چھبیس اکتوبر کے شدید زلزلے نے منگلور کے گاؤں اور آس پاس کے مضافات کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ منگلور کے غیور عوام نوے فیصد سے زیادہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بہ مشکل اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان میں اکثر چھوٹے عہدوں کے سرکاری ملازم ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ مشکل سے خرچہ پورا کرتی ہے۔ ان لوگوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر عمر بھر کی پونجی سے دو یا تین کمروں کا پختہ مکان بنایا اور اس کی سفیدی کر واکر ایسے خوش و خرم رہنے لگے جیسے اُن کی عمر بھر کی تھکان دور ہوچکی ہو۔ اب اچانک چھبیس اکتوبر کے زلزلے نے ان کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ برسوں کی کمائی ایک جھٹکے کی نذر ہوگئی ہے۔ زیادہ پریشان ذکر شدہ درمیانے طبقے کے لوگ ہیں۔ کیا مستقبل کے کمانے کے چانس اور اتفاقات انہیں دوبارہ اس قابل بنا دیں گے کہ وہ اپنے مکان از سرنو پختہ بنوا سکیں؟ یہ چھوٹے چھوٹے پختہ گھر ان لوگوں کے خوابوں کی تعبیر تھے۔ ان کی آرزوؤں اور ارمانوں کے نشان تھے، جو اب نہیں رہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ سوات کی ساخت اور سماجی بناوٹ ایسی تاریخی سلسلے پر مبنی ہے کہ سوات کے عوام اپنے گھرکی آرزو، اُمید اور تعمیر کے لیے روز اول سے ترستے چلے آرہے ہیں۔ وہ جتنے اپنے مکانات کو عزیز، خوبصورت اور صاف ستھرا رکھنا چاہتے ہیں، اُتنا ہی ان کے آرزوؤں کا قتل عام ہوتا ہے، مکان تباہ ہوتے ہیں۔ کبھی طالبان کے نام پر سواتی عوام کے مکانات بموں سے اُڑائے گئے، پھر بدلے میں انتقامی طور پر سواتی عوام ہی کے مکانات بعض طاقتوں نے بارود سے اُڑا کر صفحۂ ہستی سے مٹا دیئے۔ کبھی سیلاب نے گھروں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا تو رہی سہی کسر زلزلوں نے آکر پورا کردی۔ منگلور گاؤں کے اندر اور باہر مضافات میں ایک عرصے سے بنے ہوئے تمام کچے گھر (جو گارے، مٹی اور پتھر سے بنے ہوئے تھے) زمین بوس ہوگئے ہیں۔ غریب خاندان کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔ سردی ہے اور اس کڑاکے کی سردی میں کب تک رشتہ دار خاندان ان متاثرین کو پناہ دینے کی پوزیشن میں ہوں گے؟ جو کرایہ دار ہیں وہ بھی پریشان جبکہ مالک مکان بھی فکر مند ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں تعمیراتی میٹریل کہاں سے اور کیسے حاصل کیا جائے؟ کیوں کہ زلزلے کی وجہ سے تعمیراتی میٹریل (سیخ، سیمنٹ، باجری، ریت، اینٹ یا بلاک) مع مستری اور دہاڑی مار کے بے حد مہنگے ہوجایا کرتے ہیں۔ کچے مکانوں میں رہنے والوں کی بھی اب اتنی طاقت نہیں کہ وہ گارے، مٹی اور پتھر سے وہ مکانات دوبارہ بناسکیں۔ حکومت کے سرکاری تعمیراتی پیکیج اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، وہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ حکومت براہ کرم فی الفور اپنی امدادی کارروائیاں شروع کرے۔ اس میں روایتی تاخیری حربوں سے کام نہ لے۔ خزانے کا منہ کھول دے۔ تمام کام اور سرگرمیوں کو منسوخ کرکے صرف اور صرف متاثرین زلزلہ کی بحالی پر توجہ مبذول کرے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے۔ حالات کے ظلم و ستم اور وقت کے جبر کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت بھی بھرپور تعاون کرے۔ پاکستان، خیبر پختونخوا اور ضلع سوات کے مخیر حضرات بھی امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایک مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائیوں کے کام آنا چاہئے۔ مسلمان بھائی کے مال میں غریب مسلمان کا حصہ ہوتا ہے۔ اس طرح جن لوگوں کا نقصان نہیں ہوا ہے یا کم ہوا ہے، وہ خدا کا شکر ادا کریں۔ ناشکرے نہ بنیں اور زبردستی اپنے مکانوں اور گھروں میں کریکس تلاش نہ کریں۔ جھوٹ موٹ کا واویلا نہ کریں اور اس سوچ سے اپنا نام متاثرین کی لسٹ میں درج نہ کریں کہ چلو نقصان نہ سہی کچھ نہ کچھ تو مل ہی جائے گا۔ یہ دوسروں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف عمل ہے۔ قارئین کرام! گاؤں منگلور آج زلزلہ زدہ ہے، اُداس ہے اور ویران ہے۔ یہ رو رہا ہے۔ آیئے، ہم سب اس کی اشک شوئی کریں۔ اپنی حیثیت کے مطابق اپنے گاؤں منگلور کا ساتھ دیں۔ منگلوریوں کے حوصلے بڑھائیں۔ اس طرح نوجوان بھی زندہ حوصلوں کے ساتھ نئے عزم اور نئے ارادوں کے ساتھ ایک نئے منگلور کی تعمیر کریں۔
742 total views, no views today


