پہلی کترن موبائل فون کے بارے میں ہے جو بیس جون کو لندن مانیٹرینگ ڈیسک کی زینت بنی۔ برطانوی صحافی مسلسل سمارٹ فون پر آنکھیں جماکر نیٹ استعمال کرنے کی وجہ سے ’’آکسی پیٹل نیوریلجیا‘‘ کا مریض بن گیا۔ دماغ کے اس مرض میں سر میں شدید درد ہوتا ہے۔ نیو رولو جیٹس کا کہنا ہے کہ اس مرض میں دماغ کی عصبی باقتیں کھنچاؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس لیے زیادہ دیر تک اسمارٹ فون استعمال کرنے سے گریز کریں۔ نیروپی (نیوز ڈیسک) افریقہ میں بعض دیہاتی اور جنگلی قبائل کے لوگ گدھ کے مغز کو سگریٹ میں بھر کر پیتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ اس سے اُن کی قسمت کھل جاتی ہے اور ذہانت بھی تیز ہوجاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ شکاری جانوروں کے جسم میں زہر داخل کرکے جنگل میں چھوڑ جاتے ہیں۔ جب گدھ اُنہیں کھاتے ہیں، تو اُن کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مردہ گدھوں کو اکٹھا کرکے اُن کے مغز کو نکال لیا جاتا ہے اور خشک کرکے سگریٹوں میں بھردیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک سائنسی جریدے “Plos one” کے بقول اس وجہ سے اک پرندے کی نسل خاتمے کے قریب ہے۔ ایک خبر کے مطابق ’’خواتین جب بے بس ہوتی ہیں تو رو پڑتی ہیں۔‘‘ اس کا مقصد لوگوں کی توجہ یا ہمدردی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مگر مرد کب روتے ہیں؟جب کوئی عزیز ترین ہستی اُن سے بچھڑجائے یا محبت میں ناکامی ہو، مگر ایک سروے کے مطابق مرد اُس وقت بھی روتے ہیں۔ جب اُنہیں بہت زیادہ خوشی مل جائے۔ بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق امریکی فوج نے جنگجوؤں کے خلاف ایک نیا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ ہے ویاگراکی گولیاں۔ فوج کے بقول ہم نے جب اس کی چند گولیاں ایک ایسے جنگجو کو پیش کیں جس کی چار عدد بیویاں تھیں، تو اُس نے چند روز بعد بہت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مزید گولیوں کا تقاضہ کیا۔ راقم کے خیال میںیہ کوئی دودھ کا مجنوں شمالی اتحاد کا جنگجو ہی ہوسکتا ہے جسے افغانستان کی آزادی سے زیادہ جنسی آزادی کا چسکا پڑا ہوا ہوگا۔ ورنہ وہ جنگجو جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے غیر ملکی فوجوں سے نبرد آزما ہیں اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ اُنہیں Viagra سے کیا لینا دینا۔۔۔؟ دیکھا جائے تو یہ خبر امریکی پراپیگنڈہ وار کا ایک حصہ معلوم ہوتی ہے۔ نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) بیس جون 2015ء (21:11) سوڈان میں لڑی گئی سول وار کے دوران میں سوڈانی فوج کے روح فرسا مظالم سے پردہ اُٹھ گیا۔ سول وار کے دوران میں دو فوجیوں نے ایک لڑکی کو اغوا کیا اور پھر اسے گولی مار کر قتل کر دیا۔ کیوں کہ دونوں میں یہ فیصلہ نہیں ہوپایا تھا کہ پہلے اس لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ کون بنائے؟ ہالینڈ کے اسلام مخالف سیاست دان گیرٹ وائلڈرز نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پیغمبر اسلام کے خاکوں کو مقامی ٹی وی پر دکھایا جائے گا۔ یہ خبر بیس جون کو بی بی سی اردو پر نشر ہوچکی ہے۔ اب قارئین کرام! آپ ہی بتائیں کون لوگ دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں؟ ایک اور کترن سعودی جانبازوں کے بارے میں ہے جس کے مطابق یمن مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد سعودی ہیروز نے سنیچرکی صبح یمن کے شہر عدن میں حوثی قبائل پر فضائی بمباری کی ہے۔ یہ اسلحہ اور بم امریکہ نے ان سعودی ہیروز کو فراہم کئے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ امریکی فوجی سعودی عرب کی حفاظت کے لیے لاکھوں بیرل تیل روزانہ وصول کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے بارے میں یہ مقولہ سو فی درست ہے کہ ’’دادا ابئی تہ نر دے۔۔۔‘‘ نیز سعودی عرب میں غیر امریکی باشندے کی تلاشی ایسے لی جاتی ہے، جیسے وہ کوئی چور ہو اور امریکی شہری کو ہر جگہ باعزت طریقے سے گھومنے پھرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق تیز دماغ والے بچے جھوٹ بولنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ بات بچوں کے نفسیات کے امریکی اور برطانوی ماہرین نے کہا ہے۔ اسی لیے تو امریکی صدور عراق کے جنگی ہتھیاروں اور ایران کے تیل کے بارے میں ہمیشہ ذہانت سے جھوٹ بولتے چلے آرہے ہیں اور صدی کا سب سے بڑا جھوٹ بول کر بش نے لاکھوں عراقیوں کو شہید کیا اور آخر میں کہا: ’’عراق سے ہتھیار نہیں ملے۔‘‘ اور ’’سوری‘‘ تک کہنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ایک اور خبر کے مطابق ٹام کروز کے ہم شکل پاکستانی پائلٹ سکواڈرن لیڈر یاسر مدثر کے آج کل بہت چرچے ہیں۔ اسی لیے اُنہیں پیرس ائیر شو میں حصہ لینے کی اجازت بھی دی گئی۔فرانس جاتے ہوئے پاکستانی ائیر فورس کے جے ایف تھنڈر فیول ڈلوانے کے لیے اٹلی اُترے تھے۔ ائیر بیس پر موجود پاکستانی سفیر تہمینہ جنجوعہ کے ساتھ یاسر مدثر کو دکھایا گیا ہے۔ 1986ء میں امریکی اداکار ٹام کروز نے ٹاپ گن نامی فلم میں ایک پائلٹ کا کردار ادا کیا تھا اور سکواڈرن لیڈر یاسر مدثر تصویر میں بالکل اُنہی کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔ جہاں بہت سے پاکستانیوں نے اس پر مسرت کا اظہار کیا ہے، وہیں ٹوئیٹر پر ایک خاتون نے سکواڈرن لیڈر یاسر مدثر کو شادی کی پیشکش بھی کی ہے۔ اسے کہتے ہیں ’’آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔‘‘ ویسے میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یاسر کی شکل اسامہ بن لادن سے ملتی، تو پھر کیا ہوتا۔۔۔؟ قارئین کرام! خبروں کی یہ کترن بھی دیکھتے چلیں جو چوبیس ستمبر 2014ء کو بی بی سی کی زینت بنی جس کے مطابق برازیل میں برطانوی سائنس دانوں نے ایک تجربے میں عام لوگوں کی روزمرہ کی نقل و حرکت سے ایک فٹ بال میچ میں لائٹس جلا دیں۔ یہ تصویر میں نے اپنے ’’ٹیبلیٹ‘‘ پر محفوظ بھی کی ہوئی ہے۔ تجربے میں لوگوں کی کاینیٹک انرجی کو بجلی میں تبدیل کرکے فلڈلائٹس کو جلانے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ میچ کا افتتاح عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر پیلے نے کیا۔ یہ میچ ریوڈی جنیریو کی کچی آبادی میں کھیلا گیا۔ قارئین کرام! پاکستان جیسے بجلی زدہ ملک کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔ کیوں کہ اے این پی والے اب ڈیم بنانے والے ایشو پر سیاست کرنے اور ملک میں بجلی کے قحط پیدا کرنے سے باز آجائیں گے۔ نیز قوم کو لالٹین کے دور میں پہنچانے کا خطرہ بھی ٹل جائے گا۔ کیوں کہ ہماری عوام آج کل جس تیزی سے حرکت میں ہے اور فوجی تلاشی، دہشت گردی، پٹرول کی قلت اور سیاسی کرپشن کی وجہ سے جس دوڑ میں ہے، اس بھاگ دوڑ اور متحرک زندگی سے اتنی کثیر تعداد میں انرجی آف الیکٹرک پیدا کرسکتی ہے کہ میرے خیال میں ہمارے تمام پڑوسی ممالک بھی اس سے استفادہ اٹھاتے ہوئے ہمارے زر مبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکیں گے۔ اس سے ایک تو ہماری فی کس آمدنی میں اضافہ ہوگا، دوسرا یہ کہ وطن عزیز میں ’’حرکت میں برکت‘‘ کے فوائد سے ہر کوئی مستفید ہوسکے گا۔ نیز لوگ زیادہ تر ورزش کی طرف مائل ہوں گے جس سے اُن کی صحت بہتر ہوگی۔ تاہم اس بات کا خدشہ ہے کہ ہمارے ڈاکٹر صاحبان اور اے این پی والے اس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کریں گے۔ کیوں کہ اُن کی فیس اور سیاسی داؤ آزمانے کے لیے بہانہ ختم ہوچکا ہوگا۔
640 total views, no views today


