ہمارے پڑوس کا ایک جوان ریگولر پولیس فورس کا سپاہی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو اس کو گھر سے نکلتے دیکھا، تو میں نے آواز دے کر اسے پاس بلایا اور پوچھا: ’’شفیع اللہ! آج کل ڈیوٹی کہاں پر ہے؟‘‘ کہا: ’’آرکوٹ بر سوات میں۔‘‘ میں نے ویسے ہی کہہ دیا کہ ’’ریاست کے دور میں آرکوٹ میں ایک قلعہ ہوا کرتا تھا۔‘‘ اس نے کہا کہ ’’ہماری پوسٹ بھی اسی جگہ پر بنی ہوئی ہے جہاں پہلے قلعہ ہوا کرتا تھا۔ لوگوں نے اس پر قبضہ کیا ہوا تھا، تو آپریشن کے دوران آرمی نے وہ جگہ خالی کروادی اور وہاں پر پوسٹ قائم کردی۔‘‘ اس نے مجھ سے قلعہ کی ساخت کے بارے میں پوچھا اور جو کچھ میں اسے سمجھاسکتا تھا، بتادیا۔ اس نے مجھ سے آرکوٹ کے بارے میں مزید کچھ بتانے کو کہا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آرکوٹ کے بارے میں تو زیادہ نہیں جانتا، ہاں! اتنا یاد ہے کہ جب ہم پانچویں میں ہائی اسکول شگئی میں پڑھتے تھے، تو آرکوٹ کے ایک خان ’’تحصیلدار بابوزء‘‘ کی حیثیت سے سیدوشریف آئے۔ چوں کہ ان کی سرکاری رہائش گاہ افسر آباد میں ہمارے قریب ہی تھی، تو ان کے ساتھ ملنے کا اتفاق ہوا۔ اُن کا نام عبدالجلیل خان تھا اور وہ خان بہادر صاحب کے داماد تھے، اُن کا ایک بیٹا جو لنگڑا تھا اور بیساکھیوں کے سہارے چلتا تھا، ہمارا کلاس فیلو تھا۔ اس کا نام عبدالکبیر تھا۔ بس آرکوٹ کے ساتھ میری یہی محدود شناسائی ہے۔
ریاستی دور میں دفاعی لحاظ سے موزوں مقامات پر قلعے بنے ہوئے تھے۔ یہ عظیم الجثہ عمارات پتھر اور لکڑی کے بنے ہو ئے تھے۔ قلعے کے چار برج اور ایک ہی مین گیٹ ہوا کرتا تھا۔ اکثر قلعوں کے گرد گہری خندق کھدی ہوتی تھی، جس پر مین گیٹ میں داخل ہونے کے لیے بھاری شہیتروں کا ایک پل بنا ہوتا تھا۔
قلعے کے اندر چاروں طرف رہائشی دو منزلہ مکانات ہوتے تھے جس میں سپاہی اور قلعہ صوبیدار رہتے تھے۔ برجوں پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں بنی ہوتی تھیں، جو بہت چوڑی اور اونچی ہوتی تھیں۔ مجھے بچپن میں قلعہ کوٹہ جانے کا اکثر موقع ملتا تھا۔ مجھے ایک سپاہی ان سیڑھیوں پر چڑھا کر اوپر برج تک لے جاتا اور کندھے پر بٹھا کر ارد گرد کی سیر کرادیتا۔
قابل افسوس امر یہ ہے کہ یہ تمام قلعے اکثر ریاستی دور ہی میں مسمار کرکے جدید تھانے بنادیئے گئے۔ ایک قلعہ کوٹہ اور گلی باغ کئی سال تک کھڑے رہے۔ اگر اُن کو محفوظ رکھا جاتا، تو یہ بڑی ٹوورسٹ اٹریکشن بن جاتے، مگر مطلب پرست حکام نے ان دو یادگاروں کو بھی ڈھاکر ملیا میٹ کردیا۔ اس لمبی تمہید سے میرا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سوات میں موجود جوان نسل، ادغام ریاست کے بعد ’’تھرڈ جنریشن‘‘ ہے جن کو سوات کے ماضئی قریب کا بھی پتہ نہیں۔ ہمارے ذرائع ابلاغ بھی اس سلسلے میں کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں جو حضرات اس دور سے واقف تھے، اب تقریباً معدوم ہورہے ہیں۔ لے دے کے ایک راہیؔ صاحب اور حاجی رسول خان صحرا میں کبھی کبھی اذان دیتے ہیں، ورنہ ہر طرف بے پروائی اور سرد مہری چھائی ہوئی ہے۔ کسی کو ان باتوں سے اب دل چسپی ہی نہیں رہی۔ اس لاعلمی کے وجہ سے کئی لوگ مختلف قسم کے دعوے کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے تو ریاست کے آخری چیف جسٹس ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے میں یہ دعویٰ کروں کہ میں ریاست سوات کا آخری چیف انجینئر ہوں۔ میں اپنے سوات کی اس تیسری نسل سے مخاطب ہوں اور اُن سے میری درخواست ہے کہ وہ سوات کو دوسرے اضلاع کی طرح ایک ضلع نہ سمجھیں۔ دوسرے اضلاع کے برعکس سوات کا اپنا شاندار اور سنہرا ماضی ہے۔ اس کی ایشیائی تاریخ میں ایک الگ مقام ہے۔ اس کی ایک انفرادیت اور “ENTITY”ہے۔ ایک نمایاں شناخت ہے۔ سوات کبھی کسی بیرونی طاقت کا محکوم نہیں رہا۔ اہل سوات اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے خوگر ہیں۔ یہاں پر دوسرے اضلاع کے برعکس ساٹھ سال تک دو عظیم حکمرانوں نے شاندار روایات کی حامل بادشاہی کی ہے۔ جن کی انسانیت کے لیے خدمات کی پوری دنیا میں شہرت پھیلی ہوئی ہے۔ آج کی تھرڈ جنریشن کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ریاست کا شاہی جھنڈا کس طرح کا تھا، اس کا رنگ کیا تھا، ریاست کے معاملات کس طرح چلائے جاتے تھے، ریاست کے آخری تاجدار کی کیا خدمات ہیں؟ اگر نوجوانوں کی یہ بے خبری اس طرح جاری رہی، تو چوتھی نسل کو سرے سے معلوم ہی نہ ہوگا کہ سوات کبھی ایک خود مختار اور آزاد ریاست تھی اور یہاں پر میاں گل عبدالحق جہاں زیب خان جیسا علم پرور اور میاں گل عبدالودود جیسا نڈر سپاہی بادشاہ گزرے ہیں۔ ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ کم ظرفی سے بالا تر ہوکر سوات کے عوام میں اس عظیم الشان ماضئی قریب کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ مقامی سطح پر سیمینار اور مذاکروں کا انعقاد کریں۔ریاست سوات کے بارے میں عام فہم اردو اور انگریزی میں لٹریچر شائع کروائیں اور تعلیمی اداروں میں ریاست کے بارے میں کورسز متعارف کروائیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر سوات کے بارے میں تحقیق کا ایک الگ شعبہ قائم کیا جائے اور اس کی سربراہی مقامی سطح پر کسی پڑھے لکھے عالم شخص کے حوالے کردیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر سلطان روم صاحب اور پروفیسر سیف اللہ خان صاحب اس کے لیے موزوں شخصیات ہیں، جہاں تک میری معلومات ہیں پروفیسر سیف اللہ خان صاحب نے مشہور عالم بشریات پروفیسر فریڈرک بارتھ کی کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہوا ہے جس کا مسودہ ان کے پاس ہے۔ سوات سے محبت رکھنے والے حضرات اس مسودے کو طباعت کے مرحلے سے گزار کر سواتی عوام کو ایک اچھا تحفہ دے سکتے ہیں۔
824 total views, no views today


