منگورہ، گرمیوں کے آمد نے اہلیان منگورہ کیلئے خطرے کی گنٹھی بجا دی۔ڈینگی وائرس سے بچاؤ کیلئے انتظامیہ کے ناقص انتظامات نے مہم کی قلعی کھل دی۔منگورہ خصوصا ملوک آباد رنگ محلہ جو کہ پچھلے سال سب سے زیادہ متاثر ہوئے اس دفعہ بھی وہی صورتحال کا امکان ہیں۔صفائی کے نا قص انتظامات اور خصوصا گند سے بھرپور پانی جو کہ سرکاری پائپوں میں آتا ہے ڈینگی کے افزائش کا باعث بن رہا ہے۔
انتظامیہ کی ڈینگی مہم صر ف بازار کے دوروں اور اخباری بیانات تک محدود ،عوام اپنے مدد اپ کے تحت اقدامات اٹھانے پر سوچنے لگے ،ناقص انتظامات نے انتظامیہ کے کاکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ سوات خصوصا منگورہ شہر جو کہ گزشتہ سال ڈینگی کے زد میں تھا۔ڈینگی وائرس نے منگورہ شہر کے سینکڑوں لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہیں جبکہ ایک اعلی سطح کی اجلاس میں بھی اس خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ اگر ڈینگی وائرس پر قابو پانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو مستقبل میں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کا بھی خدشہ ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے ڈینگی مہم صرف اخباروں کے حد تک چلا کر خود کو بری الذمہ کردیا ہے ۔پچھلے سال ڈینگی وائرس نے منگورہ کے گنجان اباد علاقے ملوک اباد اور رنگ محلہ کو شدید متاثر کیا تھا ڈینگی وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی ان دوجگہوں پر ہوئی۔اس دفعہ بھی ملوک اباد اور رنگ محلہ کے شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہیں۔پینے کے پانی کیلئے بھی سرکاری پائپوں میں گندا پانی ارہا ہیں رنگ محلہ میں کلینک چلانے والے مقامی ڈاکٹر کا کہنا ہے گزشتہ دو تین دنوں سے بخار کے مریض مسلسل ارہے ہیں اور ان میں زیادہ تر افراد میں ڈینگی کے علامات موجود تھے انتظامیہ ڈینگی وائرس پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ۔
472 total views, no views today


