اگست 2015ء کا پہلا ہفتہ پولیس کے اُن شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا گیا جو دہشت گردوں کے براہ راست حملوں میں شہید ہونے یا جو دہشت گردوں کے ساتھ لڑتے جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ دور جدید میں پولیس کا کردار ماضی کی نسبت کافی اہم اور کافی مصروف ہے۔ برصغیر میں اور خصوصاً پاکستان میں پولیس کا کام کافی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہماری پولیس مختلف مسلح اور غیر مسلح افراد اور گروہوں کے حملوں کی زد میں رہتی ہے۔ مسلح معاملات میں ایک پولیس جوان، حملہ کرنے والے کا پہلا ہدف ہوتا ہے۔ کیوں کہ حملہ آور کے مذموم مقاصد میں وہ جوان رکاوٹ ہوتا ہے اور اُسے ٹھکانے لگانا وہ مجرم ضروری سمجھتا ہے۔ چوں کہ وطن عزیز میں موجودہ دہشت گردی کے پیچھے اعلیٰ دماغ، بہت سارا سرمایہ اور بہت سارے وسائل موجود ہیں۔ بہترین منصوبہ بندی، اعلیٰ مخبری، مارکیٹ کا بالواسطہ تعاون، دہشت گردی کو مؤثر بنانے کے لیے دستیاب ہیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ شہداء کا خون ہی قومی آزادی، امن اور ترقی کے شجر کو سدا بہار رکھنے کے لیے لازمی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایثار اور قربانی کو اعلیٰ ترین وصف قرار دیا ہے اور شہادت کی موت کو افضل ترین گردانا ہے۔ ملک و قوم کے لیے جانوں کی قربانی دلیر اور جانباز ہی دیتے ہیں اور وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرواکر قوم کی زندگی کو نیا خون اور نئی طاقت فراہم کردیتے ہیں۔ ہم اُن تمام شہداء کو سلام کرتے ہیں اور اُن کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہیں جنہوں نے ملک و ملت کے مفاد کے لیے جانوں کی قربانی دی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت پولیس کے شہداء کے بچوں کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی ملازمت دے گی۔ یہ اچھی خبر ہے لیکن کسی بھی سرکاری محکمے کے وہ خواتین و حضرات جو اپنے فرائض اور قومی خدمات کی خاطر جان دے دیتے ہیں، اُن کے لواحقین اور پسماندگان، قوم کی توجہ کے حقدار ہوتے ہیں۔ شہداء کی پنشن پر مدت ملازمت کی شرط نہیں ہونی چاہئے۔ خواہ اُس کی ملازمت ایک دن کی کیوں نہ ہو، اگر اُس نے شہادت پائی، تو اُس کے پس ماندگان کو بیوہ کی پنشن ملنی چاہئے دوسر ی بات یہ کہ بیوہ کی فوتگی کی صورت میں غیر شادی شدہ بچیوں کو پنشن کی ادائیگی ہو۔ یہ رعایت پولیس سمیت تمام مسلح اور غیر مسلح محکموں کے شہداء کے لیے ہونا ضروری ہے۔ اس طرح جو عام لوگ (غیر سرکاری ملازم) جو کسی اعلیٰ قومی مقصد کے لیے جام شہادت نوش کرتے ہیں، کو بھی قوم نہ بھولے، اُن کے پسماندگان کی بھی کفالت قوم ہی کرے۔
چوں کہ ہمارا یہ کالم پولیس کی قربانیوں پر ہے اس لیے پولیس ہی کا زیادہ ذکر کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ پولیس ہمارے یہاں مختلف حملوں کی زد پر ہوتی ہے، جن کا مختصر نقشہ کچھ یوں ہے کہ
1:۔ خود غرض افراد پولیس میں سفارشوں کے ذریعے اپنے آدمی کھپاتے ہیں۔ اس طرح پولیس کے اندر کمزور کردار کے افراد کی تعداد بڑھ جاتی ہے جو حتمی طور پر نہ صرف پولیس ہی کے نقصان کا سبب بنتے ہیں بلکہ پولیس کی خدمات کو بھی ناکارہ کردیتے ہیں۔ یہی صورت حال رشوت کے ذریعے پولیس میں آنے والوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کمزور کردار کے لوگ ہی جرائم پیشہ افراد کے ساتھی بن جاتے ہیں اور اندر کی مخبری کرتے ہیں۔ اگر چہ یہ کام بہت مشکل ہے لیکن اہم ترین ہے کہ پولیس کو ان غلاظتوں سے پاک رکھنے کی انتھک کوشش ہر سطح پر کی جائے۔ حالیہ اسلحہ اسکینڈل میں طاقت ور حلقے ملوث بیان کئے جاتے ہیں۔ اب اگر پولیس کے پاس اسلحہ معمولی ہو، اُس کا وائرلیس کمزور یا ناکارہ ہو، اُس کی گاڑی خراب ہو، تو اُس کی کارکردگی کیسے بہتر ہوسکتی ہے؟ ہمارے یہاں سب سے خراب ترین عمارات پولیس کی اور پرائمری اسکولوں کی ہوتی ہیں، ان کو تعمیر کرنے والے اور کروانے والے ’’الحاج‘‘ لوگ ہوتے ہیں۔ پولیس کی مشکلات اور سہولیات کے فقدان کے مداوے کے لیے اعلیٰ افسران کو مسلسل کام کرنا چاہئے۔ پولیس مین سے کتنے گھنٹے کام لیا جاتا ہے، اُسے آرام کرنے، عبادت کرنے اور خانگی معاملات کے لیے کتنا وقت دیا جاتا ہے؟ یہ غور طلب باتیں ہیں۔
چند روز قبل ایک کلینک میں ایک ٹریفک سب انسپکٹر وردی میں آیا جس کا بدن ٹوٹ رہا تھا۔چک اپ سے پتہ چلا کہ اُسے شدید بخار تھا اور وہ دھوپ میں کھڑا ہوکر ڈیوٹی دے رہا تھا۔ بہتر بات ہوگی کہ پولیس کے لیے الگ میڈیکل یونٹ بنایا جائے اور ہر بڑے قصبے اور شہر میں مناسب مقدار میں موبائل میڈیکل ایڈوین (MAV)مع ڈاکٹر وغیرہ موجود ہوں اور وہ ریڈیو اطلاع پر ضرورت مند تک پہنچا کرے۔ اس طرح پولیس مین کی ڈیوٹی کا دورانیہ ایسا ہو کہ وہ مناسب وقت پر کھانا کھاسکے۔ پولیس کے خاندانوں کے لیے میڈیکل سہولیات کو بھی ضروری توجہ دینی چاہئے اور یہ مسئلہ بھی ہر مناسب سائز کی آبادی کے لیے میڈیکل یونٹس کے قیام سے آسان ہوسکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان انتظامی محکموں کی کمزوریوں کا شکار ہے۔ اہلیت، دیانت اور اخلاص کی تقریباً ہر جگہ اور ہر سطح پر کمی ہے۔ پھر بھی مایوسی گناہ ہے۔ پولیس مین اور دوسرے ملازمین کی فلاح و بہبود اور تحفظ ہی وطن عزیز میں امن وامان قائم کرسکتے ہیں۔ پولیس پر بیرونی حملے بہت ہیں۔ اگر آئی جی پی صاحب خاص اپنی نگرانی میں ایک ریسرچ اینڈ ریکمنڈیشن سیل(Research and recommendation cell) بنا کر اسے قابل افراد کی مدد سے چلائیں، تو کئی مسائل سامنے آکر درست کروائے جاسکیں گے۔ مثلاً فیلڈ میں پولیس مین کو تاجروں اور منتخب نمائندوں، خان خوانین اور خود اسے محکمے جیسے طاقتور لوگوں اور حلقوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس طرح عوام کو دکھائے جانے والے ڈراموں میں پولیس کی ہتھک اور کردار کشی عوام کے ذہنوں کو خراب کرکے پولیس کی کارکردگی کو متاثرکردیتے ہیں۔ نصاب میں پولیس کی ضرورت اور کردار پر کچھ بھی موجود نہیں۔ قدیم نصاب ہو یا جدید دونوں اس ضرورت سے خالی ہیں۔ ہم جو کتابیں بچوں کو پڑھاتے ہیں، ان میں پولیس، اس کی تاریخ، اس کی اہمیت اور اس کی مشکلات اور ناکامیوں اور کامیابیوں پر کچھ بھی موجود نہیں۔ یوں مدرسہ، محراب و منبر اور میڈیا معاشرے کی اصلاح کے لیے کماحقہ کردار ادا نہیں کرتے۔ حکومت اس طرف بھی توجہ دے۔ عام آدمی پولیس کے ساتھ قربت کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بداعتمادی ختم ہونی چاہئے۔ عدالتوں اور وکیلوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملزمان کو پولیس کی گرفت سے چھڑانے میں بہت غور و فکر کریں۔ کسی بھی شخص، ڈرامے، فلم وغیرہ کو پولیس کی کردار کشی اور اُس کی ہتھک کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اس محکمے کے گریڈ سترہ اور اُس سے اوپر کے افسران بہت زیادہ وسیع النظر ہوں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
680 total views, no views today


