سوات، پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ دارالقضاء کے دو رکنی بینچ نے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے بازاروں میں سڑکوں کی توسیع دکانات کو مسمار کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردی ، یہ رٹ سوات ٹریڈ فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم اور دوسرے ستر افراد نے جمع کیا تھا ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے تمام بازاروں کے دکان مالکانان کو نوٹسز جاری کئے تھے ، کہ وہ تین دن کے اندر اندر اپنے اپنے دکانات مسمار کردیں ، اور پھر عید کے بعد ان کو فرمان جاری کیا گیا ، کہ اپنے دکانات مسمار کرو، نیشنل ہائے وے اتھارٹی کے اس غیر قانونی پروانوں کے خلاف سوات ٹریڈز فیڈریشن کے مرکزی صدر عبدالرحیم اور دوسرے 70افراد نے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ دارالقضاء میں رٹ جمع کیا ،
جس پر گزشتہ روز دو رکنی بینچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد حکم امتناعی جاری کر دیا ، حکم امتناعی میں متعلقہ محکموں کو کاروائی سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے ، یہ رٹ شیر محمد ایڈوکیٹ اور اورنگزیب خان باچہ لالا کے وساعت سے جمع کیا تھا اور عدالت میں ان دونوں کے دلائل کے بعد فاضل بینچ نے حکم امتناعی جاری کیا تھا ، واضح رہے کہ بدنام زمانہ اور ناکام ترین محکمہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی جس نے ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات کے سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل کردی ہے ، اور ڈیکٹیٹر مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے صوبائی حکومت کو بائی پاس کرکے یہ سڑکیں اس ناکام ترین محکمے کے حوالے کئے تھے ، حالانکہ جس قانون کا حوالہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی دیتے ہیں اس وقت یہاں پر پاٹا ریگولیشن قائم تھا ، اور یہ قوانین یہاں پر نافذ بھی نہیں ہے ، اس محکمے کے یہاں پر ایسے افسران کوتعینات کیا ہے ، جس کے تعلیمی قابیلیت کا پتہ نہیں کہ کدھر سے انہوں نے ڈگری حاصل کی کسی نے کٹمنڈو سے کسی نے برما سے اور کسی نے ڈھاکہ سے ، یہی تو ان کی تعلیمی قابلیت ہے حالانکہ سوات کے سڑکیں ریاستی دور کے سڑکیں ہے ، جو ریاست کے دور میں یہاں کے باشندوں نے خود چھوڑی ہے ،یہاں کے عوام نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے سڑکیں دوبارہ صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے ، اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تمام دفاتر سوات میں بند کرکے یہاں کے چلے جائے ، ورنہ اگر اس سلسلے میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا ، تو اس کے زمہ داری اس محکمے پر ہوگی ۔
299 total views, no views today


