قدرتی آفت کسی بھی قدرتی خطرے جیسے سیلاب اور زلزلہ وغیرہ سے منسلک اثرات کا نام ہے۔ قدرتی آفت ماحول پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ مالی اور جانی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی شدت اس ماحول سے منسلک آبادی کی آفت کے برپا ہونے یا اس سے نبرد آزما ہونے کی خاصیت پر منحصر ہوتی ہے۔
اسکول کے زمانے سے ہم مختلف کتابوں میں جنگلات کے فوائد، قدرتی آفات، ان کے اسباب اور سدباب کے بارے میں پڑھتے چلے آرہے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے نہیں دیا جا رہا یا پھر سوات میں بار بار سیلاب اور زلزلوں کے باوجود بھی ہمیں عمل کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ 2010ء کے سیلاب میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان وہاں ہوا تھا جہاں جنگلات یا تو سرے سے تھے ہی نہیں یا پھر جہاں بے دریغ کٹائی ہوئی تھی۔ جنگلات ہی وہ واحد ڈھال ہیں جو ہمیں قدرتی آفات سے کافی حد تک محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ درخت جوکہ اپنی جڑوں کی مدد سے اپنے اردگرد کی مٹی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور یوں یہ سائل ایروجن اور لینڈ سلائڈنگ کا سدباب بن جاتے ہیں۔ اس طرح درخت اوپر سے گرے ہوئے تمام پتھر وں کو روکنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ پہاڑ ی علاقوں میں لوگ اس جگہ گھر تعمیر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں گھنے جنگل ہوں اور کسی لینڈ سلائڈنگ کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ سوات کے بالائی علاقوں میں اکثر حادثات کسی برفانی تودے کے گرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں یا پھر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے۔ ہمارے بزرگ اکثر ہمیں اپنے زمانے کی کہانیاں سناتے چلے آ رہے ہیں کہ علاقے میں ہر جگہ گھنے جنگلات ہوا کرتے تھے جن کی وجہ سے لوگ سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ سے محفوظ رہتے تھے۔ حالیہ زلزلے کے نقصانات سے یہ ثابت ہوا کہ علاقے میں سب سے زیادہ نقصان ان مقامات پہ ہوا جہاں یا تو جنگلات ہیں ہی نہیں اور یا پھر ان کی بے دریغ کٹائی ہوئی ہے۔ ان بدقسمت علاقوں میں ایک میرا علاقہ کیدام بھی شامل ہے جہاں حالیہ زلزلے میں جنگلات نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ سلائڈنگ ہوئی ہے اور اب بھی وقفے وقفے سے ہو رہی ہے۔ کیدام اور چم گھڑی کے علاقے سوات کوہستان میں قیمتی لکڑی کی اسمگلنگ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ حکومتی اداروں جن میں پولیس اور فارسٹ ڈیپارٹمنٹ شامل ہے، کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی علاقے میں قیمتی درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ اکثر مواقع پر پولیس اور فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کو بھی اسی میں ملوث پایا گیا ہے۔ ایک درخت کو کاٹنے کی سزا کا اگر ہمیں پتہ ہوتا، تو کبھی یہ گناہ نہ کرتے لیکن جب جرم کو روکنے والے خود ہی جرم کرنے میں مجرم کا ساتھ دیں، تو ایسی قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
ایک درخت کی کمی کو ہم سو سال میں بھی پورا نہیں کر سکتے۔ کئی سالوں سے لوگ لاکھوں کی تعداد میں پودے لگا رہے ہیں لیکن ہم نے آج تک اپنے علاقے میں کوئی مصنوعی جنگل نہیں دیکھا۔ اسی طرح علاقے میں کئی سالوں سے غیر سرکاری تنظیمیں ’’ڈی آر آر‘‘ اور ’’رسک مینجمنٹ‘‘ کے علاوہ دوسرے بھی احتیاطی تدابیر کے اوپر کام کر رہے ہیں لیکن وہ تمام چیزیں حالیہ آفات کے آگے ناکافی اور ناکام ثابت ہوئیں۔ ان تمام سرگرمیوں پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اگر غیر سرکاری تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے لوگ ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر جنگلات کے تحفظ پہ کام کریں، تو اس میں قوم کی بھلائی ہے۔
کسی بھی ملک کی آبادی کا پچیس فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ پاکستان میں یہ رقبہ 4.224 ملین ہیکٹر پر مشتمل ہے جو کل رقبہ کا 4.8 فیصد ہے جو کہ اگلے کچھ ہی سالوں میں مزید کم ہوجائیگا۔ ویسے بھی ہمارے ادارے اتنے نکمے ہوچکے ہیں کہ اسٹیٹ کے سارے کام فوج کر رہی ہے، تو جنگلات کو بھی انہی کے حوالے کر دیا جانا چاہئے۔ اگر علاقے میں فوج نہ ہوتی، تو آج تک ہمارے ادارے سیلاب کے بعد سے کالام روڈ تک کو بحال نہ کرچکے ہوتے۔ اس طرح خیبر پختونخواہ حکومت نے جنگلات کے تحفظ کے لئے جو وعدے کئے تھے، وہ دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور سوات کوہستان کے جنگلات میں پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ اگر یہ کٹائی اسی طرح جاری رہی، تو کچھ ہی سالوں میں ہمیں سائے تک کیلئے درخت نہیں ملیں گے اور یوں قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
اپنے علاقے میں قیمتی درختوں کو کاٹنا اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ حالیہ زلزلے کے بعد ایک سول سوسائٹی تنظیم کی سروے رپورٹ کے مطابق سوات کوہستان میں سب سے زیادہ نقصان ان مقامات پر ہوا ہے جہاں جنگلات کی کمی تھی اور درختوں کو کاٹا گیا تھا۔ ان علاقوں میں بحرین کا علاقہ کیدام، چم گھڑی اور اتروڑ شامل ہیں۔
1,927 total views, no views today


