مینگورہ، متحدہ لیبر فیڈریشن صوبہ خیبر پختونخوا کے فیصلے کے مطابق اتفاق لیبر یونین سی بی اے سوات نے نشاط چوک سے ایک احتجاجی جلوس نکالا اور سوات پریس کلب کے سامنے بھر پور احتجاجی مظا ہرہ کیا ، جسی قیادت متحدہ لیبر فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین اجملی خان ،صوبائی صدر محمد اقبال ، سیکرٹری محمد نبی ، ڈپٹی سیکرٹری عبدالودود نے کی ، اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزارت محنت پختونخوا مزدور کے مسائل کے حل وراپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکا ہے ، عرصہ تین ، چار سال سے مزدوروں کے جہیز فنڈ، فوتگی گرانٹ اور سکالر شپ التواء کے شکار ہے ،بچوں کو سکول کیلئے ٹرانسپورٹ کی مد میں ادائیگی نیں ہورہی ہے ، ورکروویلفیئر بور ڈ اور ورکر ویلفیئر فنڈ نے نئے ملازمتوں پر پابندی عائد کی ے مگر اسکے باوجود سیکرٹری بورڈ نے 2015 سے آج تک سینکڑوں لوگوں کو غیر قانونی بھرتیاں کی ، حقدار نہ ہونے کے باوجود سیکرٹری بورڈ نے اپنے بچوں کے سکالر شپ کے مد میں 24 لاکھ روپے اپنے جیب میں ڈال چکا ے ، سیکرٹری بورڈ نعمت اللہ کیخلاف پہلے ہی سے مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں پر انکوائری ہو چکی ہے مگر اسکے خلاف محکمانہ کاروائی سے گریز کیا جارہا ہے ،وزیر محنت خیبرپختونخوا شاہ فرمان سے جب ان مسائل کے بارے میں رابطے کی کی شش کیجاتی ہے تووہ نہ دفتر میں اور نہ گھر میں پائے جاتے ہیں ، جبکہ ٹیلفون بھی اٹینڈ نہیں کرتے ، تحریری طور پر مطلع کرنے کے باوجود کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ، بلوچستان اورپنجاب میں تمام مزدوروں کو مالکانہ حقوق مل چکے ہیں ، ایک بد قسمت صوبہ کے پی کے ہیں ، جسمیں مزدور مالکانہ حقوق سے محروم ہیں، سوات لیبر کالونی اس جدید دور میں سوئی گیس سے محروم ہیں، اگر ایک مہینہ کے اندر اندر ہمارے مطالبات منظور نہ کی گئی تو صوبائی اسمبلی کے سامنے بھر پور احتجاجی دھرنا دیا جائیگا ، ہم وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صوبائی احستاب بیورو، نیب اور بورڈ چیئرمین سے پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ فنڈ اوربورڈ کیطرف سے پابندی کے باوجود ناجائز بھرتیوں اور رولز ریگولیشن کے خلاف ورزیوں کی پاداش میں سیکرٹری بورڈ نعمت اللہ اور دیگر ملوث اہلکاروں کی خلاف ایکشن لیا جائے اور انکے جگہ ایماندار مزدور دوست اہم لوگوں کوتعینات کیا جائے ، مزدوروں کے حقوق کی تحفظ ، فلاح وبہبود کے کاموں کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلعے میں 7 اگست تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہیگا ، ان مظاہرے کے بعد اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو صوبہ بھر کے فیڈریشن سے ملحقہ تمام کارخانوں کو بند کرکے صوبائی اسمبلی کے سامنے بھر پور دھرنا دیا جائے گا۔
670 total views, no views today


