پیرس جو خوش بوؤں کا شہر ہے، حسن و دل کشی اور رومان کا شہر ہے۔ اس کے مشہور دریا، دریائے سین کے کنارے پھیلی خوب صورتیاں، پیرس کے دل فریب اور پرشکوہ مناظر دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کو مسحور کردیتے ہیں۔ مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے لوگوں کا یہ شہرِ دل پزیر اپنے دانش وروں، مؤرخوں، مصوروں، آرٹ گیلریوں، ریستورانوں، کافی شاپس اور نفیس بازاروں کے لیے مشہور ہے۔ موجودہ سال پیرس جیسے شہرِ امن و آشتی کے لیے نحوست کے سائے بھی اپنے ساتھ لے کر طلوع ہوا تھا۔ اس سال کے آغاز میں سات جنوری کو پیرس کے شمالی علاقے میں دو مختلف مقامات پر حملے ہوئے۔ بڑا حملہ فرانس کے طنزیہ رسالے ’’چارلی ایبڈو‘‘ کے دفتر پر کیا گیا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ کوشر مارکیٹ میں ہونے والے حملے میں چار افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت نے دس ہزار فوجیوں کو عوامی مقامات، حساس عمارتوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ پر لگا دیا تھا۔ تب سے محبتوں کے اس شہر کو خوف اور دہشت نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ شہر میں خوف اور دہشت کے سائے اس وقت مزید گہرے ہوتے چلے گئے جب گزشتہ جمعہ کی شب بٹاکلان تھیٹر، فٹ بال اسٹیڈیم اور متعدد ریستورانوں سمیت چھ مقامات پر دہشت گردوں کی تین ٹیموں نے حملہ کیا۔ تادم تحریر اس ہول ناک واقعہ میں 129 افراد ہلاک اور 352 سے زیادہ زخمی ہوئے جب کہ 99 افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ کارروائی میں آٹھ حملہ آور بھی ہلاک کئے گئے ہیں۔ اس حملہ کی ذمہ داری خود کو ’’دولت اسلامیہ‘‘ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کرلی ہے۔ فرانسیسی صدر فرانکواں اولیندے نے کہا ہے کہ یہ ایک جنگی اقدام ہے اور اس کا جواب بے رحمانہ ہوگا۔ یورپی یونین نے بھی پیرس پر ہونے والے حملے کو پورے یورپ پر حملہ قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تنظیم کے تمام ممالک فرانس کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔
اس وقت اگر عالمی منظر نامہ خصوصاً اسلامی ممالک شام، مصر، لیبیا، عراق، سعودی عرب، یمن، فلسطین، پاکستان اور افغانستان پر نگاہ ڈالی جائے، تو ہر طرف لاقانونیت اور خوں ریزی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آئے گا۔ نائن الیون کے بعد امریکا کے افغانستان اور عراق پر حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ دہشت و وحشت کی اس بھڑکتی ہوئی آگ میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا اور اس آگ کے آلاؤ نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جب دسمبر 2010ء میں تیونس میں عوامی احتجاج کے تحت حکومت کی تبدیلی عمل آئی، تو اسے عرب بہار (Arab Spring) کا نام دیا گیا جس نے بعد ازاں مصر، لیبیا، شام، یمن، بحرین، سعودی عرب اور اردن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تبدیلی کی اس لہر نے مصر میں حسنی مبارک کی طویل ترین حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ لیبیا میں کرنل قذافی کے اقتدار کا خاتمہ کردیا اور شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف ایک ایسا عوامی احتجاج شروع ہوا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ امریکا اور یورپی ممالک نے اپنے مفادات کے تحت ان ملکوں میں مخالفین کی کھلی اور چھپی مدد شروع کی جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں تشدد اوربدامنی کی لہر پھیلتی چلی گئی۔ روس نے جب دیکھا کہ یورپ اور امریکا اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے حکومت مخالف جنگ جو گروپوں کی براہِ راست مدد کر رہا ہے، تو اس نے شام کے صدر بشارالاسد کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے خوں ریزی میں پیہم اضافہ ہوتا گیا۔ ایسے میں ’’دولتِ اسلامیہ‘‘ کا ظہور ہوا جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے گئے۔ داعش یا دولتِ اسلامیہ کے تخلیق میں امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ امریکا نے مبینہ طور پر انھیں ہر طرح کے وسائل فراہم کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب روس نے دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا، تو امریکا نے اس پر اعتراضات شروع کئے۔
اس وقت دولت اسلامیہ شام، عراق اور دیگر پڑوسی ممالک میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کے اثرات افغانستان اور پاکستان تک پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ دولت اسلامیہ سے وابستہ شدت پسندوں کے پاس مہلک اسلحہ ہے، مواصلات کے جدید آلات ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پاس تربیت یافتہ پائلٹ ہیں۔ پیرس کے دہشت گردی کے حالیہ واقعات بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر یہ حملے واقعی دولت اسلامیہ نے کئے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض ایک دہشت گرد گروپ نہیں ہے بلکہ ایک منظم عسکری قوت ہے جس کے پاس خفیہ معلومات سمیت بہت سی عسکری صلاحتیں موجود ہیں۔ یورپ جیسے پُرامن اور محفوظ ملک میں اس طرح کے حملے وسیع لاجسٹک سپورٹ، غیرمعمولی تربیت، لامحدود وسائل اور انٹیلی جنس سروس کے بغیر ممکن نہیں۔ ان حملوں نے پورے یورپ میں خوف و ہراس کی ایک فضا قائم کردی ہے اور ان کی وجہ سے یورپ بھر میں مسلمانوں کے لیے نہایت منفی اثرات ظاہر ہوں گے۔ شدت پسندوں کو علم ہے کہ ان حملوں سے مسلمانوں اور مغربی ممالک کے درمیان فاصلے پیدا کئے جاسکتے ہیں، ان کے مابین کشیدگی کو ہوا دی جاسکتی ہے اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکائے جاسکتے ہیں جس سے انھیں بڑے پیمانے پر افرادی قوت میسر آسکتی ہے۔ فرانس میں اس وقت 50 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں جو یورپ میں مختلف مذہبی اقلیتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اسی سال جب جنوری میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے تھے، تو ان کے ردِ عمل میں کئی مسجدوں پر حملے کئے گئے تھے۔ حالاں کہ ان حملوں میں اتنی تباہی نہیں پھیلی تھی۔ اس وقت پیرس میں دہشت گردی کے جو حملے ہوئے ہیں، ان میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے اور اس کا ردِ عمل بھی ممکنہ طور پر نہایت شدید ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پیرس میں ساٹھ سال بعد پہلی دفعہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
جب نائن الیون کے واقعات ہو ئے، تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اس میں خود امریکا اور یہودی لابی ملوث ہے۔ بعد کے واقعات نے یہ ثابت بھی کردیا۔ کیوں کہ ان واقعات کا سب سے زیادہ فائدہ امریکا کو ہوا اور اس میں نقصان اسلامی ممالک کو اٹھانا پڑا اوراسلامی ممالک یہ نقصان اب بھی مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ پیرس حملوں کے پس پردہ جو منظم سوچ کارفرما نظر آتی ہے، اس کے تحت یورپ میں اب ایسے قوانین تشکیل دئیے جائیں گے جس کی وجہ سے یہاں مقیم مسلمانوں کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ شام، لیبیا اور دہشت گردی سے متاثرہ دیگر ممالک کے جو متاثرین یورپ میں پناہ لینے کے لیے آرہے ہیں، ان کے خلاف بھی رائے عامہ ہم وار ہوگی اور ان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ حالاں کہ یہی لوگ ان دہشت گرد قوتوں کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔
پیرس کی حالیہ دہشت گردی افسوس ناک ہے۔ اس میں بے گناہ انسان اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں جو قوتیں بھی ملوث ہیں، وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ دولت اسلامیہ کے یہ انسانیت کش واقعات اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کو ان قوتوں کو بے نقاب کرنا چاہئے جو دولتِ اسلامیہ کو اسلحہ، تربیت اور وسائل فراہم کر رہی ہیں۔ ان حملوں میں یورپ کے لیے بھی ایک پیغام موجود ہے۔ وہ اگر اپنی غیرمعمولی فوجی طاقت کے بل بوتے پر دوسرے ممالک میں مداخلت کریں گے اور اپنے مفادات کے لیے وہاں جنگ کی بھٹی میں ایندھن ڈالتے رہیں گے، تو وہ خود بھی اس کی جاں لیوا آگ کی تپش سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
676 total views, no views today


