صوبہ خیبر پختونخوا میں آخرکار بلدیاتی انتخابات ہوگئے جس کے نتیجے میں ضلعی، تحصیل اور دیہی کونسلرز کے لیے ممبران منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کے فرائض، ذمہ داریوں اور اختیارات کا تعین لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء خیبر پختونخوا میں کیا گیا ہے۔ اس تبصرے کا بنیادی مقصد اس نظام کا زمینی حقائق کے ساتھ رشتہ جوڑنا ہے۔ کیوں کہ پائیدار ترقی کا تصور فعال مقامی حکومتوں کے بغیر بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ سیاسی نظریات سے بالاتر یہ معاشرے میں نظم و ضبط کے لیے بنیادی عنصر ہے۔ خواہ وہ امریکہ یا جرمنی، چین ہو یا سعودی عریبیہ، یا پھر ہندوستان اور افغانستان ہو، سب میں مقامی حکومتوں کا فعال ڈھانچہ موجود ہے۔ حالاں کہ امریکہ میں اور ہندوستان میں جمہوری طرز حکومت ہے۔ چین میں سوشلسٹ طرز حکومت ہے، جس پر میرے ساتھ بہت سے سیاسی لوگ اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں بادشاہت ہے اور افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کے باوجود مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے۔ وہ مقامی مسائل کے حل کے لیے کافی اختیارات بھی رکھتے ہیں۔ اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام کوئی بڑا نیا تجربہ نہیں ہے لیکن ہماری سیاسی تاریخ کی وجہ سے اس نظام کو سمجھنے اور فعالیت کے ساتھ عملی کردار ادا کرنے میں یقیناًدشواریاں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مارشل لاء ادوار میں مقامی حکومتوں کی فعالیت کو ملک کی سیاسی قوتوں نے شک اور رقابت کی نظر سے دیکھا اور جمہوری ادوار میں مقامی حکومتوں کو سیاسی قوتوں اور خاص حکومت نے اپنے اختیارات اور وسائل کے استعمال میں کمی کے تناظر میں دیکھا۔ اس دفعہ سیاسی دور میں سپریم کورٹ کے دباؤ کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا مرحلہ طے ہوا۔ کیوں کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 37 اور آرٹیکل 140A کے تحت مقامی حکومتوں کا قیام بنیادی آئینی تقاضا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی یہ کاوش قابل تحسین ہے باوجود اس کے کہ بد انتظامی کی شکایات حقائق پر مبنی ہیں اور اگر یہ انتظامات بہتر ہوتے، تو یہ اس نظام میں اور نکھار پیدا کرتے۔ بہت ساری جگہوں پر نتائج توقعات کے برعکس آئے ہوں گے لیکن یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ جمہوری رویہ اپنائیں اور اس کوقبائلی انداز میں دیکھنے کی کوشش نہ کریں۔ جن لوگوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ ان کی یہ کاوش قابل تعریف ہے اور اُن کو یہ نظام مضبوط کرنے میں اب اپنا حصہ ڈالنا چاہئے، جو اچھے منصوبوں میں تعاون اور نظام پر مثبت تنقید کی شکل میں ممکن ہے۔ اور اگر یہ نظام چلتا رہا، تو اس میں مقامی سطح پر اچھی قیادت کے اُبھرنے کے امکانات بہت واضح ہیں، لیکن ان حالات میں صوبائی حکومت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ یہ کہ وہ ان نتائج کو کس حد تک صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ کیوں کہ یقیناًبہت ساری جگہوں پر خاص کر ضلعی اور تحصیل حکومتیں دوسرے سیاسی قوتوں کی بن جائیں گی، لیکن صوبائی حکومت کا سنجیدہ سیاسی رویہ بہت اہم ہے کہ وہ جو فرائض اور ذمہ داریاں مقامی حکومتوں کے ایکٹ 2013ء میں تفویض کی گئی ہیں، اُن کو عملی جامہ پہنانے میں کتنا تعاون سیاسی وابستگیوں سے بالاتر کرتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بہت اہم مناسب رولز آف بزنس نہ صرف بنانا ہیں لیکن اُس کو سمجھنے اور آسان بنانے کے لیے ماحول پیدا کرنا ہے، جس میں بیوروکریسی کا کردار اہم بن جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی نظام مؤثر انداز سے نہ چلنے کی ایک وجہ سول بیوروکریسی کا عدم تعاون تھا۔ کیوں کہ زیادہ تر افسران اُس نظام کو اپنے اختیارات میں بے جا کمی کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ اس دفعہ رولز آف بزنس اس انداز میں بنانا چاہئے کہ تصادم کی فضا پیدا نہ ہو۔ سول بیوروکریسی کو بھی بدلتے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور منتخب نمائندوں کو بھی شائستگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ رولز آف بزنس کو وقتاً فوقتاً تجربے کی بنیاد پر زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تبدیل کرتے رہنا چاہئے اور اس میں باہمی مشاورت بہت زیادہ ضروری ہے۔ (جاری ہے)
950 total views, no views today


