پاکستان کو اس وقت جتنی سیا سی پختگی، یگا نگت اور اتحاد کے ساتھ ساتھ تجربہ کار اور موقع شناس سیاسی قیادت کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ کیونکہ پاکستان ایک طرف معاشی بحران میں پھنستا جا رہا ہے اور دن بدن آئی ایم ایف اور دیگر بین الا قوامی مالیاتی اداروں کا اثر و سوخ تیزی سے اس پر بڑھ رہا ہے اور اس کے براہ راست منفی اثرات عوام الناس اور مثبت اثرات ’’خواص الناس‘‘ پر پڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک کے اندر سب سے بڑے معاشی حب ’’کراچی‘‘ میں سیاسی شطرنج کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شطر نج کا کھیل انتہائی منظم انداز میں آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ کراچی بھلے دنوں میں دنیا کہ چھٹا بڑا اور روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اور پورے پاکستان کے غریبوں، مزدوروں اور بے روزگاروں کا دوسرا گھر تھا۔ آج وہ شہر بڑے بڑے ما فیا، دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ آرائی کا میدان بھی بن چکا ہے۔ نواز شریف حکومت نے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ریاستی اداروں کے ساتھ منا فقا نہ اوردورخی پالیسیوں کا نہ ختم ہونے والا انتہائی خطر ناک کھیل کھیلنا شروع کیا ہے اور شائد نواز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت سے صرف یہ سبق سیکھا ہے کہ اب وہ ریاستی اداروں کو مصروف اور سیا سی مقاصد کے لیے بہتر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔ کراچی میں رینجر آپریشن سے کسی بھی محب وطن پاکستانی کو اختلاف نہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان پر اس وقت تک نتا ئج کے مطابق عمل نہیں ہوسکتا جب تک ریاستی اداروں کو آئین و قانون کے مطابق آزادی نہ ہو۔ اداروں کے سربراہوں کو بھی قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام سیا سی پارٹیوں اور پارٹی رہنماؤں کا احترام کرنا چاہیے اور ہر سیاسی لیڈر اور ورکر کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ملک کے ریاستی اداروں کے لیے بلا تفریق تمام سیاسی پار ٹیاں ایک جیسی ہیں لیکن نواز شریف کے داخلہ پالیسیوں کے سر خیل چوہدری نثار کا عالم عقل تو یہ ہے کہ شائد اس کو نواز شریف کے محب الوطن ہونے پر بھی شک ہے۔ باقی الطاف حسین، زرداری اور اسفندیار ولی تو چوہدری نثار کو ہندوستانی نظر آتے ہیں، لیکن جب بھی نواز شریف کی کرسی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے، تو پھر نواز شریف کو سب سے زیادہ جمہوریت پسند اور محب الوطن الطاف حسین، محمود خان اچکزی، بزنجو، اسفندیار اور مولا نا فضل الرحمن نظر آتے ہیں اور پھر وہ پارلیمنٹ سے بھی آس لگا بیٹھتا ہے۔ پھر وہ زرداری کو بھی بھٹو ثانی بنا نے میں دیر نہیں لگاتا لیکن جب خطرہ ذرا سا ٹل جا تا ہے، تو پھر ساری سیاسی قیادت انڈیا کی ایجنٹ اور ملک دشمن بن جاتی ہے اور صرف اور صرف چوہدری نثار اور نواز شریف، علامہ اقبال اور قائد اعظم کی طرح معزز بن جاتے ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف اور ا ن کی ٹیم کی یہ سوچ اصل میں نہ صرف ان کی پارٹی اور حکمرانی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے بلکہ اس سے ریاست اور عوام کے درمیان رشتہ بھی رفتہ رفتہ کمزور ہو تا جا رہا ہے۔ پنجاب میں مولانا مسعود اظہر، فضل الرحمان، خلیل اور پروفیسر حافظ سعید کھلے عام جس طر ح مینار پاکستان کے نیچے جلسے پہ جلسے کر رہے ہیں، تو یہ بھی پا کستانی امیج اور مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں۔ اسلا م آباد میں عمران خان کے دھر نے کے ذریعے پچھلے سال جو ڈرامہ رچا یا گیا تھا اور کوئی بھی ریاستی ادارہ وزیر اعظم کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھا، پی ٹی وی پر حملے ہو رہے تھے، پولیس مار جا رہے تھے، لیکن عمران خان کو کسی بھی حکمران نے غداری کا سر ٹیفیکیٹ نہیں دیا لیکن یہ تو پاکستانی تاریخ میں درج ہے کہ غدار تو بلوچ، پختون، سندھ اور مہاجر ہیں اور پنجاب میں تو غدار پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ نواز شریف کو یاد رکھنا چاہیے کہ اب یہ بیسویں صدی نہیں اکیسویں صدی کا دور ہے۔ اُس نظریہ کا خاتمہ ہوچکا ہے کہ ’’پاکستان پنجاب اور پنجاب پاکستان ہے۔‘‘ مخصوص وقت تک نواز شریف ریاستی اداروں کو پختونوں، مہا جروں، بلوچوں اور سندھیوں کو مختلف ناموں پر غدار اور کرپٹ کروانے کے سر ٹیفیکٹ دلو ا سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستا نی کو ایٹمی طاقت بنا نے والا سندھی تھا۔ پاکستان کو معاشی ٹا ئیگر بنا نے والے بلوچ، پختون اور سندھی ہوں گے۔ گو ادر بلوچوں کاہے، کراچی سندھ کا اور دریاؤں کی سر زمین پختونوں کی۔ پنجاب کے حکمران سب کچھ کرواسکتے ہیں لیکن قدرت نے پختونوں، بلوچوں اور سندھیوں و مہاجروں کو جو کچھ دیا ہے، وہ پنجاب کے پاس نہیں ہے۔ قارئین، آج کی نشست کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ آپ کو بتا سکوں کہ کراچی جو منی پاکستان ہے، اس میں جس انداز سے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ الطاف حسین کو وزیر داخلہ جس انداز سے للکارر ہا ہے، یہ کسی بھی صورت میں درست نہیں۔ کیونکہ وزیر داخلہ اور نواز شریف کو یاد رکھنا چاہیے کہ کراچی میں جن قوتوں یعنی بر طا نیہ اور عرب شہزادوں سے آپ الطاف حسین کے خلاف اقدامات کے مطالبے کررہے ہیں، اصل میں کراچی میں بد امنی کے ذمہ دار یہی قو تیں خود ہیں۔ کراچی کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں کہ صرف الطاف حسین کو غدارقرار دیکر مسئلہ حل ہو جا ئیگا ۔ یہ تجر بہ تو نواز شریف پچھلی حکومتوں میں بھی کرچکا ہے لیکن مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ میرے خیال میں کراچی میں اس وقت علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی غیر علانیہ جنگ جاری ہے۔ الطاف حسین اور زرداری کے سا تھ جن دونوں کی پارٹیوں کے ساتھ عوامی مینڈیٹ ہے کو دیوار سے لگانے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسا حل نکا لنا چاہیے کہ زرداری اور الطاف حسین کو ساتھ ملا کر قانون و آئین کی حکمرانی یقینی بنائیں اور بیرونی آقاؤں نے جو سازش بنا ئی ہے، اس کو ناکام بنانا چاہیے۔ کیونکہ میری ناقص رائے اور علم کے مطابق بین الاقوامی طاقتیں چاہتی ہیں کہ الطاف حسین اور زرداری کو دیوار سے لگا یا جائے۔ تاکہ سندھ کے عوام اور مہاجروں کا ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہو اور تصادم کا ماحول بن جا ئے۔ خدارا، ریاستی ادارے عمران خان کے دھر نوں اور دھمکیوں اور نواز شریف کی غداری اور وفاداری کے سر ٹیفیکیٹ سے بچنے کی پالیسیوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور تمام سیاسی قا ئدین کا احترام کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کریں۔ بصورت دیگر مسائل حل ہونے کا نام نہیں لیں گے اور تصادم کا ماحول جنم لے گا۔
680 total views, no views today


