جیسے پانی اپنا کوئی رنگ، بُو یا ذائقہ نہیں رکھتا۔ ایسے ہی انسان کا بھی پیدائشی طور پر اپنا کوئی لب و لہجہ، زبان، عادات یا مذہب نہیں ہوتا۔ اگر پیدائشی طور پر اِس کے پاس کچھ ہوتا ہے، تو ایک رونے کا فن ضرور ہوتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی ماں سے اپنی تکالیف کا اظہارکرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جو کچھ بھی کرتا ہے پہلے ماحول سے دیکھ و سن کر سیکھتا ہے، پھر اُس پر عمل کرتا ہے۔ پیدائش سے لے کر چار پانچ سال کی عمر تک انسان کو زیادہ تر گھر کا ماحول ہی میسر ہوتااور اِس دوران انسان کو سیکھنا بھی گھر کے ماحول سے ہی ہوتا ہے جسے گھر کی سربراہ عورت کری ایٹ کرتی ہے اور گھر کی سربراہ ہمیشہ ماں ہی ہوتی۔ اس لئے ماں انسان کی پہلی اُستاد اور گھریلوماحول کا محور بھی کہلاتی ہے۔ ماں اگر اپنے بچوں کے سامنے تلاوت کرے گی یا نماز و تہجد کا اہتمام کرے گی، تو بچے بھی نماز پڑھنے کی کوشش کریں گے اور اگر ماں نئے نئے دوست بنائے گی، فون پیکجز پر ٹاک کرے گی، تنگ لباس پہنے گی، غیر محرموں کو گھر بٹھائے گی، عشق پیچے لڑائے گی یا ڈانس کرے گی، تو بچے بھی ایسا ہی کریں گے۔ کیونکہ گھریلو ماحول میں اِس کے علاوہ اُس نے کُچھ دیکھا یا سنا ہی نہیں ہوتا۔اور جب انسان چھ یا سات سال کی عمر میں داخل ہوتا ہے، توگھر سے باہر قدم رکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو گھر سے باہر کے ماحول میں اچھائی برائی دونوں ہی میسر ہوتی ہیں، مگر تمیز نہیں ہوتی۔ اِس لئے والدین اسے گھر سے باہر کے ماحول میں آزادانہ چھوڑکرجانور بنانے کی بجائے ایک مہذب یافتہ انسان بنانے کیلئے اسکول کالجزمیں داخل کروا دیتے ہیں،جہاں سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے تک انسان جوں ہی سن بلوغت میں قدم رکھتا ہے، تو اِس میں عجیب سا خدمت، شہرت یا دولت کا اِک جنون بھی پیدا ہو جاتا، جس کی تکمیل کیلئے اِسے مذید علم کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ اپنے والدین سے مذید علم حاصل کرنے کی جب خواہش ظاہر کرتا ہے، تو والدین چاہے اپنا کوئی عضو ہی کیوں نہ بیچے، اولاد کی خواہش پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے (جی سی یو) جیسے اداروں کے دروازوں تک توپہنچا دیتاہے، مگر اُسے یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ مہذہب یافتہ انسانوں کی پیدائش گاہ ہے یا عاشقوں، معشوقوں، ماڈلز یا پھر ڈانسروں کی پیدائش گاہ ہے۔ اس حقیقت سے تو پردہ تب اُٹھتا ہے جب پختہ ایمان کی حامل مہرین شفق جیسی باپردہ بچیاں ریٹن ٹیسٹ پاس کرلینے کے بعد انٹرویو کے مراحل تک پہنچتی ہیں، تو انٹرویو کمیٹی کے رکن اسسٹنٹ پروفیسر عماد اوپل جیسے لوگ نقاب اُتارنے کو بول کر اپنا ایجنڈا بے نقاب کر بیٹھتے ہیں، اور ابتدائی تربیت کے ہاتھوں مجبور باایمان بچیوں کے انکار کرنے پر یہ کہہ کر بھگا دیتے ہیں کہ جاؤ یہاں باپردہ خواتین کیلئے کوئی جگہ نہیں، جبکہ قوم کے سامنے اِس پروفیسرجیسے لوگوں کا چہرہ تب جاکے بے نقاب ہوتا ہے جب مہرین شفق جیسی با ہمت بیٹیا ں عدالتوں سے رجوع کر لیتی ہیں جیسا کہ ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کی عدالت میں حال ہی میں ہوا ہے، جس پر عدالت عظمیٰ نے تو وکیل کی دلائل سننے کے بعداِس کیس کی سماعت دس دسمبرتک کیلئے ملتوی کر دی ہے، مگر عوام کی عدالت میں اِس کیس کی سماعت ابھی تک جاری ہے اور ہر زباں پریہ دلائل عام ہیں کہ یہاں تعلیم نہیں جا ہلیت دی جاتی ہے، یہاں پر ڈگریاں نہیں رسیدیں دی جاتی ہیں۔قصہ مختصر، یہاں تک بھی سننے کو مل رہا ہے کہ یہ تعلیمی مراکز نہیں بلکہ بزنس سینٹرز ہیں اور ایسے بزنس سینٹر جہاں مغربی مشنزکی تکمیل ہورہی ہے، جہاں مذاہب کے سودے ہو رہے ہیں، جہاں عزتوں کی نیلامیاں ہو رہی ہیں، جہاں قوموں کی غیرت بک رہی ہے، ہاں اگر کِسی زباں پر کچھ نہیں ہے، تو وہ ہے حکومتی زبان، جس کے کان پر ابھی تک جوں بھی نہیں رینگی۔کیوں نہیں رینگی؟ کیونکہ اِس بچی نے مغربی ایجنڈے کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ اِس نے فحاشی، عریانی و فتنہ کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ اس نے اسلامی تعلیمات کی سر بلندی کے حق میں آواز اٹھائی ہے، جس پر اسے یا اس کے کسی حامی کو کہیں سے کوئی فنڈنگ نہیں ملنے والی، اسی لئے یہ خبر بھی کوئی اتنی بڑی خبر نہیں، اس کے برعکس اگر کسی یونیورسٹی میں نقاب اوڑھنے کو بول دیا جاتا یا نصف لباس پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہوتی، تو اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اب تک ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو چکا ہوتا۔ یونیورسٹی کا سارے کا سارا اسٹاف معطل ہوچکا ہوتا۔ پروفیسر پر دہشت گردی کا مقدمہ درج ہو چکا ہوتا۔ پروفیسر کے روابط اوراکاؤنٹس کی جانچ پڑتال ہو رہی ہوتی۔ پاکستانی توکیا دُنیا بھر کے نجی و سرکاری چینلز پر تبصرے ہو رہے ہوتے۔ کوئی پروفیسر کوطالبان سے جوڑ رہا ہوتا، تو کوئی اسے القاعدہ سے جوڑ دیتا۔ کوئی اس کے ا کاوئنٹ میں لاکھوں ڈالر کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہوتا، تو کوئی اسے جاہل قرار دے کر ننگی گالیوں سے نواز رہا ہوتا، مگر اب سب خاموش ہیں، کیوں خاموش ہیں؟ کیونکہ ہم انفرادی سوچ سوچنے لگے ہیں۔ ہم میں اجتماعی فلاح وبہبود کیلئے سوچنے کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہماری کونسی اِس سے کوئی رشتہ داری ہے؟ ہمارے تو ایک فون پر کام ہوجاتے ہیں، اس لئے ہمیں اس سے کیا لینا دینا، اور ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ چھوڑوجی ہمارے جانے پر تو پروفیسر صاحب کرسی چھوڑ دیتے ہیں، ہمیں اس کے خلاف بکنے کی کیاضرورت ہے؟ ہم میں سے کسی نے بھی ابھی تک یہ نہیں سوچا ہوگاکہ آج ایک یونیورسٹی میں ایسا ہوا ہے، تو کل ملک بھر کی یونیورسٹیز میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ آج پروفیسر کسی کی بیٹی یا بہن کا نقاب اُتروا رہا ہے، تو کل کوئی ہماری بیٹی یا بہن کا نقاب اُتارنے کو بھی بول سکتا ہے۔ آج اگر وہ نقاب اُتارنے کو بول رہا ہے، تو کل وہ لباس بھی اُتارنے کو بول سکتا ہے،اور نہ ہی ہم نے یہ سوچا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو یو نیورسٹیز میں کیا بنانے کیلئے بھیج رہے ہیں اور اُنہیں وہاں کیا تربیت دی جارہی ہے اوراس تربیت کے ہماری آئندہ نسلوں پر کیااثرات مرتب ہونگے؟ اور مستقبل میں کیسا ماحول کری ایٹ ہوگا؟ اور ایسے ماحول میں کیا ہم اپنے بزرگانِ دین کی تعلیمات سے باخبر رہ پائیں گے یا نہیں؟ اگر نہیں تو نہیں کے نتیجہ میں ہم پہلے کہاں سے کہاں آگئے ہیں اور فیوچر میں کہاں چلے جائیں گے؟ اور جہاں ہم جائیں گے وہاں ہمیں پہنچانا کن مذاہب و کن ممالک کی خواہش وسازش ہے، جس کی تکمیل اب ہمیں واقعہ مذکور جیسی صورتوں میں ہوتی ہوئی دکھائی بھی دینے لگی ہے، مگر ہم نے اپنی سوچ نہیں بدلی، اگر بدل لی ہوتی، تو آج اِس قسم کے واقعات نہ ہورہے ہوتے، (فی امان اللہ)۔ *۔۔۔*۔۔۔*
726 total views, no views today


