تحریر پروفیسر خورشید خان
قدرتی آفات روئے زمین پر ہر جگہ مختلف وقتوں میں مختلف شکلوں میں آئی ہیں اور آتی رہیں گی۔ کہیں سمندری طوفان، تو کہیں سیلاب و خشک سالی، کہیں غیر معمولی بارشیں، تو کہیں وبائی امراض۔ ان آفات سے ہر جگہ انسان ہی زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پھر یہیں انسان قدرت کو قابو کرنے اور نقصانات کم سے کم کرنے میں مصروف عمل ہے اور اس میں کافی حدتک کامیاب بھی ہوا ہے۔ سوات بھی اسی طرح کبھی انسان کے ہاتھوں تو کبھی قدرتی آفات سے نبرد آزما ہے۔ یہاں کے باشندے تشدد، نقل مکانی، سیلاب اور حالیہ زلزلہ جیسی آفتوں میں سے ابھی ایک سے سنبھلے ہی نہیں ہوتے کہ دوسرا نمودار ہو جاتا ہے۔ چھبیس اکتوبر 2015ء کے زلزلے نے جہاں قیمتی جانیں لے لیں (ویسے مقتدر حلقوں کی نظر میں سوات کی انسانی جان کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے) اور کئی کو معذور بنایا، وہاں رہائشی مکانات اور تاریخی درسگاہ جہانزیب کالج کو بھی نقصان پہنچا۔ یوں کالج میں کلاس رومز کی کمی کے مسئلہ نے جنم لیااور تدریسی سرگرمیاں معطل ہوئیں۔ کالج انتظامیہ متبادل جگہ فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی کہ محکمہ تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) نے کالج بلڈنگ کو غیر محفوظ قرار دے کر ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی کوریج اور متعلقہ اور غیر متعلقہ شخصیات کی آمد نے ایک عجیب سی الجھن پیدا کی۔ سوال یہ ہے کہ جہانزیب کالج میں متبادل کلاس رومز کا بندوبست مسئلہ ہے کہ عمارت کی بحالی؟ زمینی حقائق تو کلاس رومز ہی کو سلگتا مسئلہ گردانتے ہیں جبکہ عمارت کی بحالی میں کوئی دو رائے نہیں۔ جہانزیب کالج کا آئی ٹی بلاک واقع متصل ودودیہ ہال اس وقت ایک معاہدے کے تحت سوات یونی ورسٹی کے زیر استعمال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاہدہ زائد المیعاد ہوچکا ہے ۔ اگر یہ بات صحیح ہے اور آئی ٹی بلاک جہانزیب کالج کو واپس ملتا ہے، تو تین شعبہ جات کے طلبہ اسی عمارت میں پڑھائی شروع کرسکتے ہیں اور یون مسئلہ کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ کم مدتی منصوبہ کے تحت جہانزیب کالج کے کلاس روموں کا مسئلہ بیس سالوں کیلئے حل ہوسکتا ہے۔ بہ شرط یہ کہ حکومت کا عزم ہو اور عوامی نمائندے اس کو عوامی مسئلہ تسلیم کرتے ہوں۔ وہ اس طرح کہ جہانزیب کالج کے فیڈرل ہاسٹل کے ساتھ خالی زمین پڑی ہے جس پر ہنگامی بنیادوں پر اکیڈمک بلاک کم مدتی منصوبہ کے تحت تعمیر کرنے سے کلاس روموں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔اس میں خالی پلاٹ کے خریدنے کا خرچہ اور انتقال کی طویل قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ حکومت چاہے، تو ہنگامی فنڈ سے کسی بھی وقت اس کا تعمیراتی کام شروع کرسکتی ہے۔ جہانزیب کالج کے سائنس بلاک کے عقب میں ایک اور زمین خالی پڑی ہے۔ یہ بھی کالج کی ملکیت ہے۔ اس زمین پر (اور اگر ضرورت پڑے، تو ایک یا دو بنگلوں کی زمین کو ملاکر) ایک وسیع و عریض تدریسی بلڈنگ تعمیرہوسکتی ہے جو کہ آئندہ بیس سالوں کیلئے کافی ہوگی۔اگر کلاس روموں کا مسئلہ حل کرنا ہے، تو یہ اسی طرح حل ہوسکتا ہے اور اگر کالج کی بلڈنگ ہی مسمار کرنا مقصود ہے، تو وہ بات الگ ہے۔ جہانزیب کالج وادئ سوات میں امن اور روشن خیالی(Peace & Enlightenment) کی علامت ہے۔ کالج کے خوبصورت فن تعمیر اور بیشترباشندوں کی یہی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے اس عمارت سے جذباتی تعلق بن جانا ایک فطری بات ہے۔ دوسرا یہ کہ سوات میں گزشتہ کئی سالوں سے اہل سوات کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، ان کے ذہنوں میں جہانزیب کالج کی مسماری اذیت سے کم نہیں ہے۔ عوام کا کالج کی بحالی کا مطالبہ غیر قانونی اور غیر آئینی بھی نہیں ہے اور جب پرانی عمارات کی بحالی کی مثالیں موجود ہیں اور اس شعبہ کے ماہرین بھی موجود ہیں، تو پھر عوام کے ٹیکسوں کو ان کی خواہش پر ان کی مادر علمی کی بحالی پر خرچ کرنے میں حرج کیا ہے؟ اگر سوات کے باشندوں کی خوشی اور تسکین اسی میں ہے کہ ان کا تاریخی ورثہ محفوظ رہے، تو حکومت کو لیت ولعل سے کام لینے کے بجائے ان کی ذہنی اور روحانی خوشی کو مدنظر رکھ کر عمارت کی بحالی کا مطالبہ یہاں کے زخم خوردہ لوگوں کے زخموں پر مرہم تصور کرکے مان لیا جانا چاہئے۔ کالج کی عمارت کو بحال کرکے امن اور خوشحالی کے نشان کے طور پر اسے سوات کے باشندوں اور دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ حکومت کریڈٹ بھی لے اور خود کو ایک عوامی نمائندہ حکومت کے طور پر پیش کرکے سوات کے باشندوں کے خصوصی اور تاریخی و ثقافتی ورثہ سے محبت کرنے والوں کے دل بھی جیت لے۔ دنیا کی مہذب ریاستیں اپنی تاریخی اور ثقافتی ورثوں کو محفوظ رکھتی ہیں۔ اس سوچ پر کہ یہ ورثہ ہمیں باپ دادا سے اُنس میں ملا ہے اور ہم اسے اپنے آنے والی نسلوں کو میراث میں دیں گے۔ پروفیسر سلیمان گورنمنٹ کالج لاہور کاطالب علم رہ چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور (جو کہ اب جی سی یونی ورسٹی لاہورکے نام سے موسوم ہے) 1864 ء میں قائم ہوچکا تھا اور اب تک اسی شان سے قائم ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ کالج کی مرکزی عمارت ایک سو پچاس سالہ پرانی ہے۔ تاہم کالج انتظامیہ اور حکومت پنجاب نے اس کو از سرنو تعمیر کرنے کے بجائے اس کی بحالی اور تزئین و آرائش پر خطیر رقم خرچ کرکے نہ صرف اس کو مزید کئی سالوں کے لیے قابل استعمال بنایا بلکہ اس کی تاریخی حیثیت اور خوبصورتی میں بھی اضافہ کر دیا۔ مزید یہ کہ وائس چانسلر کا آفس مذکورہ عمارت کے اندر واقع ہے۔ آٹھ اکتوبر2005ء کے زلزلہ کے نقصانات کے بہانہ کی آڑ میں بہت سی تاریخی عمارات مسمار کی جاچکی ہیں۔ اگرچہ اس وقت بھی محکمۂ تعمیرات نے جہانزیب کالج اور مینگورہ ہاسٹل کی مسماری کی رپورٹ دی تھی، مگر جہانزیب کالج کی عمارت کی مسماری اس وقت کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوانے عوامی خواہش کو مدنظر رکھ کر روک دی تھی۔ مینگورہ ہاسٹل کے ساتھ ہونے والے زوردار دھماکا (جس کے ارتعاش کی شدت 2005ء کے زلزلے سے کئی گناہ زیادہ تھی اور جو یقیناًسیدو اور مینگورہ کے باشندوں کو یاد بھی ہوگا) میں بھی مینگورہ ہاسٹل نہیں گرا۔ پھر چھبیس اکتوبر 2015ء کے زلزلے میں جہانزیب کالج اور مینگورہ ہاسٹل کی عمارات گرنے سے بچ گئیں۔ دونوں عمارتوں کا دو زلزلوں اور بم دھماکا کے بعد قائم رہنا محکمۂ تعمیرات کی ان کی مسماری کی سفارشات پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ملک کو آزاد ہوئے زمانہ گزر گیا، مگر محکموں میں ’’آقاؤں‘‘ کی سوچ ابھی تک جوان اور توانا نظر آ رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ یہی حکومتی اہلکار تاریخی عمارات اور آثار کو عوام کی ملکیت جان کر ان کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں، مگر وہ ایسا نہیں کرتے۔ شاید وہ عوام کو اپنا نہیں سمجھتے۔ بے شک، یہ وہ کچھ کر رہے ہیں جو فاتحین، مفتوحہ قوموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ 2007ء میں ڈاکٹر قیصر علی شاہ Director Earthquack Engineering Centre UET Peshawar نے جہانزیب کالج کی بحالی پر رائے دیتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ جو عمارت کھڑی ہے یہ Retrofitable یعنی قابل بحالی ہے۔ بحالی سے پہلے عمارت کو پہنچا ہوا نقصان تین درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ سبز، زرد اور سرخ ۔سبز درجے میں وہ عمارات آتی ہیں جن کو Retrofiting کی ضرورت نہیں ہوتی اور انھیں ویسے ہی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ زرد درجے کی عمارات کو Retrofiting کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ سرخ درجے میں وہ عمارات آتی ہیں جن کو Substantial Retrofiting کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرخ درجے کی عمارات کوان کی بحالی پر آنے والے مالی اخراجات کے تناظر میں دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے جس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس عمارت کے ازسر نو تعمیرپر آنے والی پوری لاگت کا تخمینہ کی تیس فیصد اگر اس کی بحالی پر خرچ آتا ہو، تو ٹھیک ہے۔ تاہم یہ فارمولا ثقافتی علامتوں، یادگاروں اور ثقافتی ورثہ جیسے جہانزیب کالج، مینگورہ ہاسٹل اور اسلامیہ کالج پشاور پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس قسم کی عمارات کی Retrofiting لاگت کی پروا کئے بغیرکی جاتی ہے۔ ارباب اختیار اور عوامی نمائندوں کو معلوم ہوگا کہ جہانزیب کالج کی صرف بی ایس چار سالہ پروگرام کے لئے منظوری دی جاچکی ہے جب کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت قانونی سازی کررہی ہے جس کے تحت جہانزیب کالج پھر اپنی ڈگری جاری کرنے کا مجاز ہوگا۔ اسکے بعد اس میں ایم اے؍ ایم ایس سی کلاسیں ختم ہوجائیں گی اور پھر ایف اے، ایف ایس سی کلاسیں بھی بتدریج ختم ہوجائیں گی۔ اس کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھ کراس کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا ایک مشکل کام اور چیلنج بن جائے گا۔ ہزاروں طلبہ کو داخل کرنے اور تعلیم دلوانے کے لیے سیدو شریف اور مینگورہ کی حدود میں مزید چار کالجوں کی تعمیر کی ضرورت ہوگی۔ حکومت ابھی سے کم مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کے تحت مزید کالجوں کی تعمیر کے لیے سنجیدگی سے کام لیتے ہوئے فنڈ مختص کرے۔ مزید یہ کہ زرہ خیلہ، بریکوٹ اور چارباغ میں بھی کالجوں کی تعمیر کی اہمیت اور ضرورت جان کر ابھی سے منصوبہ بندی ہو، تب ہی حکومت کا تعلیمی ترقی کا خواب پورا ہوگا۔ *۔۔۔*۔۔۔*
872 total views, no views today


