پالیسیوں کو الگ رکھ دیں، ان کے علاوہ جو ٹرین کے آگے کود جانے یا پنکھے سے لٹک کر خود کشی کے یا کسی اسلحے کی مدد سے زندگی کا خاتمہ کرنے کے واقعات کم ہیں۔ شائد اسی لئے جب بھی کوئی واقعہ رونما ہو تاہے، تو اسے ہر اخبار کے مین پیج پر جگہ مل جاتی ہے۔ انٹر نیٹ کی پھرولا پھرالی کے دوران ایک انتہائی دل کش پہاڑی جس کے سرے پر سمندر جھول رہا تھا، نظر پڑی۔ٹائٹل دی گیپ لکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک جھریوں زدہ بوڑھے کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ سب سے اینڈ میں بوڑھے کے نام کے ساتھ اینجل آف دی گیپ لکھا ہوا تھا۔ ہم پاکستانی بڑے سرسری قسم کے لوگ ہیں۔ اسی سر سری پن میں گزر کر میں بھی انٹر نیٹ کی چکا چوند میں گم ہوگیا، لیکن کچھ دیر بعد وہ تصویر پھر میری موبائل اسکرین پر تھی۔ ذرا مزید غور سے تصویر کے نیچے درج لائنیں پڑھیں، تو کسی ساحلی چٹان اور اس بوڑھے کے نام کے ساتھ ایک سو ساٹھ زندگیوں کا ’’سیور‘‘ کا لفظ لکھا تھا۔ میرے اندر کا خبروں سے بے زار کھوجی جاگ اٹھا۔ خبر بجلی گیس پٹرول کی قلت سے ذرا مختلف تھی، سو میں نے گوگل کا در کھٹکھٹایا۔ پھر کیا تھا تمام معلومات سامنے تھیں۔ یہ ایک ساحلی پہاڑی، زندگی سے مایوس افراد اور ایک ریٹائرڈ بوڑھے کی کہانی ہے۔ ساحلی پہاڑی میں کوئی خاص بات نہیں۔ 1850ء کے اوائل میں یہاں ایک بحری جہاز چٹانوں سے ٹکراکر پاش پاش ہوگیا۔ ایک مسافر کے سوا باقی تمام افراد کو یا تو لہریں نگل گئیں یا شارک مچھلیوں نے اپنی خوراک بنا لیا بس اس کے بعد سے زندگی سے مایوس گوروں نے اپنے Sucide Point بنا لیا۔ یہ سڈنی کا بدنام خود کشی پوائنٹ ہے۔ اس پوائنٹ کی بدنامی کے ساتھ ڈونلڈ رچی کی نیک نامی جڑی ہے۔ رچی 1925ء میں پیدا ہوئے۔ رائل آسٹریلین نیوی میں کلرک کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے بعد انہوں نے لائف انشورنس جوائن کرلی۔ یہ دی گیپ پوائنٹ کے بالمقابل سڑک کے پار اقامت پذیر تھے ۔ اسی اقامت پذیری نے انہیں انسانیت کا نجات دہندہ بنا دیا۔ یہیں انکو موقع ملا کہ وہ زندگی سے مایوس بیزار آواز اور لوگوں کے آخری لمحات میں امید کی کرن جگا سکیں۔ ان کا فقرہ جو وہ ہر خود کشی کے متمنی فرد کی طرف اچھالتے اپنے اندر جادو اور لاتعداد معنی رکھتا ہے “Is there some thing I could do to help you?” یعنی کیا میں آپ کی مدد کے لئے کچھ کر سکتا ہوں؟ ان کے اس مختصر سے جملے نے زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی کھڑکی سے جب کسی مایوس نوجوان یا عورت کو دی گیپ کی طرف بڑھتے دیکھتے، تو وہ بھی اس کے پیچھے لپک کر جاتے اور اپنا جادوئی فقرہ ترکش سے نکا ل کر حدف کی طرف بڑھا دیتے۔ انہوں نے کئی ایسے لوگوں کی جان بچائی جو مقررہ پوائنٹ پر جاکر اپنے جوتے اتار کر پرس سائیڈ پر رکھ کر اور آخری نوٹ ساحلی چٹان پر چپکا کر ریڈی گو کے چکر میں تھے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس فرشتے نے ایک سو ساٹھ لوگوں کو سمندری شارکس سے بچا کر واپس انسانی گوریلوں کے جنگل میں انسانیت کی جنگ لڑنے کے لئے لا کھڑا کیا۔ان کی فیملی کے مطابق سرکاری اعدادوشمار کافی کم ہیں۔ فیملی کے مطابق رچی نے پچاس سالو ں میں کم از کم پانچ سو لوگوں کو زندگی کی طرف واپسی کی راہ دکھائی۔ تعداد سرکاری گنتی والی بھی کم نہیں اور تعداد فیملی کی گنتی کردہ بھی قابل تحسین ہے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ چہرے پر تحریر مدد کی عبارت پڑھ لیا کرتے تھے۔ ان سے ایک دفعہ کسی نے انٹرویو میں پوچھا کہ آپ یہ کرشمہ کیسے کر لیتے ہیں؟ تو ان کا جواب بڑا سادہ تھا کہ یہ سب کچھ کرنے کے لئے مسکراہٹ اور نرم الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی بچانے سے لیکر زندگی کو خوبصورت اور آسان بنانے تک ہر فیلڈ میں یہ نسخہ بڑا کارگر ہے۔ رچی کی زندگی بچاؤ کوششیں ہر بار کامیاب نہیں ہوتی تھیں۔ کئی دفعہ وہ ناکام بھی ہوجاتے۔ چٹان کے آخری سرے پر کھڑے کئی افراد نے ان کے مہربان لفظوں اور مسکراہٹ کی طرف توجہ دیئے بغیر Edgeسے چھلانگ لگا دی۔ بات صرف ان کی خدمات تک ختم نہیں ہوگئی، ان کی وفات سے پہلے 2011ء میں ان کو ’’دی لوکل ہیرو آ ف آسٹریلیا‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس سے پہلے 2010ء میں رچی اور ان کی بیوی مونا کو “Citizens of the year.” کا خطاب دیا گیا۔ یہ بہادر زندگی کی محبت سے بھرپور انسان 86 سال کی عمر میں 2012ء میں اس جہان فانی سے کوچ کرگیا۔ آسٹریلینز نے انہیں فراموش نہیں کیا۔ ان کی رہائشگاہ پر آج بھی ان لوگوں کے خطوط اور کارڈز آتے رہتے ہیں جن کو انہوں نے زندگی کے میدان میں واپس آنے اور پوری اننگز کھیلنے کی ترغیب دی ۔ حکومت نے دی گیپ کے علاقے میں لوگوں کی کونسلنگ کے لئے بوتھ بھی بنائے ہوئے ہیں جہاں سے کا ل کرکے وہ زندگی کا لیکچر لے سکتے ہیں۔ مونیٹرنگ کیمرے بھی لگائے ہوئے ہیں، خود کشی پوائنٹ پر آہنی جنگلے بھی لگے ہوئے ہیں، اس سب کے باوجود لوگ خوامخوہ زندگی سے تنگ ہیں۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ سب پڑھ کر میں مسکرائے بنا نہیں رہ پاؤں گا کہ یہ آسٹریلوی شہریوں اور ان کی نازک مزاجیوں کا بڑا بے ہودہ مظاہر ہ ہے۔ آسٹریلیا ایک ویلفیئر اسٹیٹ ہے۔ اس کے باوجود اگر وہاں لوگ زندگی سے اس قد ر تنگ ہیں، تو قصور ملک کا نہیں شہریوں کا اپنا ہے۔ ہم پاکستانی خطے کی گرمی، موسم کی بے رحمی، حکومت کی چالاکیوں اور مظالم کے باوجود ہر قسم کی زندگی جینے پر تلے ہوئے ہیں، تو یہ ہمارا کمال اور بہادری ہے۔ ہماری حکومتوں کے پاس عوام کو دینے کے لئے ہر دور میں جھوٹے لارے وافر مقدار میں دستیاب رہے ہیں ۔ عوام کو خود کشی پر مجبور کرنے کے لئے ان کی عجب کرپشن کی غضب ناک کہانی ہی کافی ہے۔ اس پر لوڈ شیڈنگ مہنگائی اور طرح طرح کے تحفے اضافی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی رچی جیسے لوگ ہیں جو لوگوں کی زندگیاں آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ عوام اور حکومت دونوں کا رویہ خاصا نازیبا ہے لیکن یہ ملنگ اللہ لوگ بھی دھن کے پکے ہیں جو نیت کرچکے ہیں، اسے قضا نہیں کر رہے۔ ایک دوسرے کا دکھ درد کم کرنا، زندگی آسان بنانا کچھ مشکل کام نہیں۔ آج بھی اگر ہم سب حکومت کو کوسنے، برا بھلا کہنے کی بجائے صرف مسکرانے کی عادت ڈال لیں اور اس مسکراہٹ کے ساتھ رچی کا فقرہ ’’کیا میں آپ کی کچھ مدد کرسکتا ہوں؟‘‘ ایڈ کرلیں، تو زندگیوں میں محبت ضرور در آئیگی جس کی ہمارے درمیان شدید کمی ہے۔ بات صرف حکومت سے بے زاری تک ہوتی، تو کچھ اور تھی، ہم اپنی زندگی، جاب، دوستوں، پڑوسیوں اپنے گردا گرد کی ہر شے ہر ذی رو ح سے حد درجہ بے زار ہیں۔ وجۂ واحد سخت الفاظ، نازیبا اور ناگوار جملے و تلخ لہجے ہیں۔ مسکراہٹ بھی ایک صدقہ ہے ۔ پاکستان کو نئی سڑکیں، نئے پل، نئے ڈیم تو پتا نہیں بدل پائیں یا ناپائیں لیکن دو صدقے ضرور بدل سکتے ہیں۔ ایک مسکراہٹ اور دوسرا شجرکاری۔ سبزہ ہماری آنکھوں کو طراوت تو دے گا ہی ماحول بھی صاف رکھے گا۔ ٍآئیے، اپنے اردگرد ایج پر کھڑے لوگوں پر نظر رکھیں ان کا خیال رکھیں ان کے لئے دی اینجل آف لائف بن جائیں ۔
728 total views, no views today


