سوات کے ضلعی انتظامیہ نے زلزلے کے فوراً بعد ایمرجنسی کنٹرول روم قائیم کیا اور ساتھ ہی عوام کے ساتھ پہلے سے قائم شدہ ایس ایم اس کمپلینٹ سیل(8333) کے ذریعے وقتاً فوقتاً رابطہ قائیم رکھا۔ اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے رہے۔ ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر بھی زلزلے کے صرف چند منٹ بعد خود سیدو ٹیچنگ ہسپتال پہنچ گئے۔اور ہسپتال کا تمام عملہ بھی موجود رہا۔سیدوٹیچنگ ہسپتال میں256 زخمیوں کو طبّی امداد فراہم کیا گیا۔جسمیں سے 54 زخمی ابھی بھی زیر عِلاج ہیں،تاہم ان مریضوں میں سے کچھ کا تعلق ضلع شانگلہ سے بھی ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے طرف سے زخمیوں اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں میں مُفت کھاناتقسیم کررتے رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سوات نے ہنگامی بُنیاد پر پاک آرمی اور یو اے یی کے تعاون سے بنائے گئے شیخ خلیفہ بِن زاہد النحیان ہسپتال کو بھی کھول کر سٹاف ڈِپلائی کیا۔جسمیں ابھی 11مریض زیر عِلاج ہیں۔ہسپتال میں عصرِحاضِرکے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جدید آلات (سی ٹی سکین ، ئی سی جی ، ایکسرے ) نصب ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سوات نے آج اِسی ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔ صوبائی حکو مت کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم اے کے تعاون سے زلزلہ متاثرین میں 678 ٹینٹ، 500 گرم کمبل، اور 21609 کلوگرام خوراکی اشیاء (دال،آٹا،گھی،چینی وغیرہ) تقسیم کئے۔ ساتھ ہی ساتھ 2081کلوگرام تیار کھانے کے پیکجز بھی تقسیم کیے۔ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جاچُکی ہیں۔جس میں پاک آرمی کے نمائیندے بھی شامِل ہیں۔تقریباً تمام رابطہ سڑکیں پاک آرمی کے تعاون سے بحال کیے جاچُکے ہیں۔بحرین کالام روڈ،کالام مٹلتان روڈ، کالام اُترور روڈبھی کھول دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ سول سوسائیٹی،پاک آرمی اور پارلیمنٹیرین بھی بحالی کے اس کام میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔سوات کے ضلعی انتظامیہ نے زلزلے کے فوراً بعد ایمرجنسی کنٹرول روم قائیم کیا اور ساتھ ہی عوام کے ساتھ پہلے سے قائم شدہ ایس ایم اس کمپلینٹ سیل(8333) کے ذریعے وقتاً فوقتاً رابطہ قائیم رکھا۔ اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے رہے۔ ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر بھی زلزلے کے صرف چند منٹ بعد خود سیدو ٹیچنگ ہسپتال پہنچ گئے۔اور ہسپتال کا تمام عملہ بھی موجود رہا۔سیدوٹیچنگ ہسپتال میں256 زخمیوں کو طبّی امداد فراہم کیا گیا۔جسمیں سے 54 زخمی ابھی بھی زیر عِلاج ہیں،تاہم ان مریضوں میں سے کچھ کا تعلق ضلع شانگلہ سے بھی ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے طرف سے زخمیوں اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں میں مُفت کھاناتقسیم کررتے رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سوات نے ہنگامی بُنیاد پر پاک آرمی اور یو اے یی کے تعاون سے بنائے گئے شیخ خلیفہ بِن زاہد النحیان ہسپتال کو بھی کھول کر سٹاف ڈِپلائی کیا۔جسمیں ابھی 11مریض زیر عِلاج ہیں۔ہسپتال میں عصرِحاضِرکے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جدید آلات (سی ٹی سکین ، ئی سی جی ، ایکسرے ) نصب ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سوات نے آج اِسی ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔ صوبائی حکو مت کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم اے کے تعاون سے زلزلہ متاثرین میں 678 ٹینٹ، 500 گرم کمبل، اور 21609 کلوگرام خوراکی اشیاء (دال،آٹا،گھی،چینی وغیرہ) تقسیم کئے۔ ساتھ ہی ساتھ 2081کلوگرام تیار کھانے کے پیکجز بھی تقسیم کیے۔ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جاچُکی ہیں۔جس میں پاک آرمی کے نمائیندے بھی شامِل ہیں۔تقریباً تمام رابطہ سڑکیں پاک آرمی کے تعاون سے بحال کیے جاچُکے ہیں۔بحرین کالام روڈ،کالام مٹلتان روڈ، کالام اُترور روڈبھی کھول دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ سول سوسائیٹی،پاک آرمی اور پارلیمنٹیرین بھی بحالی کے اس کام میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
606 total views, no views today


