تحریر : رفییع اللہ
سابقہ ضلع ناظم سوات ڈاکٹر محبوب الرحمن بلاشک و شبہ سوات میں انظمام ریاست کے بعد پہلے شخصیت ہے جنہوں نے سیاست میں بڑے بڑے برجوں کے ساتھ پنجہ آزمائی کی اور جمہوریت کی حقیقی روح سوات کے عوا م کے سامنے رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ تب سے آج تک انکا متوسط خاندان سوات کے مالدار خاندانوں میں شمار ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے بھائیوں نے کاروبار میں ترقی لا کر نہایت خوشحال ہوئے ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے سیاسی سفر کو اتنی تندہی سے نہیں نبھایا ۔ جتنا انکے بیٹے سلیم الرحمن نے نبھا یا۔ موقع کے نزاکت کو دیکھتے ہوئے ابائی پارٹی کو چھوڑتے ہوئے راستے میں تحریک انصاف میں شرکت کی اور آج کل وہ ڈاکٹر محبوب الرحمن کے سیاسی بصیرت اور امیر مقام کے ڈومیسائل کی وجہ سے حلقہ NA 130 کے ممبر بنے ۔ یہ بحث دو دوستوں کے درمیان جاری تھی ۔
سلیم الرحمن سے کچھ ہفتوں پہلے سوات پریس کلب میں انکشاف کروایا گیا کہ بارہویں جماعت کے مطالعہ پاکستان میں خطرناک قسم کے غلطیاں ہیں جس کے پڑھانے سے ھمارے ائیندہ نسل برے سبق سیکھ سکتی ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یم این اے صاحب نہایت ہی قابل شخصیت ہے اور انکو ں آج تک یاد ہے کہ بارہویں کے مطالعہ پاکستان میں کیا کیا پڑھاگیا تھا اور اس پڑھائی کے وجہ سے ان کی حب الوطنی کتنی پر عزم ہے۔ جبکہ ناقدین سمجھتے ہیں کہ یہ انہوں نے پڑھا بھی نہیں ہوگا بلکہ تحقیق بھی نہیں کی ہوگی کہ اس کتاب کو کس کس نے تجویز کیا اور کس حکومت نے اس کے اجازت دی۔ اب دیکھتے ہیں کہ جناب سلیم الرحمن اس کو کس کس فورم پر لے جا کر بات کرتے ہیں اور کیا نتیجہ نکلتا ہے اور اگر نتیجہ نکلتا ہے تو موصوف دوبارہ پریس کانفرنس کر کے اپنے کوششوں کو بیان کرتے ہیں یا نہیں!
832 total views, no views today


