کبل، عوامی نیشنل پارٹی ضلع سوات کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری، معروف کالم نگار اور سماجی شخصیت ابراہیم دیولئی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کراچی، خیبر پختونخوا اور بالخصوص ملاکنڈ سوات پولیس کے شہادتیں اور قربانیاں تاریخ کا سنہرہ باب بن چکا ہے وہ اس لئے کہ دہشگردوں نے حکومتی رٹ ختم کرنے اور قوم میں خوف و ہراس پھیلانے کی خاطر سب سے پہلے ملاکنڈ سوات کے پولیس کو نشانہ بنانا شروع کیا لیکن ہمارے غیور پولیس نے ملک و قوم کی خاطر دہشتگردوں کے ظلم یذیدیت کے سامنے لشکر حسین بن کر سر جھکا نے کی بجائے گردنیں کٹنے کو ترجیح دے کر بیسیوں اعلیٰ افسران سمیت سینکڑوں پولیس بھائیوں نے جام شہادت نوش کی جس کے بدولت قوم میں بھی خوف زدہ ہونے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف قربانی دینے کا حوصلہ پیدا ہوا اور یوں پاک فوج ، پولیس اور قوم نے ملکر انتہاپسندوں اور دہشتگردوں کو شکست پاش دے کر حب الوطنی کی تاریخ رقم کر دی ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے یوم شہداء پولیس کے حوالے سے دیولئی پولیس تھانہ میں اپنے تاثرات قلم بند کر اتے ہوئے کیا اس حوالے سے کے پی کے میں تھانوں کے جدید طرز تعمیر، پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے، پولیس شہداء کے ورثاء کو معقول معاوضہ دینے سمیت پولیس اصلاحات پر سابقہ اے این پی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ابراہیم دیولئی نے موجودہ حکومت سے اپیل کی کہ بدلتے ہو ئے حالات اور واقعات کے تقاضے کے مطابق کمیونٹی پولیس کو مستقل کر کے مراعات اور ٹریننگ دی جائے کیونکہ ان لوگوں نے بھی انتہائی سخت حالات میں بھرتی ہو کر جرأت کا مظاہرہ کیا ابراہیم دیولئی نے کبل پولیس سٹیشن سمیت سوات کے تمام بڑے مراکز میں وقتا فوقتا جرگوں کے انعقاد پر ڈی پی او سوات سلیم خان مروت اور ڈی ایس پی کبل حسین باچا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے جرگوں کے انعقاد سے پولیس اور پبلک کے درمیان رابطے اور تبادلہ خیالات کے زریعے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا جو کہ معاشرے سے جرائم کے خاتمے اور امن کو مستحکم کرنے میں معاون ، مددگار ثابت ہوگا اخر میں ابراہیم دیولئی نے تمام پولیس شہدأ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی درجات کے بلندی کیلئے دعا کی۔
698 total views, no views today


