مینگورہ، داماد کے ظلم کا نشانہ بننے والی مینگورہ کے علاقہ طاہر آبادکی رہائشی خاتون باچاہی زرنے حکومت سے انصاف کی فراہمی کامطالبہ کردیا، سولہ سالہ گلوکارہ بیٹی حمیرا اقبال کو ظالم شوہر نے ایک سال سے زنجیروں میں قید کررکھا ہے اورمجھ پر تشددکرکے پورے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے ،تحریک انصاف کی حکومت ہمیں تحفظ فراہم کرنے سمیت ہماری بیٹی کو ظالم شوہر کی قیدسے آزادی دلائے،ان خیالات کا اظہار سولہ سالہ گلوکارہ حمیرااقبال کی والدہ باچاہی زر نے اپنے شوہر اختراقبال کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ نہایت دباؤ اورقتل کی دھمکیوں کے باعث ایک سال قبل پشاور کے رہائشی پچاس سالہ سلام ولدامیرحیدر کیساتھ حمیراکی شادی کرائی جس کی پہلے سے دو بیویاں تھیں، ہماراتعلق فنکار فیملی سے ہے ،میری گلوکارہ بیٹی سولہ سالہ حمیرااقبال جب شہرت کی بلندیوں پر پہنچی تو اس وقت سلام اس کے پیچھے پڑگیا وہ باربار میری بیٹی کا ہاتھ مانگنے آتا رہا ہم نے مجبورہوکر حمیرااقبال کی منگنی سلام سے کرادی ،حق مہر تیس تولے زیورات اور دس لاکھ روپے مقررکردئے،بعدمیں رقم بھی نہیں دی جبکہ زیورات بھی جعلی نکلے مگرہم خاموش رہے ،انہوں نے کہاکہ ایک سال قبل میری بیٹی کی شادی سلام کیساتھ ہوئی جس کے بعد اس نے میری بیٹی کو گھرمیں مکمل طورپر قید کردیا،اس ایک سال میں ہم نے اپنی بیٹی کا منہ تک نہیں دیکھا جب یاد ستانے لگی تو آج سے دودن قبل بیٹی کودیکھنے پشاور گئی وہاں جاکر دیکھا تو وہ ایک کمرے میں زنجیروں سے بندھی ہوئی تھی جبکہ جسم پر تشددکے نشانات تھے ،انہوں نے کہاکہ اس وقت میراداماد سلام اپنی دوسری بیوی کیساتھ تھاجب مجھ پر نظر پڑی تو مجھ پر بھی تشددشروع کیامیں دوسرے کمرے میں بھاگ گئی اوردروازہ لاک کردیا وہ کلہاڑی سے دروازہ توڑکرمجھے زدوکوب کرنے لگا جس سے میں لہولہاہوگئی ساتھ ساتھ میری بیٹی کو بھی ماراپیٹااس دوران میں گھر سے بھاگ گئی باہرجاکر چیخیں ماریں اس اثنا ء ایک گاڑی آئی ڈرائیورمجھے ایک پرائیویٹ کلینک لے گیا جہاں پر مرہم پٹی کرائی ،انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے شوہر اختراقبال کو کال کی جو رات گئے مینگورہ سے پشاور پہنچ گیا جس نے مختلف تھانوں میں رپورٹ درج کراناچاہی مگر کسی نے روپورٹ نہیں لی،انہوں نے کہاکہ اب بھی سلام کی جانب سے ہمیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں وہ کہتاہے کہ تم میاں بیوی اور تمہاری بیٹی حمیراکو فنکارہ غزالہ جاوید کی طرح قتل کردوں گا جس کے سبب ہماری زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس،وزیراعلیٰ صوبہ خیبرپختونخوا،وزیراعظم پاکستان اوردیگر ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ وہ ہمیں تحفظ فراہم کرنے سمیت ملزم کو سزادلائیں اورہماری بیٹی کو اس کی قید سے آزادکراکے ہمارے حوالے کریں بصورت دیگر وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے خودسوزی پر مجبورہوجائیں گے۔
956 total views, no views today


