سوات ، سیدوشریف میں مقامی غیر سرکاری ادارے اویکننگ کے زیراہتمام علاقے کے علماء کرام کے مابین کم عمری اور زبردستی کی شادی کے موضع پر سمینار سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم سیدوشریف میں مذہبی علوم کے استاد مفتی عبدالوہاب نے کہا کہ دین اسلام میں تمام دنیاوی مسائل اور تنازعات کا حل موجود ہے اور اگر معاشرے میں دین اسلام کے سنہرے اصولوں پر لوگ عمل کریں توکئی مسائل حل ہونگے انہوں نے کہاکہ معصوم بچی کو صلح بدل میں سورہ کے عوض دینا کسی بھی طرح جائز نہیں اس طرح زبردستی کے شادی بھی جائزنہیں چونکہ ہمارے معاشرے میں ولی باپ بڑے بھائی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے فیصلہ کریں اور مختلف معاشرتی برائیوں سے بچانے کے لئے بعض اوقات خاندان کے سربراہ بچوں کے بچپن میں شادی کرتے ہیں جوکہ بعد میں کامیاب بھی ہوتے ہیں مگر دین اسلام میں اس کی جازت نہیں ہے ، جبکہ ہمارے کئی نکاح خواں کویہ معلوم ہی نہیں ہوتاکہ یہ شادی زبردستی یا سورہ کی ہے کیوں کہ نکاح کے وقت عموما بچی موجود نہیں ہوتی اور اس کا ولی اس کے لئے اقرار کرتاہے تو اس میں نکاح خواں کا کوئی قصور نہیں ہوتا مگر اگر نکاح خوا کی علم میں یہ بات ہوکہ بچی نابالغ ہے یا سورہ میں دی جارہی ہے تووہ نکاح نہیں کرسکتا ہماری رویات ہے کہ کئی شادیوں کی نکاح نامے موجودبھی نہیں اور گواہان بھی کسی کو یاد نہیں مگر پھر بھی یہ شادیاں کامیاب ہوتی ہے ۔ اس سے قبل اویکننگ کے نمائندے افتخار حسین نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں اورگھریولوں تشدد، طلاقوں میں اضافہ ہوچکاہے جبکہ عدالتوں میں سب سے زیادہ گھریولوں تنازعات کے مقدمات درج کئے جارہے ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ علماء کرام اس سلسلے میں آگاہی پیدا کریں اور ہماری رہنمائی کریں تاکہ ان مسائل سے نمٹاجاسکیں۔
674 total views, no views today


