مینگورہ ، سوات میڈیکل کالج میں گلوبل بریسٹ فیڈینگ کے حوالے سے ایک تقریب مانعقاد کیا گیا ، جس میں ماں کی دودکی اہمیت کو اجار گر کرنے پرتفصیلی روشنی ڈالی گئی ، تقریب خطاب سے کرتے ہوئے ڈی ایچ او سوات سید علی خان، چلڈرن سپیشلیسٹ اسرار احمد اور اسسٹنٹ پروفیسر ثانیہ خٹک نے اس بات زور دیا کہ ماں کا دودھ بچے صحت کیلئے انہتاہی ضروری ہے، اس موقع پر انہوں نے بڑی تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ بچے کے پیدائش سے پانچ منٹ بعد بچے کو ماں کادودھ پلانا ضروری ہے ، جو مائیں اپنی دودھ کی علاوہ بوتل دودھ خواہ وہ ڈبہ دودھ ہو یا گائے دودھ ہو انتہائی معضر صحت ہے ، انہوں نے مذید کہا کہ بچے کو چھ ماہ تک ماں کی دودھ کے علاوہ کسی اورچیز حتیٰ کہ پانی بھی نہیں پلانا چاہیئے کیونکہ قدرت نے ماں کی دودھ میں بچے کیلئے ہر قسم کی ضرورت تیار کیا ہے ، چھ ماہ کے بعد ماں کی دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو نرم غذا دے سکتے ہیں لیکن ماں کا دودھ دوسال تک جاری رکھناچاہیئے ، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بچے کو پہلے اور غذا تیار کرکے دیتے ہیں لیکن یہ بچے صحت کیلئے انتہائی خطر ناک ثابت ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ بچے کو پیدائش کے بعد اپنے ہی ماں کا دودھ دینا ان کے صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے ، انہوں نے اس بات زور دیا کہ ماں کے دودھ کے علاوہ غذا ہر گز بچے کو نہیں دینا چاہیئے ، انہوں نے کہا کہ بعض لوگ بچے کو پیدائش کے کچھ دن بعد ڈاکٹر کے پاس لاتے ہیں کہ یہ کو نمونیا یا کوئی اور خطرناک بیماری میں مبتلاء ہواہے ، اصل بات یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کے پیدائش کے پانچ منٹ بعد اس کو اپنے ماں کا دودھ پلانا چاہیئے کیونکہ اس وقت کا یہ دودھ اس بچے کو کچھ معضر مرض سے بچاتا ہے ، تو اسلئے اگر ہم ملکر اس بات پر زور دیدے تو انشاء اللہ ہمارے بچے صحت بچے بن سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جن ماؤں نے اپنی دودھ بچوں کی نہیں دیا وہ زیادہ تر برسٹ کینسر میں مبتلاء ہوجا تے ہیں ، بوتل والا سسٹم یورپ سے نکلا ہے لیکن اب وہی لوگ بھی بوتل کے بجائے ماں کا دودھ دیتی ہے اور بوتل والا سسٹم کو ختم کردیا ہے ۔
742 total views, no views today


