سوات، سنٹرل ہسپتال میں معالجوں کے غفلت سے ایک اوربچہ جاں بحق،لوگوں کا ہسپتال میں سہولیات کے فقدان اور معالجو ں کے مریضوں کے علاج معالجہ میں عدم دلچسپی پر شدید احتجاج،ضلع ناظم محمد علی شاہ نے بھی ہسپتال کے ابتر حالت پراپنے بے بسی کا اظہار کردیا،گزشتہ روز سنٹرل ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف کی غفلت کیوجہ سے چھ ماہ حمیر ولدمحمد خان سکنہ بٹ خیلہ جاں بحق ہوگیا،معصوم بچے کو والدین نے بیماری کیوجہ سے ہسپتال دو دن پہلے داخل کیا تھا،
معالجوں کے غفلت کیوجہ سے جاں بحق ہونے والے بچے کے ورثاء اور عام لوگوں نے واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے ،ہسپتال میں نہ مفت دوائیاں دی رہی ہے اور نہ ہی معالجوں کا رویہ ٹھیک ہے ،ہسپتال میں موجود نرسنگ سٹاف اپنے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں،بچے کے والد کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں بچے کو داخل کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے مہنگے دوائیاں مجھ پر باہر سے منگوائے مگر بچے کو وہ دوائیاں نہیں دی گئی میرے بیٹے کی حالت بگڑنے پر میں نے ڈاکٹروں اور نرسنگ سٹاف کو معائنہ کیلئے منتیں سماجتیں کیں مگر انہوں نے کوئی توجہ ہی نہیں دی جس کیوجہ سے میرا پھول جیسا بچہ جاں بحق ہوگیا،ادھرواقعہ کی اطلاع ملتی ہی ضلع ناظم محمد علی شاہ بھی سنٹر ل ہسپتال پہنچ گئے اور واقعہ کے انکوائری کا حکم دیا،بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضلع ناظم نے کہاکہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹلز میں سہولیات کا فقدان ہے ،ذمہ دار وں کو اپنے پیشے کا احساس نہیں،بدقسمتی سے ٹیچنگ ہسپتال ضلع حکومت کے اختیار میں نہیں ہے اور میرے پاس بھی کسی کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے اگر ہسپتالوں کو ضلعی حکومت کے ماتحت کیا گیا توتین ہفتوں میں ہسپتال کا نقشہ بدل دینگے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ واقعہ پر شدید افسوس ہے اور اس کی لئے انکوائری کا حکم دیا اور جو بھی واقعہ کا ذمہ دار نکلا اس کے خلاف کارروائی کرینگے۔
376 total views, no views today


