کالام،خیبر پختونخوا حکومت کا تعلیمی انقلاب ہوا میں تحلیل ہوگیا۔گورنمنٹ ہائرسیکنڈری کالام دو ایس ایس کے رحم و کرم پر۔ کالج کی چاردیواری مویشیوں کی چراگاہ بن گئی۔ طلباء کے لئے کتابیں ندارد۔ جا بجا گندگی کی ڈھیر سے کالج کوڑے دان کا منظر پیش کرنے لگا۔بارہ سالوں سے کالج پرنسپل سے بھی محروم۔ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔تفصیلات کے مطابق سوات کی وادی کالام کا واحد ہائر سیکنڈری سکول میں انگلش اور اردو کے دو ایس ایس کے علاوہ باقی تمام مضامین کے ٹیچر موجود نہیں، جبکہ تعلیمی سال ختم ہونے جا رہا ہے اور بچوں کو تاحال اردو اور انگلش کے علاوہ دیگر مضامین کی کتابیں بھی نہیں ملی ہیں۔ سکول کی چاردیواری میں دن بھر مویشیاں چرتی ہے۔ کالج میں جابجا گندگی کی ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ طلباء نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ صوبائی حکومت تعلیمی انقلاب کے بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں اور اصل صورت حال یہ ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بھی پاکستانی تصور کرکے ان کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جائے۔
760 total views, no views today


