سوات،سوات میں دو ہزار سے زائد طلباء وطالبات، والدین، سماجی سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی کا مکتب سکولوں کیخلاف احتجاجی ریلی ، حکومت سے سکول واپس بحال کرنے کا مطالبہ، سکولوں کی بندش سے ہزاروں طلباء وطالبات کے مستقبل پر سوالیہ نشان، الف اعلان اور ائی وائی ایف تنظیم کے زیر اہتمام سوات کے تاریخی گاؤں منگلور میں 93 مکتب سکولوں کی بندش کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں سکولوں کے طلباء وطالبات ، ان کے والدین، سکول اساتذہ، سیاسی وسماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، الف اعلان کے نمائندے ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا یہ حکم انتہائی ظالمانہ ہے انہوں نے کہا کہ مکتب سکولوں کا ادغام جن سکولوں میں کیا گیا ہے وہ بچوں سے بہت دور ہیں ایسے صورتحال میں بچے اتنے کم عمر میں کیسے دوسرے سکولوں میں جاسکیں گے انہوں نے کہا کہ سرکاری سکول میں ایک کلاس میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے ، لہٰذا ان بچوں کی وجہ سے سکولوں میں مزید تعداد زیادہ ہو جائی گی، انہوں نے کہا کہ سال کے درمیان میں یہ بچے دوسرے سکولوں میں نفسیاتی لحاظ سے خود کو ایڈجسمنٹ بھی نہیں کرسکین گے، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے ارٹیکل 25A کے تناظر میں تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، ان سے یہ حق چھیننا ائین کی خلاف ورزی ہے، اس موقع پر معروف سماجی وسیاسی شخصیت انجنیئر عمر فاروق نے کہا کہ اس مسئلے میں بچوں کیساتھ ہیں اور ہمارا احتجاج بچوں کو انکا جائز حق دینے تک جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل بچوں کے وسیع تر مفاد میں نکالا جائے اور مکتب سکولوں کو بحال کئے جائیں، اس موقع پر مکتب سکولوں سے شرکت کرنیوالے بچوں نے کہا کہ ہمیں آزادی کا تحفہ ہمارے سکول واپس دے کر دیا جائے، بچوں نے کہا کہ ہمارے سکول بحال نہ کئے گئے تو ہم تعلیم حاصل نہیں کرسکیں گے،اس موقع پر ریلی میں شریک بچوں نے تعلیم کے حق میں نعرہ بازی بھی کی ، جبکہ ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیم کے حق میں نعرے درج تھے۔
576 total views, no views today


