مینگورہ، سوات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے،پارٹی میں فرد واحد کے فیصلوں سے دیرینہ کارکنان بغاوت پر اتر آئے،ضلعی نظامت کے چناؤ پر کارکنوں کے اختلافات میں مزید اضافہ ،ضلعی جنرل سیکرٹری و اہم شخصیات انجینئر عمر فاروق کو عہدے سے فارغ کرنے کے بعدپارٹی میں موجود سوات کی اہم شخصیات و کارکنان سیاسی مستقبل کے حوالے سے پریشان،من پسند فیصلوں اور پارٹی معاملات میں یکسر نظر انداز کرنے پر پہلے سے کئی اہم شخصیات ناراض ہے
جس کیوجہ پارٹی کئی واضح حصوں میں تقسیم ہے جو پارٹی کے کمزور کرچکے ہیں پہلے سے موجود اختلاف میں شدت اس وقت ائی جب بلدیاتی الیکشن کے بعد ضلعی نظامت میں سے این اے انتیس اور پی کے اسی کو مکمل نظر انداز کیا،ان دونوں حلقوں کے کئی اہم شخصیات جو پارٹی کیلئے برسوں سے کام کررہے ہیں الیکشن میں جیت گئے اور ضلعی انظامت کے معیار پر پورا اترتے تھے مگر ان کو متوقع امیدواروں کے لسٹ میں شامل تک نہیں کیا گیا جس سے اختلافا ت اتنے بڑھ گئے کہ مجبوراًسابقہ جنرل سیکرٹری انجینئر عمر فاروق کو سوات میں پارٹی تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے میدان میں کودنا پڑا جس کا صلہ اس کوعہدے سے برطرفی کے صورت میں مل گیاامیر مقام کے من پسند فیصلوں کیوجہ سے کئی اہم رہنماء پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں،اس سے پہلے پارٹی کے اہم شخصیات میانگل شہریار امیرزیب اور دست محمد خان آف حیات آباد بھی من پسند اور خودساختہ فیصلوں کیوجہ سے کنارہ کش ہوچکے ہیں ،سوات کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ مسلم لیگ(ن) سوات میں ایک مضبوط قوت ہے مگر اہم کارکنوں کے ناراضگی اور پارٹی چھوڑنے کیوجہ سے مستقبل میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہے،پارٹی کے مرکزی قائدین مالاکنڈ ڈویژن خصوصاًسوات میں اختلاف ختم کرنے کیلئے مزید چشم پوشی کریں
252 total views, no views today


