ہم اپنے آ فس میں موجود تھے میرے ساتھ میرے دوست نیاز احمد اور کامران کامی بھی موجودتھے، گف شپ لگا رہے تھے ،تو اس دوران 2:38Pm کو زمین ہلنی لگی ہم اپنے جگہوں پر کھڑے ہوگئے اور کلمہ کا ورد کرتے ہوئے باہر کے طرف بھاگے ہمارا آفس تیسری منزل پر ہے جیسے ہی زلزلے کے جھٹکے تیز ہوئے تو اس طرح لگ رہتا تھا کہ قیامت آنے والی ہے (اللہ ہم سب کو معاف کریں )اور ہم آفس سے باہر روڈ کی طرف بھاگے اس طرح لگ رہا تھا کہ اب یہ بلڈنگ ہم پر گرنے والی ہے ، لیکن اللہ کے کرم سے ہم محفوظ روڈ تک پہنچ گئے اور وہاں کھڑے ہوگئے ہزاروں لو گ سڑک پر کھڑے تھے ، اور ایک عورت موٹر کار سے باہر نکلی اور اس نے رونا شروع کردیا کہ ہمارے بچے، ہمارے بچے ۔یہ ٓاواز سن کر مجھے اپنے گھر والے یاد آگئے اور میں نے موبائل فون نکالا گھر والوں کال کرنے کی کوشش کی تو موبائل سگنل ہی نہیں تھا اورجب لزلے کے جھٹکے ختم ہوئے تواس دوران ہم کو اطلاع ملی کہ شریف آبا د میں ایک مکان گرا ہے ، یہ خبر سنتے ہی میں اپنا گھر بھول گیا ،میں اور ہمارا کمیرہ مین کامران شریف آباد کی طرف بھاگے وہاں پہنچے تو اللہ کے کرم سے کوئی جانی نقصان نہیں ہواتھا ، کچھ لوگ زخمی تھے جسے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال منتقل کیئے تھے ، ہم وہاں پر تھے کہ بزرگ نے کہا کہ مین بازار میں بھی کافی مکان منہدم ہوگئے ہیں تو ہم فوراً مین بازار چلے گئے تو وہاں پر ہم نے دیکھا کہ ایک مکان کی دیوار تیرہ سالہ بچی پر گری تھی جس سے وہ بچی موقع پر جاں بحق ہوئی تھی، وہ بچی سکول کی یونیفارم میں تھی اور گھر والے کہہ رہے تھے کہ ابھی ہی سکو ل سے گھر پہنچی تھی اللہ ان بچی کو اپنے جنت میں جگہ دیں اور ان کے ماں باپ کو صبر عطا فرمائیں ،مین بازار سے ہم سنٹرل ہسپتال کیلئے روانہ ہوگئے وہاں ہم نے دیکھا کہ سارے زخمی بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر لیٹے تھے ہر کوئی اپنے غم میں مبتلا تھا ، پھول جیسے ننھے ننھے بچے زخمی حالت میں زمین پر پڑے تھے ، کیا سوات کے ہیڈ کواٹر سیدوشریف ہسپتال کی حالت یہ ہونی چاہیے ۔؟جس میں ایمرجنسی کے وقت مریضو ں کیلئے کوئی سہولت نہ ہو۔اللہ معاف کریں ،تبدیلی کے دعویدار تو ہر جگہ کہتے ہیں کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں صحت کے نظام کو ٹھیک کیا ہے کہ یہ ہے تبدیلی ۔۔۔؟؟ مریض زیادہ ہونے کے وجہ سے پاک فوج نے کیجولٹی کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعاون سے نیا تعمیرہونے والا ہسپتال کھول دیا ۔ جس سے مریضوں کو سکھ کا سانس ملا ،دوسرے ہی دن ARY NEWSکے سینئر اینکر پرسن اقرار الحسن بھی سوات پہنچ گئے ،تو ہم نے اپنے رپورٹنگ کا آغاز مینگورہ کے علاقے مین بازار سے شروع کیا جہاں پانچ گھر منہدم ہوچکے تھے ، ہم نے وہا ں دیکھا کہ وہاں لوگ اپنی مدد آپ کی تحت اپنے گھروں میں کام کررہے تھے کوئی حکومتی ادارہ وہاں موجود نہیں تھا اور تین ننھے بچے اپنے ویران گھرمیں بیٹھے تھے اور رو رہے تھے میں نے بچے سے پوچھا کہ جب زلزلہ تھا آپ اس و قت کہا تھی تو کہا کہ جب زلزلہ شروع ہو ا تو ہم اپنے گھر سے باہر کے طرف بھاگے اور ہم نے اپنا گھر اپنے آنکھو ں کے سامنے گرتے ہوئے دیکھا ، اور رو پڑی ۔ حکومت نے تو لوگوں کو 2لاکھ روپے کے چیک دیئے۔ کیا ان دو لاکھ میں ان غریب لوگوں کے گھر بن جائیں گے۔۔؟ حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ کم از کم جن کے گھر سارے منہدم ہوئے ہیں ان میں کم از کم 10لاکھ روپے دینے چاہیے تھے اور ان میں اب ایسے لوگ بھی موجود ہیں جس کو دو لاکھ روپے ابھی تک نہیں ملے نہ کوئی ٹینٹ اور نہ کوئی اور قسم کی مدد ۔۔ہم زلزلہ کے دوسرے روز پر مین بازار چلے گئے جہاں کافی مکانات منہدم ہوئے تھے ، لوگوں سے پو چھا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی مدد کے لئے آیا ہے تو لوگوں نے کہا کسی نے پوچھا ہی تک ہی نہیں کہ یہاں پر لوگ رہتے ہیں کہ نہیں ، قارئین کرام اس وقت میں سوات کے ہیڈ کواٹر مینگورہ کا بات کررہا ہوں کہ اس سے آگے علاقوں کا کیا حال ہوگا ۔۔؟آگے کی کہانی میں اگلے قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
754 total views, no views today


