ایک فلاحی ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے رعایا کو زندگی کے بنیادی سہولیات فراہم کریں گے ان بنیادی سہولیات میں سرفہرست تعلیم اور صحت پرعمومازور دیا جاتا ہیں لیکن پاکستان پھر خیبرپختونخواہ اور پھر شانگلہ میں اس کے برعکس ہیں وہاں عوام کو ان سہولیات سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ ان کو ان سہولیات کا پتہ ہی نہیں چلے اور جہالت کے اندھیروں میں رہ کر اس فانی دنیا سے رخصت ہوں،شانگلہ کے 75 فیصد لوگ پہاڑوں پر آباد ہیں ان کے ذرائع آمدن کوئلے کے کانوں میں مزدوری ہیں جس سے وہ پورے ملک کے معیشت کا پہیہ چلارہے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پورے ملک میں ان عوام سے زیادتیوں کی انتہا ہوتی ہیں اور ان پر ہی ہر قسم کے مظالم ڈھالے جاتے ہیں شانگلہ کے پہاڑوں میں اگر تعلیم کا سلسلہ جاری تھا تو وہ والی سوات کے زمانے میں بنائے گئے پرائمری سکولوں میں تھا لیکن زلزلہ 2005 کیا ائی کہ حکومتی اہلکاروں کیلئے سونے کی چڑیا پیدا ہوگئی اور والی سوات کے بنائے ہوئے سکولوں کے عمارا ت گراکر پھر وہاں سے مکمل طور پر غائب ہونے میں کامیاب ہوگئے اور عوام کے ساتھ جو تھوڑا بہت تعلیم کا اسرا تھا وہ بھی ان سے چھین لیا اور اب تک 10 سال ہوگئے لیکن ان سکولوں کے عمارات نہ بن سکیں اور شانگلہ کے سینکڑوں بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب گیا ،دوسرا بڑا مسئلہ صحت کا ہے شانگلہ میں صحت کے سہولیات کا تو نام تک نہیں اگر تھوڑے بہت ہیں بھی تو وہ مختلف مافیا کے قبضے میں ہیں شانگلہ میں ہر ہفتے کئی مائیاں اپنے بچوں کو جنم دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں ،غریب لوگ ایک اپنڈیکس اپریشن کیلئے کتنے تکالیف برداشت کرکے سوات میں آپریشن کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں شانگلہ کے سب سے بڑا صحت کا مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری ہے جس میں مختلف مافیا موجود ہیں ایک ڈاکٹر مافیا ہیں جنہیں نہ تو غریب عوام کا احساس ہے نہ انہیں خوف خدا ہے اگر انہیں فکر ہے تو صرف اپنی ڈیوٹی سے جان چھڑانا پیسے کمانا،اگر کوئی ان کے خلاف ایکشن لے تو اس کیلئے راستے تلاش کرنا ، دوسرا چپڑاسی مافیا ہیں انہوں نے مختلف سیاسی شخصیات کو اپنا ڈھال بنایا ہوا ہے او ر وہ بھی اپنی مرضی سے ٖڈیوٹی کرتے ہیں وہ ایک الگ مضبوط مافیا بن چکا ہیں ،اس کے علاوہ ٹیکنیشن مافیا کلرک مافیا ،نرس مافیا بھی سرگرم عمل ہیں لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ ایک دن ہم نے مرنا بھی ہے اور اللہ تعالی کے بارگاہ میں بھی پیش ہونا وہاں بھی اپنی ذمہ داریوں کا حساب دینا ہیں ان مافیا میں شانگلہ کے تمام سیاسی مشران عہدیداران ،مقامی لیڈران اور ضلعی انتظامیہ برابر کی شریک ہے یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا اور شانگلہ کے ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹرز اور انتظامیہ کی غفلت سے ایک پھول جیسا بچہ اپنی زندگی سے ہاتھ دوھو بیھٹا اور اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا لیکن اس واقعے سے شانگلہ کے سیاسی شخصیات کو سبق لینا چاہیے اور انہیں چاہیے کہ وہ شانگلہ کے تمام علاقوں بنیادی تعلیم اور صحت کے سہولیات کے فراہمی کیلئے کام کرے تاکہ شانگلہ کے عوام مزید تکللیف اور اذیت اٹھانے سے بچ جائے۔۔
758 total views, no views today


