کہتے ہیں کہ 1897ء ملاکنڈ جہاد کے ہیرو ’’سر تور فقیر‘‘ کو دیکھنے کے لیے بونیر سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے سر تور فقیر کو دیکھا، تو آپس میں کہنے لگے کہ ’’یہ تو سعد اللہ خان بھائی ہے۔‘‘ جی ہاں، سعد اللہ خان ریگا بونیر کے رہنے والے تھے۔ اسکول کے زمانے میں جب میں نے مختلف تاریخ کی کتابوں کو پڑھ ڈالا، تو ایک دن میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ ’’بابا آپ کو ملاکنڈ جہاد یاد ہے؟‘‘ تو وہ کہنے لگے کہ ہاں میں ان دنوں چھوٹا تھا، پر اتنا یاد ہے کہ میرے بڑے بھائی نے مجھے گود میں اٹھایا تھا۔ مینگورہ شہر کی عورتیں، بچے اور معمر لوگ سب کے سب اپنے گھروں کو تالے لگا کر زمرد کان کی جانب رواں دواں تھے۔ اُس وقت زمرد کان کو ’’لیونے تنگے‘‘ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا تھا۔‘‘ میرے والد بزرگوار نے مزید کہا کہ اُس وقت وہاں ایک بہت بڑا جنگل تھا جس میں ملاکنڈ جنگ کی وجہ سے انگریز فوج مینگورہ شہر کو لوٹ رہے تھے۔ جب کہ عورتوں اور بچوں نے اس لیونی تنگی کے جنگل میں پناہ لی ہوئی تھی۔ جوان طبقہ جہاد میں مصروف تھا۔
اس طرح ایک دفعہ میں نے ایک بزرگ آدمی سے پوچھا تھا کہ آپ نے سر تور فقیر کو دیکھا تھا؟ تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ ہاں، یہ تو کل کی بات ہے کہ سر تور فقیر ننگے سر، ننگے پاؤں، ایک پائنچہ اوپر ایک نیچے، دراز قد، لمبا تڑنگا، ہاتھ میں جہاد کا جھنڈا لئے ہوئے لوگوں کو جہاد کی دعوت دے رہا تھا اور لڑکے بالے اُس کے پیچھے جلوس میں جا رہے تھے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس فقیر نے انگریزوں کو ملاکنڈ جنگ میں کافی جانی نقصان سے دوچار کیا تھا۔ اُس جہاد میں راقم کا چچا عبدالغنی بھی بنفس نفیس شریک تھا۔ وہ حصار طوطہ کان کے محاذ پر برسر پیکار تھا۔جنگ کے اختتام پر اُنہیں خبر ملی کہ اُن کا پھوپھی زاد بھائی عبدالحمید جہاد میں ملاکنڈ پیرانو کے محاذ پر زخمی ہوگیا ہے، تو وہ حصار طوطہ کان سے گھوڑا دوڑا کر پیرانو سے اپنے پھوپھی زاد کو لے آیا تھا۔ اس جہاد میں فتح پور کے میاں دم خان جن کا نام حبیب خان جس کا والد خان بابا کے نام سے مشہور تھا اور جو اپنے قبیلے جنکی خیل کا قائد بھی تھا۔ باپ اور بیٹا سر تور فقیر کے کمان میں مصروف جہاد تھے کہ اسی اثناء میں خان بابا شہید ہوگئے۔ جب کہ سر تور فقیر 1336ہجری کو فوت ہوئے۔ میاں دم خان، خان بابا اور سر تور فقیر کی قبریں فتح پور کے جنوبی حصہ کے قبرستان میں ایک دوسرے سے پیوست واقع ہیں۔ میاں دم خان کی تاریخ پیدائش 1870ء اور وفات 1954ء ہے۔ سرتور فقیر اٹھارہ جولائی 1897ء کو جہاد کرنے نکلے تھے۔ چھبیس جولائی کو انہوں نے لنڈاکے سے تھانہ کا رخ کیا، اُس وقت ان کے ساتھ صرف چند کم عمر کے لڑکے تھے جو ہاتھوں میں جھنڈیاں اُٹھائے چل رہے تھے، لیکن راستہ میں تین چار سو یوسف زئ نوجوان ساتھ ہوگئے، تو موضع الہ ڈھنڈا، بٹ خیلہ اور پیر کورونہ سے ہوتے ہوئے قلعہ ملاکنڈ پر رات نو بجے حملہ آور ہوئے۔ انگریز لشکر نے سراسیمگی کی حالت میں سکھوں کو اس آگ جھونکا جو اکثر قتل ہوگئے۔ جہادیوں نے کواٹر گارڈ پر قبضہ کرتے ہوئے تمام اسلحہ اور بارود لوٹ لیا اور صبح تک یہ لڑائی جاری رہی۔ اس حملے میں اُنیس مجاہد شہید ہوئے۔ جب کہ ایک انگریز کرنل ایک میجر، ایک لیفٹیننٹ اور پانچ سو اکیس سپاہی مارے گئے اور ایک ہزار تیس سپاہی زخمی ہوئے۔ اسی رات سعد اللہ (سر تور فقیر) کی ہدایت پر مجاہدین قلعہ چکدرہ پر حملہ آور ہوئے۔ وہاں بھی سخت مقابلہ ہوا۔ انگریز فوج نے اٹھارہ اگست 1897ء کو جدید انتظامات کے ساتھ پھر حملہ کیا۔ قدم قدم پر غازی مدافعت کرتے رہے، تاہم اُنیس اگست کو یہ لشکر مینگورہ پہنچ گیا۔ اس میں آگے بڑھنے کی ہمت نہ رہی اور چوبیس اگست کو بریکوٹ میں قیام کرنے کے بعد واپس اپنے کیمپ کی راہ لی۔
یہ سر تور فقیر تھے جنہوں نے سوات، دیر، باجوڑ، بونیر، شانگلہ اور کوہستان میں لوگوں میں جہاد کا جذبہ ابھارا اور وطن کی آزادی میں بھر پور حصہ لیا۔
4,376 total views, no views today


